وطن سے حقیقی خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ یہاں نفرت ختم ہو اور تمام شہری بھائی بھائی بن کر رہیں!

ڈاکٹر سراج الدین ندویؔ
ایڈیٹر ماہنامہ اچھا ساتھی ۔بجنور

دین اسلام دین فطرت ہے ،یعنی اس دین میں جو اصول و ضوابط ہیں وہ انسان کی فطرت سے میل کھاتے ہیںاور اس وقت روئے زمین پر یہی سچا دین ہے ۔یہ جامع اور مکمل نظام زندگی ہے یعنی زندگی کے ہر شعبہ کے لیے رہنمائی کرتا ہے ۔ہرمسلمان ان حقائق کو تسلیم بھی کرتا ہے اور زبانی اظہار بھی کرتا ہے مگر اس کا عمل ان حقائق کی تصدیق نہیں کرتا۔انسان جن اصولوں پر یقین رکھتا ہو اور جن کی صداقت پر اس کا ایمان ہو ان پر اسے عمل بھی کرنا چاہئے ۔ایمان کے بغیر عمل ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیرجسم ۔
سیاست جسے ہندی میں راج نیتی اور انگریزی میں پالٹکس کہتے ہیں ،وہ بھی زندگی کا ایک اہم شعبہ ہے ۔بدقسمتی سے مسلمانوں میں یہ عقیدہ گھر کرگیا ہے کہ اسلام میں سیاست نہیں ہے یا سیاست کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔گزشتہ کئی سو سال سے یہ بات اتنے زاویوں سے کہی گئی اور اتنی بار دہرائی گئی کہ آج برصغیر ہند کا دیندار طبقہ سیاست کے موضوع پر گفتگو کو غیر دینی اور لایعنی کام سمجھتا ہے اور مسجد میں اس موضوع پر کلام کرنے کو گناہ تصور کرتا ہے۔اسلام دشمن عناصر نے مسلمانوں کو ’’ذکر اللہ ہو‘‘ میں مست کردیا ہے ،اس کے ہاتھ میں جپنے کے لیے مالا دے دی ہے ،ترک دنیا کی تعلیمات معتبر کتب میں شامل کردی ہیں ۔جس کا انجام یہ ہے کہ امت مسلمہ جو غلاموں کی نجات دہندہ تھی خود غیر اللہ کی غلام ہوگئی ہے ۔ہندوستان کی بیشترمذہبی تنظیمیں مساجد میںسیاسی موضوعات پر گفتگو نہیں کرتیں ،ائمہ مساجد خطبات جمعہ میں اس موضوع پر تقریر نہیں کرتے ،سماج میں اچھے اور بھلے سمجھے جانے والے لوگ اس عمل میں دل چسپی نہیں دکھاتے ۔
اسلام کے تعلق سے جب ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں انسانوں کی رہنمائی کرتا ہے ،وہ کامل و اکمل ہے تو پھر سیاست کے بارے میں اس کی تعلیمات کوکیوں چھپایا جارہا ہے ؟صحابہ کرام ؓ کو معیار حق ماننے والے یہ بات کیوں فراموش کردیتے ہیں کہ پیارے نبی ﷺ کے سب سے جانثار صحابہؓ نے حکومت و اقتدار کی زمام بھی سنبھالی ہے اور ان کو’’ امیر المومنین ‘‘اور ’’ خلیفۃ المسلمین ‘‘ کے القاب سے نوازا گیا ہے ۔ان کی بھی ایک پارلیمنٹ تھی ،ان کے بھی وزراء تھے جن کو مختلف قلمدان دیے گئے تھے ۔خلافت راشدہ کو مثالی دور سمجھنے والے یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس کو مثالی بنانے میں سب سے اہم کردار سیاست نے ادا کیا تھا۔
نبی اکرم ﷺ نے جب نبوت کا آغاز کیا اور ایک اللہ کی بندگی کی پکار لگائی تو لوگ آپ ؐ کے دشمن کیوں ہوگئے ؟آخر کلمہ طیبہ میں ایسا کیا زہرتھا کہ آپ کے قریبی لوگ بھی اس کو پڑھنے کو تیار نہ ہوئے ،کس چیز نے مرتے وقت بھی آپ کے چچا ابو طالب کو یہ کہنے پر مجبور کیا :۔’’ بھتیجے میں اگر تمہارا کلمہ پڑھ لوں گا تو لوگ کہیں گے ابوطالب نے موت کے خوف سے بھتیجے کا دین اختیار کرلیا ۔‘‘اس کلمہ کو ادا کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کو پڑھنے اور ماننے والا اللہ کے سوا کسی کوحاکم تسلیم نہیں کرتااور محمد ﷺ کے سوا کسی کو آئیڈیل نہیں مانتا ۔صرف یہی نہیں کہ اپنی ذات کی حد تک ایسا کرتا ہے بلکہ وہ دوسروں کو بھی اس کلمہ کی دعوت دیتا ہے اور اس راہ میں اپنا سب کچھ نچھاور کردیتا ہے ۔ورنہ اللہ کے رسول ؐ کو کس چیز کی کمی تھی ،اس دعوت سے باز رہنے پراہل مکہ نے آپ ؐ کو مال و دولت اور جاہ و منصب کی پیش کش کی تھی۔ ،مگر آپ ؐکے نزدیک وہ کیا ہدف تھا جو ان کی پیش کش سے بھی عظیم تر تھا۔وہ ہدف یہ تھا کہ :۔’’ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ ہو ،اللہ کے بندے غیروں کی غلامی سے نجات پائیں اور ایک اللہ کے سامنے جھک جائیں۔‘‘غور کرنے کا مقام یہ ہے کہ کیا یہ ہدف حکومت و اقتدار کے بغیر حاصل ہوسکتا تھا یا آج بھی حاصل ہوسکتا ہے ؟
مدینہ پہنچنے کے بعد آپ ؐ نے اسے ایک ریاست کا درجہ دیا ،آپؐ وہاں کے پہلے حاکم مقرر ہوئے ،مدینہ سے باہر جاتے وقت ہمیشہ آپ ؐ وہاں ایک حاکم متعین فرماتے،جو علاقے مفتوح ہوتے گئے وہاں آپ نے والی اور حاکم مقرر فرمائے ،یہ حکام صرف نماز کے امام نہ تھے بلکہ بلدیہ کے نظم و نسق اور عدلیہ کے نگران تھے ۔آپ ؐ کے بعد آپ کی تدفین سے پہلے جو کام سب سے پہلے کیا گیا وہ اسلامی ریاست کے حکمران کا انتخاب تھا جسے ہم خلیفہ کہتے ہیں ۔اس کے بعد یہ زریں سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک مسلم خلفاء یا حکمران خود کو اللہ و رسول کی تعلیمات کا پابند بنائے رہے ۔جب ان کے اندر خود غرضی ،مفاد پرستی اور عیش و عشرت کی قباحتیں پیدا ہوگئیں تو اقتدار پر سے ان کی گرفت ڈھیلی ہوتی چلی گئی ۔مگر اللہ کے دین کے نتیجہ میں ایک طویل مدت تک اسلام کی نہ سہی، مسلمانوں کی حکومت قائم رہی ۔1857تک ہندوستان میں سلطنت کو بچانے کے لیے علماء نے جان کی بازی لگائی ۔خلافت کے احیاء کے لیے کوششیں کیں ۔لیکن اس کے بعد خدا جانے علماء کو کیا ہوگیا کہ وہ حکومت و سیاست سے کنارہ کش ہوکر عافیت گاہوں میں گوشہ نشین ہوگئے اور سیاست کو غیر دینی عمل سمجھنے لگے ۔
آزادی کے بعد موجودہ الیکشن میں پہلی بار مذہبی قیادت کی جانب سے ائمہ مساجد کو یہ ہدایت نامہ جاری ہوا ہے کہ وہ جمعہ وعید کے خطبوں میں ووٹ کی اہمیت پر بات کریں اور ووٹنگ کے دن ووٹ ڈلوانے میں مدد کریں ۔یہ اپیل دیگر جماعتوں کے علاوہ جمعیۃ العلماء کی جانب سے بھی ہوئی ہے ۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم جناب حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی مدظلہ العالی کی جانب سے بھی اسی طرح کا ایک آڈیوپیغام موصول ہوا ہے ۔اس پیغام میں اسے قومی و ملی کے ساتھ دینی فریضہ بھی کہا گیا ہے اور ائمہ و خطباء سے انتخابی عمل میں تعاون کی گزارش کی گئی ہے ۔حضرت والا کا یہ بیان بہت قابل قدر ہے ۔میں سمجھتا ہوں کہ اس بیان سے مسلمانوں کی سوچ اور فکر میںمثبت تبدیلی آئے گی۔ الیکشن ،انتخاب اور سیاست کے متعلق یہ غلط فہمی کسی حد تک دور ہوگی کہ یہ غیر دینی عمل ہے ۔مجھے یہ بھی امید ہے کہ آئندہ ہماری دینی قیادت عملا ً سیاست میں حصہ لے گی اور ایوان حکومت میں قدم رکھے گی ۔
موجودہ پارلیمانی انتخابات کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ۔اس بات سے بھی ہر باشعور فرد واقف ہے کہ اس الیکشن کے نتائج ملک کا مستقبل طے کریں گے ۔اگر فاشزم کو شکست نہ دی گئی تو آنے والا وقت انصاف پسندوں ،کمزوروں ،پسماندہ طبقات اور اقلیتوں بالخصوص امت مسلمہ کے لیے غلامی کا ایک طویل دور لائے گا ۔وطن عزیزمیں اللہ کو سجدہ کرنا دشوارتر ہوجائے گا ۔یہاں متوسط اور کمزور طبقات کے لیے زندگی اجیرن ہوجائے گی ۔اس انتخاب میں شعور کے ساتھ اور تمام ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر اپنا کردار ادا کیجیے ۔ملکی قانون نے جو دستوری آزادیاں عطا کی ہیں ان کو باقی رکھنے کے لیے سیکولر عناصرکو فتح سے ہمکنار کیجیے ۔اسی کے ساتھ غلبہ اسلام کی جدو جہد میں بھی شرکت کیجیے۔سب سے پہلے اپنی زندگی کو اسلام کے سانچے ڈھالیے اوراپنے گھروں میں نظام اسلامی نافذ کیجیے ،اس کے بعد اپنے حلقہ اثر میں ملک کے موجودہ قوانین کی روشنی میں اسلام پر عمل کیجیے ۔برادران وطن سے سچی محبت اوروطن عزیز سے حقیقی خیرخواہی کا تقاضا ہے کہ یہاں نفرت ختم ہو اور تمام شہری بھائی بھائی بن کر رہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے