قلم:۔۔۔۔۔۔۔۔۔غفران احمد ندوی
صدر مدرس مدرسہ عربیہ تعلیم القرآن سمریاواں سنت کبیر نگر
زنا برائی اور بے حیائی کا سرچشمہ اور منبع ہے ، زنا انسان کو ھلاکت وبربادی کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے ،زنا کرتے وقت انسان مومن کامل نہیں رہتا، زنا اور ایمان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، زنا ایک قبیح اور ناپسندیدہ عمل ہے جس سے معاشرتی نظام تباہ ہوجاتا ہے ،زنا فتنہ وفساد کی جڑ ہے ، زنا رب کی ناراضگی کا سبب ہے، عذاب الہی کے نزول کا ذریعہ ہے، زنا سے دعاؤں کی قبولیت رک جاتی ہے، زنا متعدی گناہ ہے، ایک گناہ سے انسان دوسرے گناہ میں مبتلا ہوتا چلا جاتا ہے، پورا معاشرہ زانی سے نفرت کرتا ہے، لوگ زنا کا ارتکاب کرنے والے منحوس انسان سے اپنا رشتہ کاٹ لیتے ہیں اور آئندہ کوئی رشتہ جوڑنے سے بچتے ہیں، زنا کا گناہ شرک جیسے بڑے گناہوں کے قریب ہے، بغیر کفارہ اور سچی توبہ کے زنا کا گناہ زائل نہیں ہو سکتا، قیامت کے دن زنا کی وجہ سے انسان کی نیکیاں گھٹ جائیں گی، زنا بہت سی مہلک بیماریوں میں مبتلا کر دیتا ہے، زنا سے انسانی نسب خلط ملط ہوجاتا ہے، زنا کے وبال سے زانی کسی بھی صورت میں نہیں بچ سکتا، زنا کی کچھ لمحوں کی لذت کبھی کبھی پورے گھر اور خاندان کو ویران و برباد کر دیتی ہے، زنا کی وجہ سے انسان روز محشر عرش الہی کے نجات بخش اور سکون بخش سایہ سے محروم ہو جائے گا، اللہ نے قرآن میں ایک جگہ تفصیل سے اپنے نیک بندوں کا ذکر کیا ہے، وہاں صاف طور پر اس بات کا اعلان کیا ہے کہ میرے نیک بندے زنا نہیں کرتے اور جو زنا کرے گا سزا اور گناہ اس کو مل کر رہے گا، ایمان معمولی دولت نہیں ہے، ایک مسلمان کے لئے سب سے قیمتی سرمایہ ایمان ہی ہے لیکن زنا کے سنگین جرم کی وجہ سے ایمان اسی طرح نکال لیا جاتا ہے جیسے انسان اپنے جسم اور سر سے اپنی قمیص نکالتا اور اتارتا ہے، مَنْ زنی او شرب الخمر نزع اللہ منہ الایمان کما یخلع الانسان القمیص من راسہ۔
موجودہ وقت میں ہمارے معاشرہ کے اندر فیشن کے نام پر خواتین نے اپنی عزت وآبرو کو داؤ ہر لگا دیا ہے ،بے حیائی وبے غیرتی کا ننگا ناچ ہر جگہ انسانیت کو شرمندہ اور پامال کر رہا ہے، گھر، بازار، گلی، محلہ، شہر دیہات، چھپر، محل کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے جہاں فیشن اور بے حیائی نے تباہی نہ مچا رکھی ہو، موبائل اور انٹرنیٹ کے سیلاب نے ہر باندھ توڑ کر رکھ دیا ہے، دبیز پردے، موٹی دیواریں، آہنی حصار، اونچی چہار دیواریاں،ایمان دار سنتری، جفاکش پہرے دار، استاذ کی نگرانی، ماں باپ کی پابندیاں سب بے کار، موبائل نے ساری رکاوٹیں دور کردی ہیں، ساری حدیں پار کرلی ہیں، اس چھوٹے سے جادوئی تباہ کن آلہ نے سب کو ادب، وقار، تہذیب اور شریعت سے آزاد کر دیا، سب بے لگام ہو گئے، اب سلیم فطرت، ایمان و عقیدہ کی مضبوطی، مخلصانہ تربیت اور سازگار و ایمان دار ماحول ہی انسانیت کو بچا سکتا ہے، انسانیت کو زنا کاری اور بے حیائی کی کھلی دعوت جس انداز اور جس برق رفتاری کے ساتھ موبائل و انٹر نیٹ نے دیا ہے اور جس محبت کے ساتھ اس کی دعوت کو ہر طبقہ نے یکساں قبول کیا ہے وہ حیرت انگیز بھی اور قابل افسوس بھی، یہ بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ آج ہماری اولاد ہر چیز سے دست بردار ہو سکتی ہے لیکن موبائل کسی حالت میں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہے، سینما گھر جس بے حیائی اور فیشن کے نام پر برہنگی کو پھیلانے میں سال بھر محنت صرف کرتے تھے، وہ چیز موبائل سے محض ایک دن بلکہ دن کے کچھ حصے میں ہی آسانی کے ساتھ ممکن ہے۔
زنا اور بے حیائی اسلام کی نگاہ میں نہایت ناپسندیدہ اور قبیح عمل ہے ،زانی اور زانیہ پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور ساتوں زمین و آسمان کی لعنت ہوتی ہے ،احادیث مبارکہ میں ان کیلئے سخت وعید آئی ہے ان کی دعائیں آدھی رات کو بھی قبول نہیں ہوتیں ،اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسی لوگوں سے گفتگو نہیں کرے گا اور دردناک عذاب میں مبتلاکرے گا نیز بدکار اور زناکار کی شرمگاہوں کی بدبو سے جہنمی لوگ بھی اذیت میں ہوں گے، اسی لئے اللہ تعالی نے قرآن کریم کے ذریعہ بتا دیا اے لوگو زنا کے قریب بھی نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی اور بری راہ ہے ،اپنے قلوب کو پاک رکھنا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنا لازمی اور ضروری ہے ، زنا کرنے کا دنیاوی نقصان یہ ہے کہ چہرہ کی رونق ختم ہو جاتی ہے ،صحت اور جسمانی طاقت متاثر ہوتی ہے ،طرح طرح کی پریشانیوں الجھنوں اور تکالیف سے دوچار ہوتا ہے ،ہر جگہ رسوائی اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،عبادت وریاضت میں دل نہیں لگتا ،رزق تنگ کردیا جاتا ہے ،غربت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، عمر سے برکت اٹھا لی جاتی ہے، اور سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ کی ناراضگی ،حساب وکتاب میں سختی اور جہنم کی دائمی رسوائی کا سامنا ہوگا اور دنیا ہی میں اسلام نے ایسی سخت سزا متعین کی ہے جس کو سن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں، اگر ثبوت مل جائے جبکہ اسلامی حکومت ہو تو غیر شادی شدہ کو سو کوڑے اور شادی شدہ کو سنگسار کیا جائے، جبکہ دوسری طرف زنا سے بچنے والوں کو جنت کی بشارت دی گئی ہے، ارشاد ہے :جس نے دو چیزوں کی حفاظت کی ذمہ داری لی میں اس کیلئے جنت کی ضمانت لیتا ہوں (1) زبان (2)شرم گاہ، کل قیامت کے دن ایسا شخص عرش کے سایہ میں ہوگا جو کسی خوبصورت دوشیزاء کے بہکاوے میں نہ آئے، خوف خدا ،تقوی وطہارت سے اس کا دل آباد ہو جائے اور برائیوں سے پاک وصاف ہو جائے۔
دعا کریں اللہ تعالیٰ ہم کو اس قبیح عمل سے بچائے اور اگر کسی سے خدانخواستہ یہ گناہ سرزد ہو جائے تو اللہ کے حضور روئے گڑگڑائے ،گناہ سے معافی مانگے، آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے، اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
