محمدیوسف رحیم بیدری
’’جس کے پاس کام نہیں ہوتا ، وہ اوڑھ اوڑھ کرسوتاہے ‘‘یہ بات ڈاکٹر ایم جی دیشپانڈے نے بتائی۔ ڈاکٹر ایم جی دیشپانڈے کنڑی زبان کے معروف ادیب اورناول نگار ہیں۔ ان کی زندگی کامقصد لکھنا، لکھنا اورپھر لکھنا ہے۔ لکھنے پڑھنے سے فرصت ملتی ہے تو بڑے بڑے پروگرام منعقد کرتے ہیں جس میں فنون لطیفہ سے متعلقہ پانچوں قسم کے فنکاروں(شاعر، موسیقار ، مصور ، سنگتراش اور رقاص) کوجمع کرکے انھیں ان کے کام پر ایوارڈ سے نوازتے ہیں۔ اس کے لئے اپنے جیب خاص سے اہتمام کرتے ہیں، کسی سے چندانہیں لیتے۔ جب کبھی پروگرام ہوتے ہیں وہ پروگرام ایک دن میں 18 گھنٹے تک بھی چل سکتے ہیں ۔ سہ روزہ پروگرام بھی انھوں نے اپنے ایم جی دیشپانڈے ٹرسٹ  کی جانب سے رکھے ہیں۔انھیں ادبی کام سے عشق سے زائد حدتک لگاؤ ہے۔ ایسا لگتاہے کہ ایم جی دیشپانڈے نوجوان ہوچکے ہیں اورونچت وظیفہ یابی کے باوجود نوجوانوں سے بڑھ کر کام کررہے ہیں۔ ڈاکٹر ایم جی دیشپانڈے بیدر ضلع کی کنڑی براداری کے لئے خدائی تحفہ ہیں۔ ہر وہ ادبی کام جو کوئی نہیں کرسکتا وہ ایم جی دیشپانڈے کرتے ہیں۔
شاید آپ کو یقین نہ آئے کہ موصوف نے ادارہ ء ادبِ اسلامی ہند بیدر کے ساتھ مل کر بھی بید رکے رنگ مندر میں پانچ چھ سال قبل پروگرام انجام دیاتھا۔ شاعروں ، موسیقاروں اور رقاص افراد کے ساتھ ان کی قربت جگ ظاہر ہے۔ اسی سلسلہ میں چارپانچ دن قبل مجھے فون کرکے بتلایاکہ چندرشیکھرشندھے کی نظموں کاپہلا مجموعہ وہ اپنی رقم سے شائع کررہے ہیں۔میری لئے مسرت کی بات تھی لیکن ساتھ ہی سوچ رہاتھاکہ اہل ِ اردو آیا اس طرح کام انجام دیتے ہیں ؟ کسی نے اپنی رقم اردو کے شاعریااردوکے ادیب کی کتاب شائع کی ہے؟ شاید نہیں ۔
ایم جی دیشپانڈے سیدھے سادا لباس پینٹ شرٹ زیب تن کرتے ہیں۔ اور جب ادبی پروگرام میں شرکت کرتے ہیں تو شرٹ کے اوپر صدری پہن لیتے ہیں۔ ان کے ادبی پروگرام میں ان کی شرکت مرکزی حیثیت کی بالکل بھی نہیں ہوتی۔ وہ تو کسی سعادت مند بہو کی طرح پورے پروگرام میں کام کی انجام دہی کے لئے سبھی کو توجہ دلاتے اور خوداپناکام کرتے ہوئے گھومتے رہتے ہیں۔ اور کوئی دوسرا، تیسر ا، چوتھا شخص ان کے پروگرام میں صدر بناہوافخر کرتارہتاہے۔ ایم جی دیشپانڈے نے بیدر کی اردو برادری سے جو تعلق رکھاہے اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ انھوں نے میری موٹرسائیکل پر بیٹھتے ہی پوچھاکہ امیرالدین امیرؔ کیسے ہیں؟کنڑی قلمکار کا اردوشاعر کے بارے میں استفسار بتاتاہے کہ اگر اردو قلمکار مزید توجہ دیں تو کنڑی قلمکار ہم سے مزید قریب ہوسکتے ہیں۔ اور یوں بھی قربت کی حد تو ہوتی نہیں ، بے حدو حساب تعلق بڑھاتے رہیں اور پیغامِ محبت انجام دیتے رہیں۔
موصوف نے کل مجھ سے کہاکہ تین چیزیں کسی کوبھی نہیں دیناچاہیے۔ میں نے تجسس سے پوچھا’’ وہ کون سی تین چیزیں ہیں ؟‘‘ انھوں نے کہا’’پیسہ کسی کو پہلے نہیں دیناچاہیے ورنہ وہ استعمال کرلے گا۔ دوسرا کتاب کسی کو نہیں دینی چاہیے ورنہ وہ پڑھ لے گا۔ تیسری چیز عورت ہے۔ اپنی عورت کو کسی کے ساتھ نہیں بھیجناچاہیے ، کچھ نہ سہی وہ عورت سے میٹھی میٹھی باتیں تو کرے گاہی ‘‘ اردو والے سوچ سکتے ہیں کہ بیوی کو دوسرے کے ساتھ کون بھیجتاہے؟ دیشپانڈے جی کی بات کاپس منظر غیرمسلم سماج ہے لیکن اگر مسلم سماج کابھی یہاں تصور کرلیں  تو کوئی مضائقہ نہیں۔ کیوں کہ مسلمانوں کے ہاں بھی خالہ زاد ، ماموں زاد بھائیوں کے ساتھ خواتین کوایک مقام سے دوسرے مقام روانہ کرنے کافیشن ساچل پڑاہے۔ اس کو ختم ہونا چاہیے۔
ایم جی دیشپانڈے چائے اچھی بناتے ہیں(کبھی ان کے ہاں چائے ضرورپئیں ) میں نے ایک ہوٹل کے سامنے ٹووہیلر روکنی چاہیے تو انھوں نے اِنمنانا شروع کردیا۔ میں نے کہا’’ٹھیک ہے ، آپ کے گھر پر چائے پیتے ہیں ‘‘ ہمارافیصلہ درست تھا۔ سردیوں کے دن میں ایک عمدہ چائے کاملنا رب کی مہربانی ہی سے ممکن ہے۔دپشپانڈے کام بڑی سرعت سے انجام دیتے ہیں ۔ گھر کے کام سے لے کر کتاب کی اشاعت تک۔ اور وہی کہہ رہے تھے کہ میرے ناولوں کی تازہ کتاب آئی ہے ۔ پھرانھوں نے مجھے502صفحات پرمشتمل اپنی تازہ کتاب ’’پرکاش جیوتی اِترا کادمبری گڑو‘‘ (پرکاش جیوتی اور دیگر ناولیں) تحفہ میں دی۔ میں ان کاشکرگذارہوں کہ ان کے توسط سے کنڑی کتابوں سے رابطہ ہوتارہتاہے۔
انھیں مسلسل فون آرہے تھے۔ پتہ چلاکہ ان کے مکان موقوعہ رامپورے کالونی بیدر کے سامنے واقع گارڈن کی حصار بندی کے ضمن میں بلدیہ بیدر سے کچھ لوگ آنے والے ہیں اسی لئے انہیں طلب کیاجارہاہے۔ پھر تو میں بھی ان سے وداع لے کر چلاآیا لیکن میں نے یہ خاص بات نوٹ کی کہ مجھے وداع کرنے کے لئے وہ اپنے گھر کے باہر تک بغیر چپل پہنے آگئے تھے۔ جب میں ٹووہیلر کی سیٹ پر بیٹھاتب بھی وہ میرے بازوہی کھڑے تھے۔میں نے سوچا اس قدر مان سمان کون دیتاہے ؟دل نے کہا’’وہی مان سمان دیتاہے جس کے دل ودماغ میں مان سمان دینے کے اصول، سنہری حرفوں میں لکھے ہوئے نقش ہوں ‘‘میں ان کی انسانی عظمت کا ہمیشہ سے قائل رہاہوں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے