از : افشاں خاتون
باغنگر، سنت کبیر نگر (راجکیہ ہائی اسکول باغنگر)
وقت خدا کی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ بات روز ازل سے مشہور و معروف ہے کہ جس نے بھی وقت کی قدر کی دنیا نے اس کی عزت کی ۔روز ازل سے آج تک ہر انسان کو 24 گھنٹے ہی ملے ہیں اور انسان نےاپنے اسی وقت کوکام میں لا کر بڑی سے بڑی اونچائی حاصل کیا ہے ۔ہر وہ تمنا اور ہر وہ خواہش جو کسی کے دل میں پلتی ہے اس کی حصولیابی وقت کی قدر دانی کے بعد ہی ممکن ہو پاتی ہے۔ وقت کی اہمیت کے حوالے سے اسلام نے بھی زور دیا ہے اسلام کے اہم ارکان بھی وقت کے ساتھ مقید ہیں۔ نماز ٹائم پر پڑھی جاتی ہے ۔اگر بے وقت کوئی نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوگی اسی طرح جب اللہ تعالی نے روزہ کی بات کی تو وقت کی بات کی۔ جب اللہ تعالی نے حج کی بات کی تو وہاں بھی حج کو وقت کے ساتھ مقید فرمایا ۔جب زکوۃ دینے کی بات آئی تو وہاں پر بھی اللہ نے وقت کے اعتبار سے حساب لگانے کا حکم ارشاد فرمایا بلکہ یوں کہیے کہ اکثر و بیشتر کاموں کو اللہ تعالی نے وقت کے ساتھ مقید فرمایا ہے۔ یہ بات بھی صداقت سے پر ہے کہ جس نے بھی وقت کی قدر کی اور وقت کو عزت دیا دنیا نے ایسے انسان کو عزت دی۔ آج دنیا میں جتنی بھی مشہور و معروف شخصیات نظر آتی ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے وقت کی پاسداری میں کوئی کسر نہ کی اور وقت کا بھرپور استعمال کیا اور وقت کو اپنے اہم کاموں میں لگایا۔ لیکن افسوس آج ہماری قوم سب سے زیادہ جس چیز کو برباد کرتی ہے وہ وقت ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وقت کے علاوہ جو بھی وسائل ہمیں ملے ہیں یا ہمارے پاس ہیں ان کو ہم دوبارہ کسی نہ کسی صورت میں لا سکتے ہیں لیکن وقت کے نکل جانے کے بعد کف افسوس ملنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہتا۔ آج کی نوجوان نسل جوچوراہوں پر کھڑے کھڑے وقت برباد کر دیتی ہے۔ سیاحت گاہوں میں مستی اگر تھوڑی بہت ہو تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن گھنٹوں گھنٹوں کا ضیاع یہ قابل افسوس بات ہے ۔
وقت کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگائیے کہ وقت گزر جانے کے بعد کسی بھی صورت میں وقت کا لوٹنا ممکن نہیں ۔آج تعلیم کے میدان میں ہوں یا تجارت کے میدان میں، جنہوں نے بھی اپنے آپ کو وقت کا پابند بنایا۔ وقت کی قدردانی کی تو ایسے شخص کو دنیا نے اپنی پیشانی پر رکھا اور انہیں عزت دی۔ وقت کے بارے میں عربی مقولہ ہے الوقت اثمن من الذہب کہ وقت سونے سے زیادہ قیمتی ہے ۔مال و دولت کی قیمت وقت سے کم ہے مال و دولت چلے جانے کے بعد یا لٹ جانے کے بعد کمایا جا سکتا ہے لیکن وقت کے چلے جانے کے بعد اس کا لوٹنا کسی بھی صورت ممکن نہیں۔ آج ہماری نئی نسل کے نوجوان بازاروں میں قہوہ خانوں میں وقت ایسے ضائع کرتے ہیں جیسے انہیں پتہ ہی نہیں کہ وقت بھی کوئی کام کی چیز ہے ۔وقت کی مثال یوں سمجھیے کہ وقت اور زندگی دونوں ایک ہی کا نام ہے زندگی کچھ وقتوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔جو لاکھوں منٹوں اور سیکنڈوں پر مشتمل ہو تی ہے۔ یہ آپ کے سامنے سے گزر رہا ہے گویا آپ کی زندگی آہستہ آہستہ گھٹتی چلی جا رہی ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھا جائے مان لیجئے کہ ہم لوگوں کی زندگی مثل برف ہے جس طرح برف آہستہ آہستہ پگھلتی ہے اسی طرح آہستہ آہستہ آپ کی زندگی بھی گھٹتی جا رہی ہے ۔ پھر اچانک ایک ایسا وقت آتا ہےاور اپ اس موڑ پر پہنچ جاتے ہیں جہاں آپ کی انرجی اور توانائی ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ تب جا کر آنکھیں کھلتی ہیں اور اس وقت آپ کسی کام کے لائق نہیں رہ جاتے۔ اسی لیے آج ہمارے پاس وقت ہے۔ ہم پڑھ لکھ کر آئی اے ایس ،آئی پی ایس، پروفیسرز، ڈاکٹرز، آفیسرز، سی اے وغیرہ سب کچھ بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے وقت کو یوں ہی گنوا دیا تو پھر بہت ہی زیادہ افسوس کرنا پڑے گا۔ یاد رکھیے جو طالب علم تین سال کی محنت اچھے سے نہیں کرتا تو اسے 30 سال تک مزدور کی طرح کسی فیکٹری اور کمپنی میں کام کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے 30 سال جانوروں والی زندگی گزارنے سے بہتر ہے کہ تین سال محنت کر کے کوئی اہم مقام حاصل کر لیا جائے تاکہ عزت اور سکون والی زندگی گزار سکیں ۔مسلمان وہ جو دنیا کی قیادت کرنے آیا تھا جو دنیائے انسانیت کو عروج کی تعلیم دینے آیا تھا ۔وہ جو دنیا کو چاند پر پہنچنے کی تلقین کرنے آیا تھا ۔ چاند کو چھونے اور چاند پر قدم رکھنے کا حوصلہ عطا کرنے آیا تھا ۔ وہ جو دنیا کی تسخیر کے لیے بناتھا ۔جو دنیا کو اپنے مطابق چلانے کے لیے آیا تھا۔ وہ جو دنیا کے اندر حاکم بن کر آیا تھا۔وہ جس کے قدموں میں دنیا پڑی رہتی تھی۔ افسوس!آج وہی ہر جگہ ذلیل و رسوا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نہ تو آج ہماری قوم میں اچھی تعلیم ہے اور نہ ہی ہم تجارت میں ہیں ۔وقت کا رونا تو روتے ہیں لیکن ہم وقت کی قدر نہیں کرتے ہیں۔
اب بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہے۔ ہم وقت کی اہمیت سمجھیں۔ امریکی ،جاپانی ،چینی اور دوسرے ممالک کے جو لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں آج معاشی طور پر وہ لوگ ہم سے زیادہ مستحکم ہیں۔ جہاں بھی دیکھیے ،سبقت کی کار فرمائی ہے۔ خدارا اب وقت اپنے ناجائز کاموں اور نامناسب جگہوں پر یوں ہی نہ گزاریں۔ بلکہ اس کا صحیح سے استعمال کریں۔ آج اگر آپ نے وقت کی قدر کی تو جب تک دنیا رہے گی لوگ آپ کو عزت اور قدر کی نگاہوں سے دیکھیں گے۔ حقیقت تو یہ ہے آج ہمارا حال دلتوں سے بھی بدتر ہے ہم تعلیم میں ان سے پیچھے ہیں۔ ہماری ثقافت جو ہماری امتیازی شان اور ہماری شناخت ہوا کرتی تھی آج اس سے ہم کافی دور ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔آج ہم زندگی کے ہر موڑ پر پچھڑتے جا رہے ہیں۔ اگر ہم دنیا میں سرخروئی عزت اور سربلندی چاہتے ہیں تو ہمیں وقت کی قدر کرنی ہوگی۔ وقت کوخدا کی عظیم ترین نعمت سمجھنا ہوگا۔
اللہ تعالی نے جس طرح دنیا کے اندر بہت ساری نعمتیں عطا کی ہیں۔ یاد رہے کہ ایمان کے بعد جو سب سے اہم نعمت ہے وہ وقت ہے۔ خدارا وقت کی قدر کریں وقت کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالیں ۔اپنی زندگی کا ایک موٹو اور مقصد طے کریں اور اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ بغیر وژن اورمشن کے ہماری زندگی بیکار ہے۔ زندگی بالکل ٹیپو سلطان شہید رحمت اللہ علیہ کی طرح زندگی گزاریں۔ ایسا نہ ہو کہ ہماری موت ایک غلام کی موت ہو تب جا کر محسوس ہوگا ہم نے دنیا آکر کچھ نہیں کیا ۔ اب ہم سب لوگوں کو جگ جانا چاہیے اور ایک مقصد کو فکس کرنا چاہیے ایک گول بنانا چاہیے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے جی جان توڑ محنت کرنی چاہیے تب جا کر ہی ہماری کامیابی ہمارا مقدر ہوگی ۔وقت کی اہمیت بہت زیادہ ہے بس ایک جملے میں یہ سمجھیں جس نے وقت کی قدر نہ کی دنیا نے اس کی قدر نہ کی۔۔۔۔
