سرفراز بزمی

_____________

میری آنکھیں ہیں مرا سر ہے مرا موبائل

ایک گنجینہء داور ہے مرا موبائل

گھر کے بچوں کے لئے صرف کھلونے کی دکان

اور میرے لئے دفتر ہے مرا موبائل

یہ ہے مٹھی میں تو دنیا ہے مری مٹھی میں

فخر تیمور و سکندر ہے مرا موبائل

ایک سم سم میں رواں علم کےلاکھوں دریا

ایک کوزے میں سمندر ہے مرا موبائل

دیجئے حکم تو ہو چشم زدن میں تعمیل

کوئی عفریت کا ہمسر ہے مرا موبائل

یہ نہ ہو ساتھ تو لگتا ہے کوئی ساتھ نہیں

اور جہاں ساتھ مرے ، گر ہے مرا موبائل

اس کےپردےمیں چھپی بیٹھی ہےساری دنیا

جام جمشید سے بڑھ کر ہے مرا موبائل

بات کیجے کوئی پیغام رسانی کیجے

خوب قاصد ہے پیمبر ہے مرا موبائل

فرش سے عرش تلک اس کی رسائی ہر جا

کوئی جبریل کا شہپر ہے مرا موبائل

ایسےرستوں پہ جہاں خضربھی رستہ بھولے

میرا قائد ، مرا رہبر ہے مرا موبائل

جس کےکھلنے سے کھلے قفل در ہفت اقلیم

گنبد علم کا وہ در ہے مرا موبائل

اس کی طاقت کا زمانے کو نہیں اندازہ

تیر و تلوار ہے نشتر ہے مرا موبائل

بحث و تکرار، تماشہ ، جدل و قال اقول

ان کی بنیاد میں اکثر ہے مرا موبائل

شیخ کو قبلہ نما ، رند بلا نوش کو جام

طالب علم کو ٹیوٹر ہے مرا موبائل

کوئی انگشت سلیماں کوئی جادو کا چراغ

کوئی عفریت سراسر ہے مرا موبائل

میں کہاں ہوں مرےدشمن کو پتہ دےپل پل

میر قاسم ہے کہ جعفر ہے مرا موبائل

میرے اوقات کو کھاجاتاہے چپکے چپکے

کوئی دشمن ہے کہ دل بر ہے مرا موبائل

میری انگلی کےاشارے میرےچہرےکےنقوش

ان کا محتاط شناور ہے مرا موبائل

تجھکو معلوم ہے جنت سے نکالے ابلیس

تیری سرکار میں افسر ہے مرا موبائل

یہ مرے ذہن کو پڑھ لیتا ہے چپکے چپکے

کتنا چالاک ہے خود سر ہے مرا موبائل

مجھکو رہ رہ کے دکھا تا ہے ہوس کے منظر

کوئی ابلیس کی دختر ہے مرا موبائل

اس میں کیاکیا ہےبتادوں تو شرافت جائے

ایک کوٹھے سے بھی بدتر ہے مرا موبائل

ہاتھ جیسا ہو اسی ہاتھ کےجیسا ہوجائے

نا براہیم نہ آزر ہے مرا موبائل

طالب خیر کو ہر خیر کا منبع لیکن

طالب شر کو بڑا شر ہے مرا موبائل

خوف اللہ کا بزمی ہو تو ہے بات الگ

ورنہ شیطان کا لشکر ہے مرا موبائل

سرفراز بزمی

راجستھان انڈیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے