مصنفہ: ترپتی چاورے تجارے
مراٹھی سے ترجمہ :  محمدیوسف رحیم بیدری 
یہ نیا مضمون لکھتے ہوئے میں نے اس تجسس کو ذہن میں رکھا ہے کہ ہم بھی اپنی زبان کو ایک ابلاغ کے طور پر دیکھیں، اس کی نئی شکل تلاش کریں،اور اس شکل میں آنے والے دلچسپ موڑ دیکھیں اور انھیں بنائیں۔ایک سال سے ‘سکال’ کا ایک کالم لکھنے کے موقع نے، جو فن، فنکار اور فن کی فکر کی خوبصورت تصوراتی باہم جڑی ہوئی تھی، مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔مضامین کے اس سلسلے کو نہ صرف پذیرائی ملی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ فنکاروں کے انٹرویوز کے ذریعے بیان کیے گئے متعدد موضوعات اور زبان نے ایک پختہ، اور بھرپور مواد دیا جس نے مجھے  زندگی کی اقدار کا درس دیا۔مواد کی اس ونڈو کے ذریعے میں اب ایک نئے موضوع کے افق کو نشان زد کر رہی ہوںیعنی زبان کی تشکیل اور زبان کی افزودگی کے درمیان ‘لسانی تعامل’۔ میری خواہش ہے کہ زبان کا یہ نیا مکالمہ قارئین کی گواہی اور سرسوتی دیوی کی مہربانی سے بتدریج رنگین ہو۔
ہر زبان ایک فن ہے جس طرح ہر فن ایک زبان ہے۔ یہ نیا مضمون لکھتے ہوئے میں نے اس تجسس کو ذہن میں رکھا ہے کہ جس طرح ایک فنکار آرٹ کو ایک ‘کمیونیکیشن’ کے طور پر دیکھتا ہے، ہمیں بھی اپنی زبان کو ایک ابلاغ کے طور پر دیکھنا چاہیے، اس کی شکل تلاش کرنا چاہیے، اس کے دلچسپ موڑمیں ہمیں بھی اپنارول اداکرنا چاہیے۔اہل علم کا خیال ہے کہ بولی جانے والی زبان تب ہوتی ہے جب اس کی آواز آتی ہے۔ اپنی زبان کو جاننے، استعمال کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے آوازوں کا مطالعہ ضروری ہے۔
اس مضمون کا مقصد زبان کے ابلاغ کے مختلف پہلوؤں جیسے آواز، حرف، لفظ، جملہ، خیال، تلفظ اور معنی کا مطالعہ کرنا بھی ہے۔ اس تجسس کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں قارئین کے سامنے مختلف ابلاغی پہلوؤں کے بنیادی منتر پیش کروں گی جو زبان کی بولی، ساخت اور ترتیب کو تشکیل دیتے ہیں۔انسانوں کے پاس ایک ناقابل بیان تحفہ ‘جذبہ’ ہے۔ ہر کسی کے ذہن میں یہ ہوتا ہے لیکن ہر کوئی اس کا درست اظہار نہیں کر سکتا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ ایسا شخص احساسات اور آوازوں کے درمیان تعلق کو محسوس نہیں کرتا۔جس طرح جذبات کے اظہار کے لیے زبان کی تشکیل ہوتی ہے، اسی طرح آواز کی بھی۔ آواز اور گویائی کی صلاحیتوں پر کام کرنے سے زبان کھل جاتی ہے۔ تقریر، گفتگو، سننا، لکھنا اور پڑھنا زبان کے اظہار کے مختلف ذرائع ہیں لیکن اصل اہمیت آواز اور زبان کے ذریعے احساس کا اظہار کرنا ہے۔
وہ جو اپنی آواز اور زبان بناتا ہے، اپنا دماغ بناتا ہے، اپنا احساس بناتا ہے۔ اس کی شخصیت پاکیزہ، اور خوبصورت ہو جاتی ہے۔ ہر ایک کے ذہن میں بہت کچھ ہے لیکن زندگی میں ‘اظہار’ کے لیے ذہن کا یہ’بہت کچھ’ سامنے آناضروری ہے۔ ‘زبان’ کا مطلب بولنا ہے، زبان ایک تجرباتی سرگرمی ہے، جس میں آواز بنیادی جزو ہے۔
آج کل ماہرینِ لسانیات کا کہنا ہے کہ ‘زبان’ صرف رسم الخط نہیں ہے بلکہ شخصیت کی نشوونما کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ہے، جیسا کہ لفظ شخصیت کا مطلب ہی ‘اظہار’ ہے۔جسمانی ہیئت، رہن سہن اور صاف ستھری ہیئت زبان کے عوامل سے بھی متاثر ہوتے ہیں، اس لیے زبان کے رابطے کا مطالعہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ جسمانی شکل کی ‘ترقی’ کے لیے Gym جاناہے۔زبان وہ واحد ہتھیار ہے جو زبانی اور غیر زبانی دونوں طرح سے انسانی ذہن کو تیز کرتا ہے۔ زبان کی وجہ سے ہی ‘ناقابل بیان اظہارکیا جا سکتا ہے ’زبان‘ کا اثر غیر مرئی طورپرجانے یا انجانے میں شخصیت کے اس حصہ پر ہوتا ہے جسے ‘دماغ’ کہا جاتا ہے ۔
  زبان کو بنانے کی کوشش کی جائے تاکہ اس کا استعمال بہت اچھے طریقے سے  اپنے آپ پر ہو سکے۔، اپنے لیے جو شخص شخصیت بننا چاہتا ہے اسے پہلے اپنی زبان کی تشکیل کرنا ہوگی۔ اس تحریر کے پیچھے میرا ایماندارانہ احساس ہے کہ ‘میں بھی اپنی زبان کو ایسی اور ایسی بنانا چاہتی ہوں’۔ہمیں زبان کے سفر کا ساتھ دینا ہے، کیونکہ جس طرح ایک محفل سامعین کے بغیر بے معنی ہے، اسی طرح ایک ادیب قارئین کے بغیر نامکمل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے