محمد وسیم راعین

زمانہ جاہلیت میں بچیوں کی پیدائش کو ذلت ورسوائی کا سبب سمجھا جاتا تھا اور ان کی ودلادت آدمی کے لئے بہت ہی تکلیف کا باعث تھی اللہ تعالی نے اس کی تصویر کشی کی ہے { وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ (58) يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ} [النحل: 58، 59]” ان میں سے جب کسی کو لڑکی ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہےاس بری خبر کی وجہ سے لوگوں سے چھپا چھپا پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت کے ساتھ لئے ہوئے ہی رہے یا اسے مٹی میں دبا دے، آہ! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں؟ “۔

اس جاہلی تصور کے برعکس شریعت اسلامیہ نے بچیوں کی تعلیم وتربیت کو باعث ثواب اور جہنم سے نجات کا ذریعہ بتایا ہے : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ» وَضَمَّ أَصَابِعَهُ(صحيح مسلم:2631) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے۔” اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا۔

اور فرمايا:«مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هَذِهِ البَنَاتِ بِشَيْءٍ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ»(صحيح البخاري:1418،صحيح مسلم:2629) "جو ان بچیوں کی وجہ سے کسی تکلیف میں مبتلا ہوا تو بچیاں اس کے لیے دوزخ سے بچاؤ کے لیے آڑ بن جائیں گی”۔

خواتین کو میراث سے محروم کرنا جاہلی اعمال میں سے ہے ‘ جاہلی قانون میں میراث کا مستحق وہی ہے جو نیزہ زنی کرسکے‘ تیر اور تلوار چلا سکے ۔ اسی لئے کمزور‘ بچے اور خواتین چونکہ میدان کارزار میں حصہ لے نہیں سکتی تھیں تو وہ انہیں میراث سے محروم کر دیا جاتا تھا بلکہ شوہر کی وفات کے بعد منقولہ جائیداد کی طرح اولیاء کے ہاتھوں مرہون تھیں ۔حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت ” اے ایمان والو ! تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم عورتوں کے زبردستی مالک ہو جاؤ اور نہ انہیں اس غرض سے قید رکھو کہ تم نے انہیں جو کچھ دے رکھا ہے ، اس کا کچھ حصہ وصول کرلو ، انہوں نے بیان کیا کہ جاہلیت میں کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو شوہر کے رشتہ دار اس عورت کے زیادہ مستحق سمجھے جاتے ۔ اگرا نہیں میں سے کوئی چاہتا تو اس سے شادی کر لیتا ، یا پھر وہ جس سے چاہتے اسی سے اس کی شادی کرتے اور چاہتے تو نہ بھی کرتے ، اس طرح عورت کے گھر والوں کے مقابلہ میں بھی شوہر کے رشتہ دار اس کے زیادہ مستحق سمجھے جاتے ، اسی پر یہ آیت ” یآیھا الذین آمنوا لا یحل لکم ان ترثوا النساءکرھا“ نازل ہوئی۔ (صحیح بخاری:4579)

اسلام نے جہاں بچیوں کے درگور کرنے اور ان کی جان لینے سے منع کرکے انہیں زندگی دی ویسے ہی خواتین کا مالی حق بھی عطا کیا۔

میراث سے متعلق جو پہلی آیت نازل ہوئی اس میں خواتین کے حقوق کا بھی ذکر ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے:{لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا} [النساء: 7] "ماں باپ اور خویش و اقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی (جو مال ماں باپ اور خویش و اقارب چھوڑ کر مریں) خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ (اس میں) حصہ مقرر کیا ہوا ہے”۔

آیت میں غور کیجئے کہ اللہ تعالی نے لِلرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ نہیں کہا بلکہ دونوں جنس کے حقوق کا مستقل تذکر ہ کیا جس سے خواتین کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اسی طرح میراث میں حصہ کی یقین دہانی کے لئے کہا کہ ترکہ کم ہو کہ زیادہ ہر صورت میں خواتین کا حصہ یقینی ہے اور اس مقرر کردہ حصہ پہ عمل پیراہونےکے لئے کے لئے بتایا گیا کہ یہ حصہ اللہ تعالی کی طرف سے فرض کیا ہوا ہے جسں سے کسی قسم کی روگردانی کا اختیار نہیں ہے ۔

مرد وخواتین کے حصوں کی تقسیم کا تذکرہ جس آیت میں ہے اس کا آغاز لفظ وصیت سے ہوتا ہے جس سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہےکہ مال کی تقسیم کے سلسلہ میں اللہ تعالی ہم پہ کس قدر مہربان ہے بلکہ ماں باپ سے بڑھ کر مہربان ہے ۔

اسی طرح پہلی آیت کے اختتام پہ اللہ تعالی نے کہا کہ یہ تقسیم اللہ تعالی کے علم اور حکمت پہ مبنی ہے ظاہر ہے کہ اس قسم کے معاملات میں اللہ کی تقسیم پہ اعتراض کرنا بدبختی کی علامت ہے اور اس قسم کی حرکت بدبخت ہی کر سکتا ہے ۔

خواتین کو میراث سے محروم کرنے کے بہت سے اسباب ہوسکتے ہیں :

۱۔خواتین کا کمزور ہونا :صنف نازک جسمانی اعتبار سے کمزور ہوتی ہیں ۔حق تلفی کی شکل میں اپنے حقوق کا مطالبہ عموما نہیں کر سکتی ہیں ساتھ دینے والا کوئی نہ ہوتو اپنے حق سے دست بردار ہوجاتی ہیں اور ان کے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاکر انہیں ان کے حق سے محروم کیا جاتا ہے ۔۔

۲۔ تعلیم وتربیت اور شادی بیاہ میں ہونے والے خرچ کا بہانہ بنانا: شریعت سے دوری کے سبب شادی میں جو اسراف عام ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے ظاہر ہے کہ اس قسم کے دشواریوں سے اسی وقت باہر آیا جا سکتا ہے جب ہم شریعت پہ عمل پیرا ہوں اور دین پہ عمل کریں ۔

اس کا الزامی جواب بھی ہوسکتاہے کہ اگر بچےکی تعلیم اور کسی بڑی بیماری میں مبتلا ہونے کے سبب علاج ومعالجہ میں موٹی رقم خرچ ہو تو کیا یہی رویہ روا رکھا جائے گا۔

۳۔عادات و تقالید کی اتباع : انسان جس معاشرہ میں رہتا ہے تو وہاں سے وہ متأثر ہوتاہے جاہلیت کے بہت سے اعمال آ ج کسی نہ کسی شکل موجود ہیں انہیں میں سے یہ جاہلیت مختلف سماج ومعاشرہ میں موجود ہے اور اسی سے متأثر ہوکر بہت سے مسلمان بھی اس قبیح عمل کے مرتکب ہوتے ہیں۔

۴۔مال و دولت کی زائد حرص : مال و دولت کی محبت طبعی ہے لیکن یہ جب حدسے باہر ہو تو ایسی صورت میں انسان کے دل سے اللہ کا خوف ختم ہوجاتا ہے اور وہ حلال و حرام کی تمیز بھی کھو بیٹھتا ہے اور خواتین کا میراث سے محروم کرنا اسی کا ایک مظہرہے ۔

قارئین !خواتین کو میراث سے محروم کرنے کے نتیجہ کیا ہوتا ہے :

۱۔انسان حرام مال کھاتا ہے :ظاہر ہے کہ کسی کا حق مارنا حرام ہے اور حرام طریقے سے حاصل کردہ مال حلال تو ہو نہیں سکتا ہے ۔

۲۔ظلم وزیادتی کا ارتکاب کرتاہے : خواتین کو میراث سے محروم کرنا ظلم ہے اور ہر انسان کو معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا کی ظلم وزیادتی کا بدلہ اگر دنیا میں معافی تلافی نہیں کروا لیا گیا تو قیامت کے دن ظالم کو اپنی نیکیوں میں سے مظلوم کو دینا ہوگا جہاں ایک ایک نیکی کا انسان محتاج ہوگا لیکن اس قسم کی ظلم وزیادتی کے نتیجے میں اپنی نیکیاں دوسروں کو دے گا اور اگر نیکیاں ختم ہوگئیں تو مظلوم کی برائیاں لاد دی جائے گی اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

۳۔یتیم کا مال کھانا: وارثین اگر نابالغ ہیں تو ایسی صورت میں یہ یتیم کا مال کھانے کے دائرے میں آئے گا یہ مہلکات میں سے ہے اللہ تعالی نے سورہ نساء میں اس کی سزا سنائی ہے کہ وہ آگ کھاتے ہیں اور عنقریب جہنم میں داخل ہوں گے۔

۴۔رشتوں میں دراڑ : ظاہر ہے کہ مالی معاملات میں زیادتی کرنا بغض وعداوت اور رشتے کاٹنے کا سبب ہے کتنے ایسے واقعات ہیں جہاں اس قسم کے معاملات کے سبب رشتوں میں دوریا ں پیدا ہوگئیں ہیں ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے بلکہ مالی مسائل کے سبب جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں ۔

۵۔ خواتین کے مابین غربت وافلاس کی شرح میں اضافہ:بالخصوص وہ خواتین جو سنگل مدر ہوتی ہیں جن پہ خود کی اور بال بچوں کی ذمہ داری ہوتی ہے اس کے لئے اسے تگ و دو کرنا پڑتا ہے اور مختلف قسم کی پریشانیوں سے دوچار ہوتی ہیں حالانکہ اگر اسے اس کا حق دیا جاتا تو وہ مختلف قسم کی پریشانیوں سے محفوظ رہتیں اور کرامت کی زندگی گزار رہی ہوتیں ۔

اللہ تعالی ہمیں شریعت پہ چلنےوالا بنائے۔آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے