- ازقلم: عمر فاروق
متعلم شعبہ ترسیل عامہ و صحافت
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد
وقت ایک گراں قدر دولت ہے اور یہ دولت تقاضا کرتی ہے کہ اسے ضائع نہ کیا جائے کیونکہ اگر انسان کی سستی یا لاپرواہی سے وقت ہاتھ سے نکل گیا تو یہ واپس نہیں آتا۔ وقت ایک قیمتی دولت ہے اور اس دولت کے استعمال کا سلیقہ آنا چاہیے اور یہ سلیقہ پابندی وقت کا دوسرا نام ہے۔ وقت کی پابندی کامیابی کی راہ اور ترقی کا زینہ ہے، تاریخ شاہد ہے کہ کامیابی و کامرانی ہمیشہ انہیں لوگوں کے قدم چومتی ہے جو وقت شناس اور اس کے قدردان ہوتے ہیں اور ہاتھ پر ہاتھ دھرنے اور خیالی پلاؤ پکانے میں مگن رہنے والوں کے خیالوں کی کوئی تعبیر نہیں اور نہ ہی وقت ان کے ہاتھ رہتا ہے۔ عربی کا مشہور مقولہ ہے. الوقت كالسيف إن لم تقطعه قطعك. وقت تلوار کے مانند ہے اگر تم اسے نہیں کاٹو گے تو وہ تمہیں کاٹ دیگا۔ یعنی ہاتھ سے گیا وقت اور کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آتا۔ اس لیے کہا گیا ہے کہ وقت لازوال دولت ہے جو اس کی قدر نہیں کرتا یہ اس کو کوسوں دور چھوڑ کر آگے نکل جاتا ہے، لیکن جو وقت کی قدر کرتا ہے وہ دنیا میں عزت و مقام حاصل کرتا ہے، کامیابی اس کا مقدر ٹھہرتی ہے اور خوشیاں قدم قدم پر اس کا استقبال کرتی ہیں۔
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں
قارئین! نظام کائنات پابندی وقت کا بہترین عملی نمونہ ہے، سورج وقت پر طلوع ہوتا ہے اور یہ خاص وقت پر غروب ہو جاتا ہے، دن اور رات اپنے مقررہ وقت پر آنا جانا کرتے ہیں۔ موسم اپنے وقت پر تبدیل ہوتے ہیں، گویا یہ سب ایک پابندی وقت کے محتاج ہیں۔ اس طرح جو طالب علم وقت کی قدر کرتا ہے، وہ امتحان میں اچھے نمبرات سے کامیاب ہوتے ہیں۔ وقت بڑا خود سر ہے، یہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا، دنیا کی کوئی طاقت اس کو اپنا تابع نہیں کر سکتی، جو اس کی قدر کرتا ہے، اس کے لیے کامیابی کا باعث بنتا ہے اور اس کو دوسروں کے لیے مشعل راہ بناتا ہے لیکن جو وقت کو نظر انداز کرتے ہیں، اس کو نشان عبرت بنا دیتا ہے۔دنیا میں انہیں قوموں نے عروج پایا ہے جنہوں نے پابندی وقت کو اپنا شعار بنایا ہے، مغربی اقوام نے اپنے ایک ایک لمحے کی قدر کی اور ترقی یافتہ ملکوں میں سر فہرست ہیں، دنیا میں کسی بھی شعبے میں اگر وقت کی پابندی سے انحراف کیا جائے تو پورا نظام تباہی کا شکار ہو جاتا ہے، ذلت اور رسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ آج ہماری زندگی میں آلات جدیدہ میں کمپیوٹر، انٹرنیٹ، موبائل، ٹیلی ویژن، بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور یہ بہت ہی مفید چیزیں ہیں اگر ان کا صحیح استعمال کیا جائے تو طلبہ برادری اور دیگر افراد کو بے شمار فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، وہیں ان کا غیر ضروری استعمال بہت سارے قیمتی اوقات ضائع کرنے کا سبب بھی بنتا ہے، ان کو ضرورت کی حد تک ہی استعمال کرنا چاہیے، ہر وقت انہی میں مگن رہ کر اپنا قیمتی وقت برباد نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ہم آج اس ملک کے طلبہ برادری پر طائرانہ نظر ڈالیں تو ہم کو ایک بڑی آبادی اپنا وقت منفی چیزوں میں صرف کرتی نظر آتی ہے ، جنہیں قوم کا معمار سمجھا جاتا ہے آج وہ اپنے مقاصد سے انحراف کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تمام لوگ اپنے وقت کا صحیح استعمال کرکے اپنا اور اپنے قوم کا نام روشن کریں اور ملک و ملت کی ترقی کا اہم ذریعہ بنیں ۔
