زین العابدین بن عبدالرحمن

اس دنیا میں ماں باپ کے لیئے ان کا سب سے بڑا سرمایہ ان کی اپنی اولاد ہوتی ہے ۔اللہ نے والدین کے اندر جو اولاد کی محبت ڈالی ہے دنیا میں کسی رشتے میں یہ صفت موجود نہیں ہے نہ ہی اسکا بدل موجود ہے۔انسان جب بھی اپنے والدین پر زبان درازی کرنے لگے ,انگلی اٹھانا شروع کرے,ماں کے مقابل بیوی کو ترجیح دینے لگے تو ایک لمحہ کے لیئے ضرور سوچے کہ میرے وجود کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے کس کی محنت کی بدولت آج میں کھڑا ہوں ۔کبھی تنہائی میں غور فکر کریں کہ ایک طرف اگر ماں اپنے پیٹ میں نو ماہ سنبھال کے رکھی تھی تو دوسری طرف باپ اس بچے کے لیئے اسکی بہترین مستقبل کے لیئے محنت کرتا ہے,ماں کتنی تکلیفوں سے جنم دیتی ہے ,دو سال اپنے جسم سے لگا کر دودھ پلاتی ہے, ہر وقت اس تاک میں رہتی ہے کہ میرے بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچے ,باپ باہر کی دنیا میں دھکے کھاتا ہے کسی کی بولی سنتا ہے کئی زخمیں کھاتا ہے جس کی بدولت ماں اور بچے گھر کی چار دیواری میں سکھ کی زندگی گزارتے ہیں ۔بچوں کے کپڑے کا انتظام ,دوائی کا انتظام ,اسکول کے فیس کا انتظام ,دیگر ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیئے ماں باپ بے حد محنت و مشقت کرتے ہیں ۔اپنی کئی قربانیاں دیتے ہیں ,اپنی جائز خواہشات کو بچوں کے پیچھے مار دیتے ہیں جوانی کے دہلیز پر پہنچے کے پیچھے نہ جانے کتنی قربانیاں والدین دیتے ہیں اور بچپن سے لیکر موت کے دہلیز تک ایک والدین اپنے بچوں سے جو محبت کرتی ہے دنیا اس کو لفظوں میں بمشکل بیان تو کرسکتی ہے مگر بیان کرنے کا حق ادا نہیں کرسکتی ۔اس دنیا میں سب سے بڑا جرم اور ظلم و گناہ اگر کوئی ہے تو وہ کفر و شرک ہے مگر والدین کفر و شرک کی دعوت دیں تو صرف اس وقت ان کی بات نہیں ماننا ہے باقی تمام معاملات میں ان کا ادب ,ان سے اخلاق سے پیش آنا ان کی خدمت کرنا ,ان کی دوسری تمام باتیں ماننا فرض ہے ۔یہ حق خود اللہ نے والدین کو دیا ہے ۔اگر قرآن پر ایمان ہے تو اللہ کے اس حکم پر غور کریں کہ بڑھاپے کی عمر میں دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک پہنچ جائیں تو ان کو اُف نہیں کہنا ہے ان کے لیئے رحم کی دعا کرنا ہے ۔آج ہم اپنی گریبان میں جھانکیں اس بھیڑ کی دنیا میں ,اس مگن دنیا میں کتنے بار ہمیں والدین یاد آتے ہیں ,کتنے بار ان کے لیئے اللہ کے سامنے دعا کے لیئے ہاتھ اٹھاتے ہیں ,زندہ ہیں تو ہم ان کی کتنی خدمت کرتے ہیں کب کب ان کا سہارا بن کر کھڑے ہوتے ہیں ان کے کتنا سکھ دکھ میں کام آتے ہیں۔والدین کی چھوٹی چھوٹی اگر غلطیاں ہوجائیں تو ہمارا اس وقت کیا رویہ ہوتا ہے مگر وہیں پہ بچپن سے لیکر جوانی تک ہزاروں غلطیوں کو والدین نظر انداز کرتے ہیں ۔جب والدین کو اپنی اولاد سے کچھ امید ہوتی ہے اس وقت یہی اولاد بیوی کو لیکر گھر سے علیحدہ ہوجاتے ہیں اور صرف گھر الگ نہیں ہوتے ہیں بلکہ دل و سوچ بھی الگ ہوجاتے ہیں ۔ہمارے پیسہ سے ہماری بیوی ,ہمارے بچوں کی ضروریات زندگی تو پوری ہوتی ہے مگر کیا ان پیسوں سے کچھ والدین کو دے کر ہم ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں ؟ کیا ہم نے ان کو خوش رکھا ہوا ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اپنی زندگی میں تو خوش ہیں مگر ہم سے ہمارے والدین ناراض ہیں , وہ تڑپ رہے ہیں ,وہ اندر سے گُھٹ رہے ہیں ,وہ تنہائیوں میں قیمتی آنسو بہا رہے ہیں ؟ یاد رکھیں والدین کو ناراض کرکے ہم خوش نہیں رہ سکتے۔ ہم ان کے لیئے سب کچھ کرجائیں پھر بھی حق نہیں ادا ہوسکتا ہے تو ان کا کیا حال ہوگا جو کچھ نہیں کرتے ؟ کتنے بد نصیب ہیں وہ اولاد جو اپنی بیوں بچوں سے بات کیئے بغیر رہ نہیں سکتے مگر مہینوں ہوجاتا ہے کبھی اپنے والدین سے بات تک نہیں کرتے ؟جس طرح کھیت میں ہم اناج بوتے ہیں ان کا خیال رکھتے ہیں ,پانی ڈالتے ہیں, نقصان دہ جانوروں سے بچاتے ہیں تاکہ وقت آنے پر کھیت کی فصل سے ہم فائدہ اٹھائیں گے ۔اسی طرح والدین بھی بچپن سے بڑے ارمان سے پالتے پوستے ہیں تاکہ میرا بیٹا جب کمانے کے قابل ہوگا اور ہم معذور ہونگے تو ہمارا بیٹا ہمارا خیال رکھے گا مگر آج ہمارا معاملہ دیکھیں لیں ۔اس غلط فہمی سے باہر نکلیں کہ والدین کبھی ہمارے لیئے برا سوچتے ہیں ہمارا نقصان چاہتے ہیں ہماری ترقی سے جلتے ہیں ہم سے محبت نہیں کرتے ہمیں ان کی کسی بات یا حرکت سے غلط فہمی ضرور ہوسکتی ہے مگر حقیقت کبھی نہیں ہوسکتا ہے ۔اپنی ماضی کو بھول جائیں اور والدین کو دل سے جانیں مانیں ان کی حیات کو اپنی زندگی کا انمول دولت سمجھیں اور جتنا ہوسکے ان کی خدمت کریں ان کی ضرورتوں کو پورا کریں ان کو گلے لگائیں ان سے بات کریں ان سے معافی مانگیں اللہ سے معافی مانگیں ابھی موقعہ ہے زندگی خوشگوار بن سکتی ہے ۔والدین کو ناراض کرنا ,ناراض رکھنا بہت بڑا گناہ ہے ۔اس پر لکھنے بیٹھ جائیں تو دن رات کم پڑ جائے گا ۔مختصر کچھ قرآنی آیات کو اور چند روایت کو پیش کرتا ہوں اس میں ہم سب لیئے قابل نصیحت و قابل غور و فکر و عمل ہے ۔۔
اللہ فرماتا ہے۔

وَٱعْبُدُوا ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِ‌كُوابِهِ شَيْـًٔا وَبِٱلْوَ‌ٰلِدَيْنِ إِحْسَـٰنًا وَبِذِى ٱلْقُرْ‌بَىٰ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱلْجَارِ‌ ذِى ٱلْقُرْ‌بَىٰ وَٱلْجَارِ‌ ٱلْجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُكُمْ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورً‌ا﴿٣٦﴾…سورة النساء
‘اور تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور اہل قرابت کے ساتھ بھی اور پاس رہنے والے پڑوسی کے ساتھ اور ہم مجلس کے ساتھ بھی اور مسافر کے ساتھ بھی اور ان کے ساتھ بھی جو تمہارے مالکانہ قبضہ ہیں ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کوپسند نہیں کرتا ہے جواپنے کو بڑا سمجھتے اور شیخی مارتے ہوں ۔”

اللہ فرماتا ہے: يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلْ مَآ أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ‌ۢ فَلِلْوَ‌ٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَ‌بِينَ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْر فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ ﴿٢١٥﴾…سورة البقرة
”لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ آپؐ فرما دیں کہ جو کچھ مال تم کو خرچ کرنا ہو تو ماں باپ کا حق ہے اور قرابت داروں کا اور یتیموں کا، محتاجوں اور مسافر کااور جو نیک کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔”

اللہ فرماتا ہے: وَقَضَىٰ رَ‌بُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلْوَ‌ٰلِدَيْنِ إِحْسَـٰنًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ ٱلْكِبَرَ‌ أَحَدُهُمَآ أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْ‌هُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِ‌يمًا ﴿٢٣﴾ وَٱخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّ‌حْمَةِ وَقُل رَّ‌بِّ ٱرْ‌حَمْهُمَا كَمَا رَ‌بَّيَانِى صَغِيرً‌ا ﴿٢٤﴾…سورة اسراء
”اور آپ ربّ نے حکم دیا کہ تم صرف اس کی ہی عبادت کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو۔ اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو کبھی اُف نہ کہو (یعنی ‘ہوں ‘بھی مت کرنا) اورنہ ہی ان کوجھڑکنا اور ان سے خوب اَدب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت و محبت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرما جیسے اُنہوں نے مجھ کو بچپن میں پالا اور پرورش کی۔”

ایک حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ربّ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔سنن ترمزی حدیث نمبر ١٨٩٩۔

”عمرو بن شعیب روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرا والد میرے مال کا محتاج ہے تو آپؐ نے فرمایا: تم اور تمہارا مال، تمہارے والد کا ہے پھر آپؐ نے فرمایا: تمہاری اولاد تمہاری بہترین کمائی ہے تو تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔”
ابن ماجہ۔ ٢٢٩٠۔

اسی طرح حضرت عمروؓ بن العاص سے مروی ہے کہ ” ایک شخص نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیاکہ میرے پاس مال ہے اور صاحب ِاولادہوں اورمیرا باپ حاجت مند ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بھی اپنے باپ کا مال ہو اور تمہاری متاع بھی۔
ابن ماجہ ۔٢٢٩١

خلاصہ: موجودہ دورمیں معاشرہ انتشار اور افراتفری کا شکار ہے اور مسلمان اپنی اسلامی تعلیمات سے دور ہوتے جارہے ہیں اور آئے روز والدین کے ساتھ بدسلوکی، تشدد اور یہاں تک کہ قتل جیسے گھناؤنے جرم کا ارتکاب ایک معمول بن چکاہے۔ اللہ کی عبادت کے بعد سب سے بڑی نیکی والدین سے اچھا سلوک ہے جسے ہم مسلمان آج فراموش کرچکے ہیں ۔ آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حقوق العباد کے متعلق اسلام کی تعلیمات کو عام کیا جائے اور خصوصاً والدین کے مقام و مرتبہ کے متعلق جو احکامات ہیں ، اسے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا مختلف پروگراموں کے ذریعے عام کرے اورمعاشرے کے تمام طبقات اس معاملے میں اہم کردار اداکریں تاکہ مسلم معاشرہ میں والدین اور بزرگوں کو ان کا جائز مقام مل سکے۔ اللہ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق دے ۔آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے