ابو احمد مہراج گنج
بھارت کے مسلمانوں کو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے کہ ہم جس دور میں جی رہے ہیں وہ دور اپنے حقوق سے محرومی اور دست برداری کا نہیں بلکہ اپنے حقوق سے واقفیت کے ساتھ ساتھ اس کے مطالبے اور حصول کےلئے جد وجہد مسلسل کرنے کا دور ہے ۔ملک کی دیگر اقلیتں بشمول sc.st. اس کی بین مثال ہیں ۔
اور یہ کام سب کو معلوم ہے کہ نسلا بعد نسل والے قائدین کے مریدین اور محبین کے لئے جوۓ شیر لانے کے برابر ہے۔ ایسے قائدین کو نہ تو زبان و بیان پر دسترس حاصل ہے۔اور نہ ہی کانسٹیوشن کا علم ہے ۔بس وراثت میں حاصل قیادت اور ترکہ میں موصول معتقدین کی جماعت نے ان کو مقتدا اور رہنما بنا رکھا ہے ۔
ادھر سنگھی ہوں یا ترنگی دونوں کو معلوم ہے کہ مسلمانوں کا استیصال ان رہنماؤں کے سایہ عاطفت میں ہی کیا جا سکتا ہے ۔وگرنہ ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہو جائے گی ۔
ایسے میں اگر کوئی ممیانے کے بجائے بیباک انداز میں اپنی بات رکھنے کا ہنر جانتا ہے ۔جو سامنے موجود مخالفین کے الزامات کو اعداد و شمار کے ساتھ کنڈم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ جو ملک کے مختلف کاز کو بحسن وخوبی میڈیا میں ڈسکس کرسکتا ہے ۔ جو سیاست میں قیادتِ تک وراثت کے کوٹے سے نہیں بلکہ اپنی اہلیت اور قابلیت سے پہنچا ہے اس پر الزام عائد کرکے اسے ایجینٹ بتا کر زیادہ دنوں تک اس کے راستے کو مسدود نہیں کیا جاسکتا ہے ۔جب ظالم کے میں ہاتھ شمشیر برہنہ ہو تو وہاں زبان بند رکھ کر جان تو بچائی جاسکتی ہے لیکن آنے والی نسلوں کو گونگا اور بہرا ہونے سے نہیں بچایا جاسکتا ہے ۔
زباں بندی کے موسم میں گلی کوچوں کی مت پوچھو
پرندوں کے چہکنے سے شجر آباد ہوتے ہیں۔
