محمد یوسف رحیم بیدری،
بیدر، کرناٹک
زندگی ساتھ تیرے گرہم ہیں
موت کاسامنابھی ممکن ہے (میرؔبیدری )
موت کا سامنا ہوا اور شفیق احمد کلیم 15؍جنوری 2024 کواپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔ بیدر ایک چھوٹا ساتاریخی شہر ہے۔ مسلمانوں کے آباء واجداد یعنی میرے اور شفیق احمد کلیم کے آباء واجداد نے اس شہرمیں اپنی حکمرانی کے یادگارنقوش چھوڑے ہیں اور اسی چھوٹے سے شہر میں رہتے ہوئے ہم دونوں کی ملاقات ہوئے عرصہ گزرا۔ مجھے یادنہیں پڑتاکہ ہماری آخری ملاقات کب ہوئی۔ عموماً لکھنے پڑھنے والے لوگ پہلی ملاقاتیں یاد رکھتے ہیں۔میری کمزوری ہے کہ میں پہلی ملاقات بھول جاتاہوں ۔اوراب شفیق احمدکلیم سے ہوئی آخری ملاقات یاد کررہا ہوں تو وہ یاد نہیں آرہی ہے ؎
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں (فراق گورکھپوری)
لوگ روزانہ پید اہوتے ہیں اور ہفتہ پندرہ دن میں کسی نہ کسی بزرگ مرد یا خاتون اور نوجوان کے انتقال کی خبر آہی جاتی ہے۔دنیا سے جانے والے ہر شخص کے لئے مضامین اورمرثیے نہیں لکھے جاتے ۔ مانا کہ جانے والے اپنے وارثین اور لواحقین کے لئے سب کچھ ہوتے ہیں تاہم یہ فطری سوال اٹھتاہے کہ سماج کی تعمیر وترقی کے لئے انھوں نے اپنا کتناحصہ اداکیا؟ ملک وملت کوصحیح رخ پر لے جانے میں اپناوقت اور کتنی توانائی صرف کی ؟اور اگردینی نقطۂ نظر سے بات کی جائے تو بحیثیت مسلمان انھوں نے دین کی تبلیغ واشاعت کے لئے اور دین کی اقامت کے لئے کیا کچھ کیا؟ اسی حوالے سے جب میں شفیق احمدکلیم کو دیکھتاہوں تو محسوس ہوتاہے کہ وہ ایک دل ِ دردمند رکھتے تھے۔ صوفی ٹائپ نوجوان تھے۔ چہرے پرداڑھی ہمیشہ ہی دیکھی گئی۔ نماز کاوقت ہوا فوراً نمازاداکرنے چلے گئے۔ شعراء کی خدمت کرنا ہے فوری اٹھ کھڑے ہوئے۔ والد محترم اور بزرگ شاعر جناب نثاراحمدکلیم مرحوم نے کوئی حکم دِیااس حکم کو بجالانے فوری تیزی دکھائی۔ گھرپر دعوت رکھ دی ۔ دوست یار سے کبھی فاصلہ نہیں رکھا۔ دستر خوان بچھایا تو سبھی کو بلالیا۔ کہا جاتا ہے کہ سفر کرنے والوں کے گھر اور مال ومنال میں برکت ہوتی ہے۔ سفروسیلۂ ظفر اسی لئے تو کہاجاتا ہے۔ والد ہی کی طرح سفر میں رہاکرتے تھے۔ مانوجیسے سفرکرنا ان کا خاندانی پیشہ ہو۔جب آتش جوان تھاتو سیاست میں بھی معاون بن کرکام کرتے رہے۔نثاراحمد کلیم صاحب کے جنتاپارٹی میں سرگرم ہونے ، اہلیہ کے کونسلر بننے سے لے کر مرحوم سید ذوالفقار ہاشمی کے رکن اسمبلی منتخب ہونے اور جنا ب رحیم خان کے پہلی دفعہ رکن اسمبلی بننے اور بعد کے ادوار میں بھی ان کی حیثیت ایک معاون ہی کی رہی۔ وہ قیادت کے جھمیلوں میں نہیں پڑتے تھے۔ سبھی کی معاونت کرنااپنی زندگی کااصول بنارکھا تھا۔
سیاست کو بڑی حدتک جانتے اور ایک عام آدمی کی طرح سیاست کوبرتتے تھے اس لئے صحافت سے بھی قریب تھے۔ خصوصاً اردو صحافت سے ان کی قربت ظاہر وباہر تھی۔ 14-15سال قبل انھوں نے سائبر کیفے کا کاروبار مسجد الٰہی کے سامنے واقع حلوائی کامپلکس میں شروع کررکھا تھا۔ اس وقت خبریں زیادہ تر فیکس سے بھیجی جاتی تھیں اورکبھی کبھی ای میل بھی کی جاتی تھیں۔ بیدر کے اردو صحافیوں سے ان کارویہ کس قسم کاتھامیںزیادہ نہیں جانتا لیکن میں نے جب کبھی ان کے سائبر کیفے پر حاضری دی وہ سب سے پہلے سسٹم میرے حوالے کردیتے تھے۔اگر گاہک زیادہ ہوں تو اپنے والے سسٹم کو پیش کرنا ان کے اخلاق اورشفقت کو ظاہر کرتاتھا۔ اسی طرح فیکس کی مفت سہولت بھی ان کے ہاں خاکسار کو ملاکرتی تھی۔
گذشتہ 12-15سال سے انجمن خادم الحجاج کے خازن کی حیثیت سے حاجیوں کی خدمت کیلئے رضاکارانہ طورپرخدمت بخوشی ا نجام دیتے رہے۔ عازمین حج کے پاسپورٹ بنوانا ، اس کے لئے بنگلورجانا، عازمین حج کے فارم بنگلور میں جمع کرآنا ، عازمین حج کو حیدرآباد اور بنگلوروہوائی اڈوں پرچھوڑنا اور وہاں سے لے آنا ، پھر اس سے متعلق دیگر امور میں وہ ہمیشہ ہی سرگرم دیکھے گئے۔گھر کی فکر سے زیادہ عازمین حج کی فکرتھی ۔ ان ہی کی خدمت میں لگے رہتے تھے ؎
توفیق اپناکام مگر کرگئی تھی میرؔ
آوارگی سے بچ گئے ، بندے بنے کئی
اپنے والدمرحوم نثاراحمد کلیم کی طرح وہ کوئی مقرر نہیں تھے لیکن ایک اچھے اور سچے ملی کارکن تھے۔ بے لوث خدمت ان کا مطمحِ نظر ہوتا۔ کئی ایک باتیں ان کے تعلق سے معاشرے میں کہی جاتیں لیکن انہیں سن کروہ کبھی غصہ نہیں ہوئے۔ پوچھتے ضرور تھے کہ کون کیا کہہ رہاہے اور ملنے والی اطلاع پر کسی شریف اور بے ضرر آدمی کی طرح ری ایکٹ کرتے۔ سازشیں کرنا، ان سازشوں کو اختتام تک پہنچانا انھوں نے سیکھاہی نہیں تھا۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؎
فلک پرکوئی ساز ش ہورہی ہے
سمندر پر ہی بارش ہورہی ہے
ہٹائے جارہے ہیں کام کے لوگ
نکموں پر نوازش ہورہی ہے
برائی چل رہی ہے پیٹھ پیچھے
مگر منہ پر ستائش ہورہی ہے
شفیق احمد کلیم کوان سب چیزوں سے لینا دینا نہیں تھا۔ اس کا شکویٰ بھی نہیں کرتے تھے۔ زمانہ کی ناقدری کا رونا انھوں نے کبھی نہیں رویا۔ تاہم وہ اپنے مرحوم والد نثاراحمد کلیم کی بڑی عزت کیاکرتے تھے۔ ان کے احترام میں کمی آنے نہ دیتے۔ جتنی کتابیں ان کے والد کی شائع ہوئیں اور اس کے رسم ِاجراء پر جو بڑے بڑے ادبی پروگرام اور کل ہند مشاعرے ہوئے ، ان تمام کے منتظم شفیق احمد کلیم ہی ہواکرتے تھے۔ ان جلسوں کے ذریعہ والدمرحوم کا پیغام یہی تھاکہ
’’مسلمانوں کوسمجھ لیناچاہیے کہ دنیا کاکوئی نظریہ، کوئی فلسفہ، کوئی پالیسی مسلمانوں کے کام نہیں آئے گی۔ زندہ قوموں کی کامیابی کے لئے سراپا رحمت محمد رسول اللہﷺ کے اسوۂ حسنہ پرعمل کرنے کی ضرورت ہے‘‘ مرحوم نے مسائل کے بارے میں لکھا تھا ’’ہمارے مسائل کے تعلق سے ہمیں سوچناچاہیے کہ ہم کون تھے اورکہاں تھے اور اب کیاہیں اور کیاہوں گے ؟ہمارے سیاسی رہنما ہوں یا مذہبی رہنما ہوں، اس سمت توجہ دلانا ضروری سمجھتاہوں کہ یہ زمانہ نہ مناظرے کاہے اور نہ ہی مجادلے کا ۔ یہ مکالمہ کادور ہے‘‘ والد مرحوم نثاراحمد کلیم کی بات پر شفیق احمد کلیم عامل تھے۔ ویسے شفیق احمد کلیم کاحلقۂ احباب بہت وسیع رہا، زندگی کے مختلف میدانوں سے وابستہ افراد ان کے دوست تھے اور اپنی کل 56سالہ زندگی گزارنے کے لئے قسمت نے انہیں کئی ایک کاروبار سے جوڑے رکھا گویا زندگی ایک جہد مسلسل سے عبارت تھی ، اس کے باوجودمزاج میں چڑچڑاپن نام کونہیں تھا۔ پان کھاتے ،سگریٹ پیتے لیکن بڑی بات نہیں کرتے تھے۔مقروض بھی رہے ، مگر حوصلوں کو پست نہیں رکھا۔ ان تمام سے بڑھ کر بات یہ تھی کہ جب کبھی ملت کے کام کے لئے پکارا گیا، آواز دی گئی وہ اپنی دل کی پوری آمادگی کے ساتھ حاضررہے۔
بیدراُتسو کے مشاعروں میں وقت دیا کرتے تھے ۔ شعرائے کرام کو حیدرآباد ائرپورٹ سے لے آنا ۔ بید رکی ہوٹلوں یا گیسٹ ہاوز میں ان کی خدمت کرتے رہنے میںوہ ایک طرح کی مسرت محسوس کرتے تھے۔ سماجی کام میں مجھ جیسے کمزور شخص کاانھوں نے ساتھ دیا۔ خود کو تفویض کردہ اپنا کوئی ملی کام وہ دوسروں کے حوالے نہیں کرتے تھے۔ فرد، تنظیم یا کام کو راستے میں چھوڑجانا انہیں نہیں آتاتھا۔ کام کوپایہ ء تکمیل تک پہنچانے کامزاج غالباً والدہ مرحومہ کی جانب سے آیا ہوگا۔
شفیق احمدکلیم کئی ایک حادثوں سے گزرے ۔ ڈاکٹر انجم شکیل احمد نے کہاتھا ؎
کیا کیا خوشی مسرت، غم کے تھپیڑے، آنسو
قسمت میں اک جاں کی ، کیاکیا خدالکھاہے
شفیق احمد کلیم کی اہلیہ اسماء انجم نے ان کا ساتھ زندگی کا ایک بہترین ساتھی بن کر دیا۔ ہرایک حادثیکے موقع پر ان کی اہلیہ ان کا دست وبازوبنی رہیں۔ کاروبار بڑھانے کی سوچی گئی تو وہ حاضر رہیںبلکہ خود آگے بڑھ کر کاروبار میں ان کادایاں ہاتھ بنی رہیں۔ فالج کاحملہ ہواتو وہ حوصلہ مندی کے ساتھ شانہ بشانہ ساتھ رہیں۔ مالی مسائل سامنے آئے تو انھیں حل کرنے کی کوشش میں لگی رہیں۔ گزشتہ تین چار سال قبل فیکٹری لگائی تو وہ بھی ایک مضبوط ستون بن گئیں۔ بچوں کامستقبل بنانے میںشوہر نامدار کی رائے سے اتفاق کرتی رہیںیعنی شفیق احمد کلیم کی زندگی میں ان کی اہلیہ، شفیق احمدکے دونوںبڑے بھائیوں سعید احمد اور رفیق احمد کی طرح ہمیشہ ڈھال بن کرکھڑی رہیں۔ آج جب کہ شفیق احمد کلیم اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے ہیں تو محسوس ہوتاہے کہ شاید اہلیہ چوک گئی تھیں اسلئے ایساہوا ۔ ورنہ اس سے قبل شفیق احمد کلیم مرض سے گزرے اورموت کاہیولہ بھی دیکھا مگر جب کسی انسان کا وقت ِ آخرپوری طرح سامنے آجاتاہے تواس کی مخالفت میںکوئی ساتھ نہیں دے سکتا، یہی کچھ شفیق احمد کلیم کے ساتھ ہوا۔ کل رات جب میں نے سراج الحسن شادمان کی معیت میں شفیق احمد کلیم کے اسی گھر میں جہاں وہ ہماری ضیافت کئی دفعہ کرچکے تھے۔اوراسی کے لان میں انھیں لیٹے ہوئے دیکھااور سر سے چادر ہٹائی تو محسوس ہواکہ شفیق احمد کلیم آرام فرمارہے ہیں۔چہرے پر تھکن کے آثا ربھی نہیں تھے۔ گویا کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ دنیا سے جانا ہمارے لئے مسئلہ ہوسکتاہے لیکن شفیق احمد کلیم کاچہرابتارہاتھاکہ وقت ِ آخر کوئی مسئلہ نہیں رہا، رب کریم نے کرم کیا ، مہربانی فرمائی اور شفیق چلے گئے۔ انھوں نے اپنادنیاوی سفر مکمل کرلیا اور اُخروی سفر کے لئے نکل پڑے ہیں۔تومیرؔبیدری کایہ شعر یادآرہاہے ، پتہ نہیں شاعرنے کس معاملے میں شعر کہاہوگالیکن یہاں موزوں دکھائی دے رہاہے ؎
اس سفر کے بعد اگلا ہے سفر
اس سے بڑھیا کوئی رستہ ہی نہیں
اللہ تعالیٰ شفیق احمد کلیم کے گناہوں اور خطاؤں کو معاف فرمائے ،ملت کی سربلندی کے لئے ان کی جانب سے کی گئی خدمات کو اللہ تعالیٰ شرفِ قبولیت سے نوازے۔ جنت الفردوس عطاکرے ۔ ان کی اہلیہ ، دونوں لڑکیوں اور لڑکے کے علاوہ بھائیوں، بھابیوں ، بھانجے بھانجیوں، بھتیجے بھتیجیوں، سالے سالیوں ، ہم زلف اوردیگرلواحقین کوصبر جمیل عطافرمائے، آمین۔
