🖋️ قلم: (قاری) مطیع اللہ فرقانى

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ہر طرف مومن کے اندر اظہار مسرت ہے، یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس کا انتظار مومن آدمی سال بھر کرتا ہے کیونکہ یہ نیکی،برکت، بخشش، عنایت، توفیقِ عبادت زہد و تقوی، مروت، خاکساری، صدقہ، خیرات، رضائے مولىٰ، جنت کی بشارت،جہنم سے خلاصی کا مہینہ ہے یہ رب کی طرف سے ہمارے اور آپ کے لیے ایک تحفہ ہے۔

رمضان کا استقبال کیسے کریں؟

اپنے ذہن میں تصور پیدا کریں کہ جب آپ کے گھر کسی اعلیٰ مہمان کی آمد ہوتی ہے تو آپ کیا کرتے ہیں آپ کا جواب ہوگا ہم بہت ساری تیاریاں کرتے ہیں پورے گھر میں خوشیوں کا ماحول ہوتا ہے بچوں کے لبوں پہ نغمے چہرے پہ خوشی کے آثار ہوتے ہیں جب ایک مہمان کے لیے اس قدر تیاری تو مہمانوں میں سب سے اعلیٰ اور رب کی طرف سے بھیجا ہوا مہمان ہو تو کس قدر تیاری ہونی چاہیے…….

حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک سے اتنی زیادہ محبت فرماتے کہ اکثر اس کے پانے کی دعا فرماتے تھے اور رمضان المبارک کا اہتمام ماہ شعبان میں ہی روزوں کے کثرت کے ساتھ ہو جاتا تھا اور دعا کرتے تھے اللہم بارک لنا فی رجب و شعبان وبارک لنا فی رمضان۔

ماہ شعبان ماہ رمضان کے لیے مقدمہ کی مانند ہے اس میں وہی اعمال بجا لانے چاہیے جن کی کثرت رمضان المبارک میں کی جاتی ہے روزے تلاوت قران…..

توبتہ النصوح:

مثل مشہور ہے صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو بھولا نہیں کہلاتا پہلے گیاره مہینوں میں ہم نے جو کچھ کیا رب کی اس شفقت کو دیکھ کر اگر ہم اس کی طرف رجوع کریں تو رب کا دروازہ ہمیں کھلا ملے گا۔

قل یا عبادى الذین اسرفوا على انفسهم لا تقنطوا من رحمتہ الله ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا ( قرآن)

اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ بالیقین اللہ تعالی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔

لہذا ہمیں توبہ و استغفار میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ رمضان کی آمد سے قبل اپنے گناہوں سے پاک و صاف ہونا ہی اس کا صحیح استقبال ہے۔

یہی ہمیں اپنے دوستوں و احباب سے گزارش ہے کہ سب لوگ اللہ کی طرف رجوع ہو جائیں….

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے