ابو احمد مہراج گنج

الّو بھی اللہ کی بے شمار مخلوق میں سے ایک ہے جو اپنی وضع قطع، اپنی سج دھج، اپنی دیومالائی مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ اپنی نحوست کے لیے بہت ہی مشہور ہے۔ اسی لیے کسی شخص کو غلطی کرنے پر اسے ’الّو‘ کے لقب سے نواز دیا جاتا ہے۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ کسی کو عقل کا کمتر یا بیوقوف کہنے کے لیے اِس پرندے کا نام کیوں لیا جاتا ہے؟ حالانکہ انسانی نفسیات میں یہ بات شامل ہے کہ بڑی آنکھوں والا اور بڑے سر والا انسان ذہین سمجھا جاتا ہے۔ لیکن الّو کی آنکھیں بھی بڑی ہوتی ہیں اور سر بھی بڑا ہوتا ہے پھر بھی بیوقوف لوگوں کی مثال اکثر الّو سے ہی دی جاتی ہے۔ عام طور سے عوام الّو کو منحوس پرندہ مانتے ہیں لیکن انگریزی ادب کی بچوں کی کہانیوں( جیسے ’ہیری پاٹر‘ ) میں الّو کو اعلیٰ خوبیوں والا اور عقلمند پرندہ مانا گیا ہے۔ ہندو مذہب میں الّو کو ’لکشمی دیوی‘ کی سواری مانا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اْسی پر بیٹھ کر اپنے بھگتوں کے یہاں جاتی ہیں۔
دنیا میں کل 205 قسم کے الّو پائے جاتے ہیں لیکن ان کی پوری قوم کو دو خاص قبیلوں میں ہی بانٹا گیا ہے:
(1) بارن الّو (Barn owls):
اس کا سائنسی نام Strigiform ہے۔ یہ اوسط جسامت کا اور ہلکے سرمئی رنگ کا پرندہ ہوتا ہے۔ جسم کا اوپری حصہ لالی لیے ہوئے اور پنکھ وپر سفید رنگ کے ہوتے ہیں۔ اس کے پروں اور سر پر بھورے رنگ کے دھبّے ہوتے ہیں۔ چہرے کی بناوٹ گولائی لیے ہوئے دِل کے شکل کی ہوتی ہے جو بھورے رنگ کے بارڈر سے گھری ہوتی ہے۔
(2) ٹرو الّو ((True owls):
بارن الّوؤں سے یہ کافی مختلف ہوتے ہیں
’یہ مختلف جسامت والے ہوتے ہیں، بہت چھوٹے بونے الّو سے لے کر بھاری بھرکم اور مختلف رنگوں میں پائے جاتے ہیں۔اس طرح کے الّوؤں کا چہرا گول و بڑا ہوتا ہے دْم چھوٹی ہوتی ہے۔ الّو کے پر دھبّے دار ہونے کی وجہ سے بڑے شکاری پرندوں، باز وغیرہ کی نظر ان پر جلدی نہیں پڑتی۔ اْلّو اپنے سے چھوٹوں کا شکار کرتا ہے اور خود کو شکار ہونے سے بچاتا ہے ۔
الّو سے متعلق دیگر باتوں کے علاوہ انسان کو مخاطب کرتے ہوئے ایک غلط بات یہ بھی بولی جاتی ہے: ’’ الّوؤں کی طرح دیدے نچا رہے ہو!‘‘۔جبکہ الّو بیچارہ اپنی آنکھوں کو گھمانے میں معذور ہوتا ہے وہ صرف سامنے دیکھ سکتا ہے۔
۔ہندووں کی مذہبی کتاب’بالمیکی رامائن‘ میں الّو کو بے وقوف کے بجائے بہت ہی دانا پرندہ بتایا گیا ہے ۔
الّوؤں کی قوت سماعت بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن ان کے کان دکھائی نہیں دیتے کیونکہ وہ آنکھوں کے پیچھے پروں کے گچھے میں یہ چھپے ہوتے ہیں۔
الّو سے تعلق رکھنے والی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے جْھنڈ کو انگریزی میں پارلیمنٹ کہا جاتا ہے۔
الّو کے نام کے ساتھ کئی محاورے جڑے ہیں جیسے۔اپنا الّو سیدھا کرنا‘،’الّو بنانا‘، ’الّو بننا‘، ’کاٹھ کا الّو‘،’الّو کی طرح دیدے نچانا‘،’الّو کی ہوشیاری’الّو کا پٹھا‘،’الّو کا ڈھکّن‘، ’کھاٹ پہ بیٹھا الّو، بھر بھر مانگے چلّو‘،’الّو کہیں کا‘، ’الّو پنا‘ وغیرہ۔ ان محاوروں کی تفصیل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس طرح الّو ایک سیدھا سادہ پرندہ ہے اْسی طرح سے اس سے متعلق محاورے بھی آسان اور سیدھے سادھے ہیں، ہر کوئی ان کا استعمال کرتا رہتا ہے۔
الو کے متعلق ہمارے ادبا اور شعرا نے بھی بہت کچھ لکھا ہے۔فارسی زبان میں مشہورِ زمانہ کتاب "گلستان سعدی”میں بھی ایک شعر الو کے تعلق سے آیا ہے

کس نیابد بہ زیر سایہ بوم
ور ہمای از جہان شود معدوم

اردو زبان میں تو بےشمار اشعار الو کی شناخت ،شناعت اورصفت پر کہے گئے ہیں چند اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔
اسماعیل میرٹھی صاحب نے لفظ "الو” کو اپنے شعر میں اس طرح استعمال کیا ہے، وہ کہتے ہیں:

ہمت ہماۓ اوج سعادت ہے مرد کو
الو ہیں وہ جو شیفتہ ظل ہما کے ہیں

شوق بہرائچی نے الو کی شاخ پر شعر کہہ دیا:

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الوکافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

عصر میں طنز و مزاح کے شاعر اگر دلی میں موجود حکمرانوں پر شعر کہنا چاہیں تو یہ شعر دوبارہ سے نیے قالب میں ڈھال کر لکھ سکتے ہیں کہ

سنا ہے کہ دلی میں الو کے پٹھے
رگ گل سے بلبل کے پر باندھتے ہیں

اس شعر کے پیچھے ایک کہانی بھی ہے، کہا جاتا ہے کہ دلی اور لکھنؤکے شعراء آپس میں نازک خیالی کو لے کر ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی فراق میں رہتے تھے، ایک بار دلی والوں نے لکھنؤ والوں کے لیے ایک مصرعہ بھیجا، رگ گل سے بلبل کے پر باندھتے ہیں اور اس پہ گرہ لگانے کی فرمائش کی تو لکھنؤ کے شعراء نے اس پر گرہ لگا کر شعر مکمل کیا:

سنا ہے کہ دلی میں الو کے پٹھے
"رگ گل سے بلبل کے پر باندھتے ہیں”

خیر دلی میں بیٹھے الو کے پٹھے اپنا الو تو سیدھا کرنے میں کامیاب ہیں ہی جبھی تو وہ کیک بسکٹ کے مزے میں مدہوش ہیں اور شریف لوگوں کو فاقہ کشی کی نوبت ہے۔ میر حسین میرؔ کاشمیری نے اس بات کو اپنے شعر میں کچھ ایسے کہہ دیا:

کیک بسکٹ کھائیں گے الو کے پٹھے رات دن
اور شریفوں کے لیے آٹا گراں ہوجاۓ گا

سیاسی لوگ الو کا استعمال بہت بہتر طریقے سے کرلیتے ہیں، اسی فکر کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک شعر محمد علوی نے کہا ہے کہ

اس کا ٹیڑھا اونٹ نہ دیکھ
اپنا الو سیدھا کر

بھارت میں سماجی اورسیاسی قدریں کس قدر بدل گئیں ہیں کہ جو صدیوں سے وفاداری کی مثال رہے ہیں، آج ان کو اپنے وفادار ہونے کا ثبوت دینا پڑرہا ہے اور جو مخبروں اور دلالوں کے چہیتے تھے آج وہ محب وطن بنے پھررہے ہیں، اس شعر کے مصداق کہ

نیرنگِی خیال زمانے کی دیکھ تو
زاغ وزغن ہیں فاختہ الو یہاں ہما

اور جب سے بھارت کی تقدیر کا جملے بازوں نے تحریص کرلیا ہے ہمارے مادر وطن کی مٹی دشت جنوں میں تبدیل ہو نے لگی ہے،
ملک کا دستور العمل اپنے دستورسازوں کو منھ چڑھا رہا ہے کہ جس دستور پر تمہیں ناز تھا آج اسی دستورالعمل کو کچھ لوگ پیروں تلے روند رہے ہیں، آج ملک کی حالت ناسخؔ کے اس شعر کی گواہی بن گئی ہے کہ

کیا مبارک ہے میرا دشت جنوں اے ناسخ
بیضۂ بوم بھی ٹوٹے، تو ہما پیدا ہو

جب الو کے داستان سے شروع ہوئی ہماری گفتگو اس موڑ پر پہنچ گئی تو بلبل بیچاری کیا کرے سوائے اس کے کہ دعا مانگے! الٰہی

اگر دشمن کی تھوڑی سی مرمت اور ہو جاتی
تو پھر الو کے پٹھے کو نصیحت اور ہوجاتی

اب آپ بوم میرٹھی کے اس شعر کو سمجھنے میں لگ جائیں اور سوچیں کہ دشمن کون ہے؟اور الو کا پٹھا کون ہے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ اتنا سارا وقت لگاکر اس کو پڑھنے کے بعد آپ اپنے آپ کو ٹھگا ہوا الو کا پٹھا سمجھ رہے ہیں ۔میں آپ کو نہیں اپنے آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ

مرتی اس گل پہ ہے بکتا ہے جو کوڑی کوڑی
تجھ پہ مرتی نہیں بلبل کچھ الو سی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے