از: ذوالقرنین احمد

ہندوستان میں 2024 کے لوک سبھا انتخابات کا آغاز ہو چکا ہے جو 7 مرحلوں میں ہوگے۔ اس انتخابات کے پہلے مرحلے کی کی ووٹنگ 19 اپریل کو ہوچکی ہے۔ اس انتخابات کے آخری‌ مرحلہ کی ووٹنگ 1 جون کو ہے اور نتائج 4 جون کو سامنے آئے گے۔ 2014 میں بی جے پی کی حکومت سازی کے بعد سے ملک میں اقلیتوں کے ساتھ خاص طور سے مسلمانوں کے لیے ماحول سازگاز نہیں رہا ہے ہر آئے دن اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد آر ایس ایس اور اسکی مُختلف ذیلی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مجرموں، ذہنی بیمار ، نفرتی عناصر، دہشتگردوں کے حوصلے بڑھ گئے ہے اور وہ خود کو قانون عدلیہ کے خوف سے مستثنیٰ سمجھنے لگے۔ ملک میں کرونا وائرس جیسی وبائی بیماری کے وقت بھی بی جے پی نے ملک میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا اور تمام اکثریت سے تعلق رکھنے والی عوام کے ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف بکاؤ میڈیا کے ذریعے نفرت کا ذہر بھر دیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کو سماجی مسائل و پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا کئی بستیوں میں مسلمانوں کی آبادی پر اس قدر ظلم و ستم کیا گیا اور انہیں انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا ذہنی ٹارچر کیا گیا جس سے گھرکے ذمہ دار افراد ذہنی مریض بن گئیں۔

بی جے پی نے ملک کی ایک کمیونٹی کو خوش کرنے کے لیے مسلمانوں کو تختہ مشق بنایا۔ مسلمانوں کے خلاف قانون سازیاں کی، مسلمانوں کو مین اسٹریم سے دور رکھنے کے لیے انتہائی بے غیرتی کا مظاہرہ کیا۔ اور فلحال گزشتہ دنوں ملک کے وزیراعظم مودی نے انتخابی بھاشن میں مسلمانوں کے خلاف زہریلی نفرتی ذہنیت مظاہرہ کیا۔ تاکہ ہندو ووٹوں کو آسانی سے حاصل کیا جائے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر بھی ان بھاجپائیوں کا اہم مدعا ہے جس کے نام پر یہ ووٹ وصول کرنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی اتنی نچلے درجہ کی سیاست پر اتر آئی ہے کہ یہ انسانوں کے خون سے اپنی پیاس بجھانا چاہتی ہیں اور وہ جان چکے ہیں کہ دنیا بھر میں سب سے سستا خون مسلمانوں کا ہو چکا ہے ہر طرف سے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ لیکن ہمیں ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں سیاسی شعور کا مظاہرہ کرنا ہے۔

مسلم علاقوں اور سوشل میڈیا حلقوں میں یہ خوف و ہراس کا ماحول دیکھنے سننے اور پڑھنے مل رہا ہے کہ اگر بی جے پی 2024 میں جیت حاصل کرلیتی ہے تو یہ انتخاب ملک کا آخری انتخاب ہوگا، جمہوریت کا خاتمہ ہوجائے گا، قوانین تبدیل کردیے جائیں گے، مسلمانوں کی شہریت چھین لی جائیں گی، مسجدیں محفوظ نہیں رہیں گی، وغیرہ وغیرہ باتیں ہمارے علاقوں میں ہورہی ہیں۔ سب سے پہلے بات یہ کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہے ہمارا مقصد آخرت ہے اور رہا دنیا کا معاملہ تو یہ دنیا مسلمانوں کے بغیر چل نہیں سکتی تو ایک ملک ہندوستان مسلمانوں کے بغیر کیسے چلے گا۔ مثال کے طور پر بی جے پی کو ہی لے لیجئے ان کے تمام لیڈروں صحافیوں کا کارکنوں کا گھر بار مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے سے چلتا ہے ، ہوسکتا ہے کہ ظالم اپنی آخری حد پار کرلے چاہے وہ انسانیت سوز جرائم پر اتر آئے لیکن ہمیں اللہ پر بھروسہ اور کامل یقین رکھنا چاہیے کہ وہ حالات کو بدلنے پر قادر ہے ہماری بے چینی اور حالات کے مطابق فکر مند ہونا ضروری ہے،لیکن خوف زدہ ہوجانا اور مغلوب ہوکر ظالم حکومت کے سامنے جھک جانا اپنے‌ آپ کو ظالم کے حوالے کردینا خود کو بے اس لاچار محسوس کرنا مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے ہم ایک غیرت مند قوم ہے ہماری شان ہمارے ایمان کی وجہ سے بلند و برتر ہیں، چاہیں جو کچھ بھی ہوجائے ہم ہمت ہارنے والے نہیں ہے تاریخ گواہ ہے ہم جب میدان میں آتے ہیں تو شہید ہوتے ہے یا پھر غازی بن کر فتحیاب ہوکر لوٹتے ہیں۔ ہمیں ڈرنے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور ناہی مستقبل کے بارے میں اپنی قوم کو بے ہمت و بے بس کرنا ہے بلکہ ہمیں آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مضبوط ہونے کی ضرورت ہے، ہمیں اور میدان میں نمایاں کارکردگی انجام دینے ہوگی ہمیں اپنے‌ بچوں خواتین نوجوانوں وغیرہ کو حالات کے مقابلہ کے لیے تیار کرنا ہوگا انھیں مستقبل کے چیلنجوں سے باخبر کرتے ہوئے مشکل حالات میں کیسے زندگی جینا ہے اس کی عملی مشق اور تیاری کروانی‌ ہوگی ہر طرح کے حالات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

یہ انتخاب ملک کے لیے اہم اس لیے ہے کیونکہ یہاں جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش جاری ہے اور سسٹم کے تمام عہدوں پر سنگھی فرقہ پرستوں کو بٹھا دیا گیا ہے۔ جو انسانیت کے دشمن ہے اس لیے اس انتخابات میں مسلمانوں کو بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ اپنے حق رائے دہی یعنی ووٹ کا استعمال کرنا ہوگا اور ووٹ پھوٹنے سے بچنا ہوگا یعنی اپنی پسند یا اپنے پسندیدہ لیڈر یا کسی اپنے قریبی گلی محلہ کےیوا نیتا، جو صرف سوشل میڈیا پر فوٹو ڈال کر سمجھتا ہے کہ میں لیڈر ہو ایسے افراد کے بہکاوے میں نہ آئے بلکہ پہلے اپنے گھر پر ہی اپنے گھر والوں کو سمجھائے محلہ والوں کو سمجھائیں دوستوں کو سمجھائیں اور حقیقت حال کا جائزہ لیں کہ ملک کتنے خطرناک موڑ پر کھڑا ہوا ہے ، نوجوان پڑھ لکھ کر بے روزگار ہیں ہاتھوں میں ڈگریاں لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے، لڑکیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک ہورہا ہے خواتین کا استحصال کیا جا رہا ہے ، بچیں عدم غذائیت کاشتکار ہیں بزرگ بے یار و مددگار ہے، کسان خودکشیاں کر رہے ہیں مزدور دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں ہر کوئی اس بی جے پی حکومت سے پریشان ہوچکا ہے جس نے ملک کے کل خزانہ کے 80 فیصد کا مالک اپنے قریبی سرمایہ داروں کو بنادیا ہے جس کی وجہ سے ملک کا پیسہ چند فیصد لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اور وہ کرپشن ، سودی بینکاری کے ذریعے لوگوں کو اپنا غلام بنانے کی کوششیں میں لگے ہوئے ہے۔ اس لیے ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے‌ اپنے لوک سبھا حلقہ میں ایسے امیدوار کو ووٹ دے جو بی جے پی کے خلاف انڈیا الائنس کا امیدوار ہو یا اپنی ریاست کے مطابق مہایوتی کے تحت مضبوط امیدوار ہو جس حلقہ میں دو مسلم امیدوار اپوزیشن میں ہو اور اگر وہ کسی بڑی پایہ دارسیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے ہیں یا انہیں صرف اس لیے کھڑا کیا گیا ہے کہ مسلم ووٹوں کو تقسیم کرکے بی جے پی یا ان کے اتحادی کو اس کا فائدہ پہنچے تو ایسے حالات میں بھی انڈیا الائنس کے امیدواروں کو ہی اپنا ووٹ دیں ، اگر کہیں مسلم اکثریتی والا حلقہ ہے وہاں مضبوط مسلم امیدوار کا ساتھ دیں اس کے خلاف اگر مسلمان امیدوار کھڑا ہے یا کوئی بھی پارٹی کا ہو اس کا ساتھ نہ دیں بلکہ وہاں کے پہلے والے زمینی سطح پر کام کرنے والے مسلم امیدوار کو متحد ہوکر ووٹ دیں ووٹوں کو ہر گز تکڑے تکڑے نہ ہونے دے۔ یہی ہمارے حق میں بہتر ہوگا ۔ چاہے کوئی کتنا بھی قریبی آپ کو لالچ دے یا آپ کو بڑا پن دے اسٹیج پر جگہ دے یا سیلفی کا موقع دے اس کو صرف تسلی دے لیکن آخر میں جب آپ ووٹ کاسٹ کرنے جائے تو وہاں اپنے مسلمان بھائیوں ،بہنوں، بچوں،بزرگوں کے مستقبل کے حالات کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنا ووٹ بی جے پی کے خالاف مضبوط اپوزیشن امیدوار کو دے اور زیادہ سے زیادہ ووٹنگ فیصد بڑھانے کی کوشش کریں آزاد امیدوار جو بے بھروسہ ہو اور انڈیا الائنس کے خلاف کھڑا ہوا ہو چاہے مسلمان کیوں نہ ہو اسے ووٹ نہ دے کیونکہ آخر میں بی جے پی ایسے لوگوں کو پیسوں سے خرید لیتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے