زاہد زبیر
حیدرآباد
تین عورتیں تین کہانیاں مگر حاصل، ایک۔ رب کریم نے ہر چیز کو جوڑوں میں پیدا کیا، حتی کہ انسان کا بھی جوڑا متعین کردیا اور اس کو اپنے ہم سفر کے لئے سکون کا ذریعہ بتایا ساتھ ہی وہ سکون حاصل کرنے کے لئے وہ ساری تعلیمات دیں جو زندگی کو خوشحال بناتی ہیں۔ مگر یہ نااہل انسان اپنی تخریب کا سامان خود بٹورتا ہے اور اپنی معاشرتی زندگی کو خود آگ لگاتا ہے۔
حیدرآباد کے شاہین نگر کی رہنے والی فرحانہ، جس کی 24 سال کی عمر میں شادی ہو جاتی ہے۔ لڑکے والوں کی طرف سے خوب جہیز کی مانگ ہوتی ہے اور اس مانگ کو پورا کرنے کی کمر توڑ کوششیں کی جاتی ہیں مگر پھر بھی کچھ خلاء باقی رہ جاتا ہے ، "ایک لاکھ روپے اور ایک گاڑی” جس کا خمیازہ فرحانہ ظلم و تشدد سہ کر ادا کرتی ہے لیکن پھر بھی ادا نہیں ہو پاتا ۔ شوہر فرحانہ کو پریشان کرنے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے آزماتا ہے کبھی بند دروازے کے پیچھے بے تحاشا پیٹتا ہے ، کبھی سگریٹ کے چٹخے لگاتا ہے اور کبھی تو گٹکا کھا کر منہ پر تھوکتا ہے، ایسی حرکتیں جن کے تصور سے بھی ایک عام انسان گھن محسوس کرے ویسی حرکتیں سہنا فرحانہ کے لئے معمول بن چکا تھا۔ شوہر کے ساتھ ساتھ سسرال والے بھی ظلم کی انتہا میں کوئی کسر باقی نہ رکھتے ، کھانا بناتے وقت مرچ مسالہ چھپا دینا اور کھانا ٹھیک نہ بنانے کا الزام لگانا اور اس بنا پر اس ظلم کی ماری پر زیادتی کرنا روز مرہ کا مشغلہ بن گیا تھا۔
ایک عورت سب کچھ سہ سکتی ہے مگر اپنے شوہر کی روگردانی اور نظر انداز کرنا بالکل برداشت نہیں کرپاتی ۔ شوہر کی یہ چشم پوشی فرحانہ شادی کے دوسرے دن سے ہی جھیلتی آرہی تھی۔ ایک لڑکی جب کسی کے نکاح میں آتی ہے تو وہ اپنی عترت و عصمت اور دل و جان شوہر کے حوالے کر دیتی ہے، اپنے شوہر کے حقوق کو اپنے حقوق پر فوقیت دیتی ہے ۔ فرحانہ کی ان ساری قربانیوں کی قیمت پانچ ہزار لگائی گئی شاید یہ رقم ان کے لئے قارون کے خزانے کے مانند تھی اسی لئے شای کے بعد مہر کی یہ رقم فرحانہ سے واپس لے لی گئی اور اس کو اسکے حق مہر سے بھی محروم رکھا گیا۔ یہ تشدد صرف فرحانہ تک محدود نہ رہا ساس جو کہ ماں کا درجہ رکھتی ہے اس کو بھی پیٹا گیا فرحانہ کے بھائی کو چھری دکھا کر مارنے کی دھمکیاں دی گئیں اور تو اور فرحانہ کی چار مہینے کی معصوم سی بچی تک کو نہ بخشا گیا بچی کی عمر اور طبیعت کا لحاظ کئے بغیر کچھ بھی کھلا دینا ایک معمولی سی بات تھی جس کی وجہ سے میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی پانچ سال کی ہونے کے باوجود تندرست نہیں ہے۔ جب اولاد کی بات آتی ہے تو ایک ماں ساری دنیا سے لڑ جاتی ہے فرحانہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا فرحانہ نے اپنے شوہر اور سسرال والوں پر کیس کر دیا ۔ مگر افسوس جہاں پہلے سے ہی تقریبا سات لاکھ کیسس ملتوی ہوں وہاں اس لاچار عورت کی کون سنتا۔ پانچ سال تک سنوائی ہوتی رہی فرحانہ کو تاریخ پے تاریخ ملتی رہی مگر انصاف نہیں ملا جس کے سبب فرحانہ ذہنی مرض کی شکار ہوتی جارہی تھی اسی لئے ایک ماں نے یہ فیصلہ لیا کہ وہ یہ کیس واپس لے کر محض اپنی بچی کے لیے جئے گی ۔ آج فرحانہ کپڑے سل کر اپنی بچی کو ایک بہترین مستقبل دینے کے لئے زندگی کی جنگ اکیلی ہی لڑ رہی ہے۔
مہراج بیگم کا تعلق بھی حیدرآباد کے پرانے شہر سے ہی تھا۔ کہنے کو تو وہ دو بچوں کی 24 سالہ ماں تھی مگر باتوں سے صاف ظاہر تھا کہ اس ماں بن بیٹھی لڑکی نے اپنا بچپن ابھی پورا نہیں جیا، اپنے شوہر کی کارستانیاں بتاتے وقت وہ کانپتے ہاتھ ، لڑکھڑاتی زبان, لفظوں میں وہ ہچکچاہٹ اور آنکھوں کی وہ معصومیت سارا قصہ بیان کررہی تھی ۔ کاش یہ ابن آدم محمد عربی صلى الله عليه وسلم کا اسوہ دیکھ لیتا کہ کیسے آپ اپنی چھوٹی بیگم ماں عائشہ رضي الله عنها کے لئے بچے بن جاتے تھے ان کے ساتھ دوڑ لگاتے اور ماں عائشہ رضي الله عنها کے بچپنے میں برابر کے شریک رہتے تھے۔ ایک لڑکی جب بیاہی جاتی ہے تو وہ اپنے ماں باپ، بھائی بہن، گھر خاندان، گلی محلہ سب کچھ چھوڑ کر اپنے شوہر کے ہاں آجاتی ہے ، شادی کے بعد اس کے لئے گاہے بگاہے اپنے میکے جانا اور رشتہ داروں سے ملنا کسی گوہر نایاب سے کم نہیں ہوتا مگر مہراج کو اس بات کی بالکل اجازت نہیں تھی کہ وہ اپنے گھر والوں سے ملے یا ان سے کوئی تعلق رکھے حتی کے فون کرنے پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئیں تھیں، اگر خوش قسمتی سے کوئی رشتہ دار مہراج سے ملنے آجاتا تو اس کی باتیں دروازے سے کان لگا کر سنی جاتی تھیں۔ کہتے ہیں کہ بیٹی کا اپنا گھر اس کا سسرال ہی ہوتا ہے لیکن جب اس اپنے گھر میں بیٹی کو یہ سب جھیلنا پڑجائے تو اس سے بے گھر ہونا بہتر ہے۔
عورت گھر کی ملکہ مانی جاتی ہے گھر سنبھالنے کی باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہوتی ہے لیکن اس باگ ڈور کو سنبھالنے کے لئے اسے اپنے ہم سفر کا ساتھ بہت ضروری ہوتا ہے وہ چاہے روحانی طور سے ہو یا پھر مادی طور سے، مہراج روحانی ساتھ سے تو محروم تھی ہی مگر جو مادی ساتھ ملتا اس پر بھی ہزاروں سوال ہوتے تھے ، مہراج کو ماہانہ ۸۰۰۰ روپے ملتے تھے جس میں گھر کا کرایہ ، سودا ، بچوں کی اور خود کی ضروریات کا سامان سب شامل تھا اس چھوٹی سی رقم میں مہراج حیدرآباد جیسے شہر میں بڑی مشکل سے گزر بسر کرتی تھی اور اوپر سے یہ الزام کے پیسے جمع کر اپنے میکے بھیجتی ہے ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو طول دینا اور پندرہ پندرہ دنوں تک باتیں نہ کرنا معمول بن گیا تھا اتنا ہی نہیں بات بات پر ہاتھ اٹھا دینا مہراج کے شوہر کے لئے عام بات تھی۔ ایک دفعہ جب مہراج روزے کی حالت میں تھی چھوٹی سی ان بن پر میاں نے لوہے کی چھڑی سے ماردیا نہ بیوی کا خیال رہا نہ روزے کا ، ظلم کی انتہا تو تب ہوئی کہ باتوں باتوں میں شوہر صاحب نے بیوی کا سر اس زور سے دیوار پر دے مارا کہ مہراج خود کو سنبھال نہیں پائی بعد میں میڈیکل رپورٹ سے پتا چلا کہ آئندہ اگر تھوڑا سا بھی سر پر دھکا لگا تو بہت نازک حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ سر کے حصے میں ایک دراڑ آگئی ہے ۔ میکے والے بھی سمجھانے کے علاوہ کر ہی کیا سکتے ہیں۔ ظلم کی یہ انتہا دیکھ کر باپ سے بچے بھی سہمے ہوئے تھے۔ ایک نادان سی ماں جس کو خود دنیا کی سمجھ نہیں ہے وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے بہت پریشان ہے کہ کیا ہوگا بچوں کا۔۔۔؟
قارئین: سلطانہ بیگم کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے مگر فرق بس اتنا ہے کہ جو سلطانہ بیگم نے سہا ہے اس کو سن کر ہی انسانی روح کانپ اٹھے ، رونگٹے کھڑے ہو جائیں ، جسم میں دوڑتا گرم خون سرد پڑجائے اور سارے اعضاء حواس باختہ ہوجائیں ۔ سلطانہ بیگم چارمینار کے علاقے علی جاہ کوٹلا کی رہنے والی ہیں یہ وہ عورت ہے جس نے بچپن سے لیکر جوانی تک ظلم و زیادتی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ ان کی زندگی کی زنبیل میں خوشی کالعدم رہی، سکھ کیا ہوتا ہے سلطانہ نے کبھی جانا ہی نہیں۔ سلطانہ بیگم اپنے والد کی پہلی بیوی کی بیٹی تھی ، والد صاحب اپنی زندگی دوسری بیوی کو مان بیٹھے تو یہ سب دادا کی کفالت میں آ گئے وہاں پر چاچا چاچی کے تانے اور دیگر رشتہ داروں کے منہ سے نکلے ہوئے نشتر نما الفاظ جھیلتے ہوئے بڑی ہوئی ۔ سلطانہ بیگم نے پڑھائی مکمل کرنے کا خیال ظاہر کیا تو گھر والے شادی پر تل گئے تو سلطانہ نے والد صاحب کا رخ کیا ٹھوڑے دن تک تو معاملہ ٹھیک رہا لیکن قلیل عرصے کے بعد ہی والد صاحب بھی زور زبردستی پر اتر آئے کہ شادی کر لو۔
آخر کار سترہ سال کی عمر میں سلطانہ کی ازدواجی زندگی کا آغاز ہوا اور ساتھ ہی ظلم و تشدد کے ایک نئے باب کی ابتداء ہوئی۔ سلطانہ بیگم جب بھی آگے پڑھنے یا کوئی نوکری کرنے کی بات کرتی تو اسے یہ کہہ کر روک دیا جاتا کہ ہمارا اسلامی گھرانہ ہے ہمارے یہاں عورتیں یہ سب نہیں کرتیں ،مگر سوال یہ ہے کہ آخر یہ کونسا اسلام ہے جو یہ پڑھ کر آئے ہیں؟ جو ان سب چیزوں پر روک لگاتا ہے محمد عربی صلى اللہ علیہ وسلم جو اسلام لے کر آئے ہیں وہ اسلام تعلیم کو فروغ دیتا ہے اور بالخصوص تعلیم کے معاملے میں مساوات کی بات کرتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں تعلیم سے آراستہ ہوں، اور قرآن کریم صاف لفظوں میں اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ {وَلِلنِّسَاۤءِ نَصِیبࣱ مِّمَّا ٱكۡتَسَبۡنَۚ }
یعنی عورتوں کے لئے وہ حصہ ہے جو وہ کماتی ہیں، کمانے کی اجازت بھی دی اور ساتھ میں کمائے ہوئےمال کو ان کا حق بھی بتایا کاش کہ سلطانہ کے گھر والوں کو یہ اسلام پہنچاہوتا ۔ سلطانہ آگے پڑھنے کی بات نہ کرے اس لئے شوہر نے ان کے تمام دستاویزات آگ کی نظر کردیئے۔ ہر گھر میں کچھ بزرگانِ ملّت ایسے ہوتے ہیں جو عورت کو کمتر سمجھتے ہیں تو ایسی کچھ ہستیاں سلطانہ کے حصے میں بھی آئیں، افسوس ہے ایسے لوگوں کی سوچ پر ذرا ایک بار ہماری تاریخ پر نظر دوڑالیں تو حضرت خدیجہ , حضرت سمیہ ، اور حضرت عائشہ رضي الله عنهن جیسی باکمال ہستیوں کی دانائی اور شجاعت کے قصوں سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں جنکی نظیر ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔ جہیز جیسے ناسور سے سلطانہ بھی حراساں ہوئی ، مختلف طریقوں سے شوہر نے پریشان کیا اور ستایا۔ کہا جاتا ہے کہ انسان جب اپنی حیوانیت پر اتر آتا ہے تو وحشی درندے بھی شرما جاتے ہیں ، وہی حال سلطانہ کے شوہر کا تھا ۔ چھوٹی سی ان بن کے دوران سلطانہ کے سر پر ایک بڑا سا پتھر دے مارا جس سے سلطانہ خون میں لت پت ہوگئی ستم بالائے ستم یہ کہ اس تین دن کی بھوکی پیاسی سات مہینے کی حاملہ عورت کو جو کہ خون میں سنی ہوئی ہے اس کو سمجھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں یہ دیکھے بغیر کہ بیوی بے ہوش ہے حالت بہت نا ساز ہے ، اسی حالت میں شوہر نے انسانیت کے جامے سے باہر ہوکر درندگی کی ساری حدیں پار کر دی ، اس جلّاد نے اپنی بیوی کی ناک اور اسکا اوپری ہونٹ کانٹ دیا۔
جب محلے والوں کو اس کی بھنک لگی تو وہ سب اس بیچاری کو لے کر اسپتال پہنچے تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک خون بہتا رہا پھر MLC کی کاروائی کے بعد اسپتال میں بھرتی کروایا گیا مگر اس وقت تک سلطانہ کوما میں جا چکی تھی اور وہ تقریبا ۲۲ دن تک کوما میں رہی ۔ سلطانہ کو جب ہوش آیا تو سلطانہ اپنے ہوش میں آنے کا سوگ منا رہی تھی کیونکہ اپنے رفیقِ راہ کی ستم شعاری جھیلنے کے بعد لوگوں کے تانے کہ ضرور اس عورت نے ہی کوئی ایسا کام کیا ہوگا جس کی وجہ سے شوہر کو یہ قدم اٹھانا پڑا ، حتی کے میڈیا والوں نے بھی حقیقت سے روپوش ہوکر الگ ہی بات عوام کے سامنے پیش کر دی ، ایسے حالات میں میکے والوں نے بھی سلطانہ کو غلط ٹھہرایا ۔ ہوش میں آنے کے ٹھیک پانچ دن بعد سلطانہ نے ایک نرینہ اولاد کو جنم دیا ، اس وقت بھی سلطانہ اکیلی ہی اپنی زندگی کے مصائب و مشکلات سے جونجھ رہی تھی ، سلطانہ اپنا چہرہ دیکھنے کے بعد نہ اپنے آپ کو قبول کررہی تھی نہ ہی اپنے بچے کو ، ایسے سنگین حالات میں جس وقت سلطانہ ذہنی کمتری کی شکار تھی ، اور جس وقت اسے خودکشی کے خیالات آرہے تھے ایسے میں پورے سات مہینے گزار لئے مگر زخم تازے کے تازے رہے ، سلطانہ اپنا چہرہ دیکھ کر آئینہ توڑ دیتی تھی ، باپ کی وجہ سے اس کی اولاد کو بھی قبول کرنے سے انکار کرتی تھی اسی طرح کے نازک حالات میں ایک امید کی کرن جمیلہ نشاط کی شکل میں سلطانہ کی زندگی میں آئی۔ جمیلہ نشاط شاہین کے نام سے ایک این جی او چلاتی ہیں جو بنیادی طور پر عورتوں کے لئے کام کرتی ہے۔ جمیلہ نشاط کا سلطانہ کی زندگی سنوارنے میں ایک اہم کردار رہا جس کی سبب سلطانہ آج ایک بااختیار عورت بنکر اپنے فرزند کے ساتھ زندگی بسر کررہی ہے اور اپنے بیٹے سے یہ امید کرتی ہے کہ بیٹا ایک اچھا شہری اور ایک اچھا انسان بنے۔
قارئین: عورت ذات پر ہونے والے مظالم یہ آج کل کی بات نہیں ہے یہ صدیوں سے چلی آرہی تاریخ ہے جو اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے بس وقت بدلتا ہے اور اس وقت کی شکل بدلتی ہے مگر ظلم وہی ظلم رہتا ہے ۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہندوستان میں رسمِ ستی کے نام پر زندہ عورت کو آگ کی نظر کر دیا جاتا تھا ، عرب بیٹی کو ننگ و عار کا سبب گردانتے تھے اسی لئے اس کے پیدا ہوتے ہی بیٹی کو زندہ درگور کردیتے تھے۔ یونانی اور رومی تہذیب اپنی ترقی اور ثقافت میں اپنی حد کو پہنچی ہوئی تھیں اس کے باوجود عورت کے ساتھ جو معاملہ روا رکھا گیا لفظوں میں اس کی تصویر کشی محال ہے ۔ یونان میں عورت کی حیثیت ایک غلام سے بڑھ کر نہ تھی، عورت کو شہریت کا حق تھا نہ جائیداد میں وراثت کا ، عورت کو بس ایک جاندار کی حیثیت حاصل تھی جس کو مرد کا بوجھ اٹھانے اور اس کی حکمرانی کے لئے رکھا گیا ہے ۔ ارسطو جیسا مفکر بھی یہ خیال رکھتا تھا کہ عورت ناقص حمل کا نتیجہ ہے اسی لئے وہ کم عقل اور ادھوری ہوتی ہے۔ روم میں شوہر کو اگر اپنی بیوی پر ذرا برابر بھی خیانت کا شک ہوتا تو وہ اسے قتل کر دینا شوہر کا حق مانا جا تا تھا اور عورتوں کے ساتھ غلاموں سے بدتر سلوک کرنا عام تھا۔
نسل در نسل ظلم و زیادتی کی یہ وراثت مردوں میں منتقل ہونے لگیں جس کی بنا پر عصر حاضر کی صورتِ حال بھی ماضی سے کچھ مختلف نہیں ہے بس صورتیں بدلیں ہیں اور وقت بدلا ہے ۔ عالمی سطح پر ۳۵ فی صد عورتیں جنسی زیادتی کی شکار رہی ہیں۔ کئی لڑکیاں جہیز جیسے ناسور کی وجہ سے بن بیاہی بیٹھی ہیں ، اس ناسور پر قانون نے تو کب کا روک لگا دی اور سزا بھی متعین کر دی مگر یہ بیدار مغز سماج آج بھی اس کی مانگ کررہا ہے ، افسوس کی بات ہے کہ کہیں نہ کہیں عورت ہی عورت کی دشمن بنی بیٹھی ہے۔ National Crime Records Bureau (NCRB) کی رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریبا ۷۰۰۰ عورتیں جہیز کی وجہ سے اپنی جان گنواتی ہیں ، اس میں قتل اور خودکشی دونوں شامل ہیں ، اس کے علاوہ ۳۲ فی صد عورتیں اپنی زندگی میں گھریلو تشدد کی شکار بنتی ہیں۔
"وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں”
زن کا وجود اگر کائنات میں رنگ بھرتا ہے تو اس کی زندگی بے رنگ کیوں ہے ؟ جب یہ اپنے ساز سے زندگی میں سوز پیدا کرتی ہے تو اس کی زندگی اتنی بے سُری سی کیوں ہے جس عورت سے مرد کا ایمان مکمل کہلایا اس نے عورت کو یہ صلہ دیا
"جب جی چاہا مسلا کچلا ، جب جی چاہا دھتکار دیا”
قارئین: کیا یہی ہیں ہمارے اقدار ؟ کیا یہی ہے ہماری تعلیم یافتہ ترقی ؟ عصر حاضر میں خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے وومین امپاورمینٹ کے نام پر بہت سے نارے لگائے جاتے ہیں اور یہ بات محض ناروں تک سمٹ کر رہ جاتی ہے مگر اسلام نے کبھی نارے بازی کا سہارا نہیں لیا ، سیدھا حقدار کو اسکا حق دے کر اس کو بااختیار بنایا کمائی اور وراثت کا حق تو دیا ہی دیا ساتھ میں حسنِ سلوک بھی لازم قرار دیا ، فرمانِ نبوی ہے ” استوصُوا بالنِّساءِ خيرًا” کہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرو۔ انہیں تعلیمات کا نتیجہ تھا کہ
"تہذیب کی شمعیں روشن کیں، اونٹوں کے چرانے والوں نے
کانٹوں کو گلوں کی قسمت دی، ذروں کے مقدر چمکائے
عورت کو حیا کی چادر دی، غیرت کا غازہ بھی بخشا
شیشوں میں نزاکت پیدا کی، کردار کے جوہر چمکائے”
ضرورت اس بات کی ہے کہ عورت کو اس کے شایانِ شان عزت دی جائے ، اس کے ایثار اور قربانیوں کا اعتراف کیا جائے اور اس کے مقام کے آگے سرِ تسلیم خم کیا جائے ۔ اس کے بعد ایک ایسے معاشرے کی تعمیر ہوگی جہاں حقیقتاً سماج ترقی یافتہ اور واقعتاً علم و عرفاں کا علم بردار کہلائے گا۔
