فلاح انسانیت ایجوکیشنل ٹرسٹ اٹوا بازار  کے زیر اہتمام اٹوا بخشی میں دینی و اصلاحی پروگرام کا انعقاد
اٹوا(سدھارتھ نگر): دنیا میں ہر شخص کو خوشی اور قلبی سکون چائیے زیادہ تر لوگوں کا نظریہ یہی ہے کہ اچھی اور خوش گوار زندگی دنیوی آسائشوں اور مال ودولت ہی سے حاصل ہو سکتی ہے ایک شرابی کو لگتا ہے کہ شراب اسے سکون دے گا، جواری کو جوا راحت پہنچائے گا مگر اس کی یہ خوشی اور قلبی اطمینان وقتی ہوتا ہے جبکہ دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر اور یاد میں ہے، ایک مومن باکردار کو صالحانہ اور متقیانہ زندگی گزارنے اور اللہ کی عبادت و اطاعت اور زہد و قناعت میں جو لذت و حلاوت محسوس ہوتی ہے، وہ ایک کافر اور نافرمان کو دنیا بھر کی آسائشوں اور سہولتوں کے باوجود میسر نہیں آتی، بلکہ وہ ایک طرح کی بےچینی و اضطراب کا شکار رہتا ہے۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ بندے کی خوشی تین چیزوں میں پنہاں ہے: نعمت کا شکر، مصیبت کے وقت صبر اور گناہ سے توبہ۔ ساتھ ہمارے دلوں میں اطمینان تب ہوگا جب ہم اور ہمارے اہل و عیال مل جل کر زندگی گزاریں کے ایک دوسرے کی اصلاح کی کوشش کریں گے آدمی کے لئے جھوٹ بولنا منع مگر اصلاح کی غرض سے بولا ہوا جھوٹ درست ہے۔ اس لئے ہم سے ہر شخص کے لئے ضروری ہے ہم ایک دوسرے کی اصلاح کریں۔
یہ تمام باتیں فضیلہ الشیخ شاہد جنید مدنی حفظہ اللہ نے اٹوا بخشی میں خطاب کے دوران کہیں۔
 فضیلۃ الشیخ عبدالحسیب سنابلی نے بھی خشیت الہی کے موضوع پے اچھی گفتگو کی آپ نے کہا کہ اگر انسان میں خوف الہی جاگزیں ہو جائے تو انسان گناہ کے تمام کام چھوڑ دےگا,جب بھی وہ گناہ کا کام  کرنے چلے گا تو اسے یاد آجائے کہ اللہ مجھے ہر جگہ دیکھ رہا ہے ہماری ہر حرکت پے اس کی نظر ہے تو انسان گناہ کو ترک کر دے گا ساتھ ہی عبادتوں میں بھی خشوع وخضوع آجائے گا۔ بروز قیامت ہر اس ک شخص کو عرش الہی کا سایہ نصیب ہوگا جس کے دل میں اللہ کا خوف ہوگا، بلکہ اللہ نے اس کے لئے ڈھیر سارا اجر اور جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم معصوم عن الخطا ہونے باوجود وہ لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے تھے اس دل سے پناہ مانگا کرتے تھے جس میں اللہ کا ڈر نہ ہو۔اس لئے ہم سب کو اللہ سے اسی طرح ڈرنا چاہیے جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔
بعدہ  فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن ریانی نے قیامت کی ہولناکیوں پر پرمغز خطاب کیا آپ نے بتایا کہ ایک دن آئے کہ جس دنیا کو ہم ہری بھری دیکھ رہے ہیں جس دنیا کی وجہ سے ہم اللہ کو بھول بیٹھے وہی دنیا ایک دن ختم ہو جائے گی پوری زمین جھنجھوڑ دی جائے گی اللہ کے حکم زمین انسان کے خلاف گواہی دے گی اس کے اعضاء گواہی دیں گے، قیامت کا زلزلہ ایک بہت بڑی چیز ہے دودھ پلانے والی عورت اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے جبکہ دوران رضاعت ماں کو اپنے بچے سے بے انتہا لگاؤ ہوتا ۔ غرضیکہ شیخ کا خطاب کچھ اس انداز کا تھا کہ شیخ اور سامعین دونوں کے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔
یہ پروگرام فلاح انسانیت ایجوکیشنل ٹرسٹ کے صدر حافظ و قاری صفی الرحمن فرقانی کی نگرانی میں 3 فروری بروز سنیچر کو مغرب سے عشاء تک چلا اور آپ ہی کے تلاوت قرآن پاک سے اس بزم کا آغاز بھی ہوا نظامت کے فرائض حافظ عبدالرحمن نے انجام دیا جناب مولانا کلیم اللہ ریانی صاحب نے مترنم آواز میں نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیا۔ پروگرام میں گاؤں کے بچے ،بوڑھے اور جوان کافی تعداد میں مسجد میں موجود رہے۔جبکہ خواتین نے مسجد سے باہر اپنے گھروں سے خطباء حضرات کو سماعت کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے