محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک۔
۱۔ تیسر اوجود
جیسے ہی پتہ چلاکہ دونوں صحافیوں میں اَن بَن ہے تو تیسرے صحافی کی خوشی دیکھنے لائق تھی۔ کچھ ہی گھنٹہ بعد وہ دوسرے صحافی کے پاس بنفس نفیس پہنچ گیااورپہلے صحافی کے خلاف کان بھرنے لگا۔
آدھاگھنٹہ بعد جب تیسرا صحافی وہاں سے اٹھ کر گھر کی طرف واپس جارہاتھاتو اس کی خوشی کی انتہانہیں تھی۔ بہت دِنوں سے پہلے صحافی کونیچا دِکھانے کاموقع ہاتھ نہیں آرہاتھا،اب مزہ آئے گا۔جو بھی وہ لکھے گا اس نیوزکے خلاف والی نیوز تیار رہے گی۔ الیکشن کازمانہ ہے بھائی،اپناوجود ثابت کرنے کے لئے کچھ تو کرنا پڑے گا۔ایسے ہی بیٹھانہیں رہاجاسکتا۔
۲۔ درد کا میلہ
روز کامعمول تھاکہ پاؤں چلنے سے معذور تھے۔ سر درد سے پھٹاجارہاتھا۔ دل کو بھی چین نہیں تھا۔ ہرتیسرے چوتھے دن اپنی تکلیف کااظہار کردیاکرتاتھا۔ رضوانہ امین کی زندگی پوری طرح درد کے پنجوں میں دبی ہوئی تھی۔
لیکن جب وہ خدا پورے خشوع و خضوع کے ساتھ رب کے حضور سجدہ کرتیںتو انہیں ایسا لگتاکہ درد ورد رفوچکر ہوچکاہے اور وہ آرام دہ جھولے میں جھول رہی ہیں۔ نماز ختم ہونے کے آدھاگھنٹہ بعد سبھی در د رضوانہ امین سے پھر سے ملنے چلے آتے۔
۳۔ الوگر
حملہ ہوچکاتھا۔ حملہ شدید تھا۔کہاجارہاتھاکہ اس حملے سے پوری دنیا ہل کر رہ گئی ہے۔ چینل ، اخبارات اور سوشیل میڈیااس حملہ سے بھرے پڑے تھے۔ مسلم صحافیوں کے قلم کی حالت اس قدر پریشان کن تھی کہ ایک مولانا صحافی نے تیسری عالمی جنگ کے آغاز کاخطرہ ظاہر کردیاتھا۔ ہرطرف ہاہاکار ، چِلّاپِلّی اور دہشت تھی۔
دودن بعد پتہ چلاکہ اس شدید حملے میں دولوگ اورایک لڑکا ہلکا سازخمی ہواہے۔کسی بھی قسم کا دیگرنقصان نہیں ہواہے۔۔۔۔؟؟!!
لوگ سوچ رہے ہیں کہ اگر اتنا ہی کچھ ہواہے تو پھرساری دنیا ہل کر کیوں رہ گئی تھی؟کیا دنیا نے ڈرامہ اسٹیج کرنا سیکھ لیاہے ؟ کیادنیا بھر کی سیاسی اور ملکی طاقتیں اپنے اپنے شہریوں اور ہم تمام کو الو بنارہی ہیں ؟
۴۔ جنبشِ سر
ہر طرف انتخابات کی تیاری چل رہی تھی ۔ لوگ اس کو’’ انتخابی بہار‘‘ کہہ رہے تھے اورمیں سوچ رہاتھاکہ واقعی بہار آئی ہوئی ہے۔ ہر شخص فروخت ہونے تیار بیٹھاہے۔پیسہ ، شراب ، گانجہ ، افیون ، کی ہر جانب بہار ہی بہار ہے۔ پولیس یہ سب چیزیں بڑی مقدار میں پکڑ رہی ہے۔ مٹادھیش ، مشائخ ، علماء ، بھکشو سبھی کامان سمان ہورہاہے۔ میں نے ایک بھکشو سے پوچھا’’یار، تم لوگ ایک نظریہ کے تحت بھکشو بن
جاتے ہو ، کیا اس نظریہ میں یہ بھی ہے کہ وقت آنے پرآیافروخت بھی ہوسکتے ہیں؟
بھکشو نے میری طرف گھور کر دیکھااور سر کی جنبش سے ’نہیں ‘ کہا۔ میں ہنس پڑا اور ہنستے ہوئے وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ وہ یقینی طورپر سوچ رہاہوگاکہ میں نے کس پاگل کے سوال کاجواب دے دیا۔ سرکو جنبش نہ دیتاتو اچھاتھا۔
