ابو احمد مہراج گنج

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جھوٹ کے تین درجے ہوتے ہیں جھوٹ،سفید جھوٹ اور اعدادوشمار ۔اپنے پیارے ملک بھارت کے انتخابی موسم میں تقریباً تینوں قسم کے جھوٹ کا استعمال بڑے سلیقے اور قرینے سے ہوتا رہا ہے۔مگر رواں انتخابی سال میں اس جھوٹ گوئی نے نئے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں ۔اور جھوٹ بولنے والوں نے جھوٹ بول کر جھوٹ کے پسینے چھڑا دئیے ہیں اب بے چارہ جھوٹ بھی پریشانی میں ہے کہ میرا وجود کیا تھا میں صرف جھوٹ تھا یا سفید جھوٹ تھا یا اعداد و شمار والا جھوٹ تھا۔مگر اس جھوٹ کو اپنے بولنے والے سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہورہی ہے کہ مبادا وہ میرے وجود ہی کو نہ جھٹلادے۔کیوں کہ جب جھوٹ بولنے والا اپنے بولنے کے شباب پر ہو تو وہ اس طرح سے دلیل وحجت کا استعمال کرتا ہےکہ سننے والا یہ جانتے ہوئے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے اعتبار کرلیتا ہے ۔جیساکہ وسیم بریلوی صاحب نے کہا ہے ۔

وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سے
میں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

اور جسے جھوٹ کو سلیقے کے ساتھ بولنے کا ملکہ پیدا ہوجاے۔جھوٹ کو سچ بناکر پیش کرنے کا طریقہ آجاے تو جھوٹا شخص کسی کو بھی لاجواب کردیتا ہے۔جیسا کہ پروین شاکر نے کہا ہے ۔

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کردے گا ۔

آجکل بھارت کے انتخابی ریلیوں اور جلسوں کا بھی یہی حال ہے کہ ایک شخص اپنے جھوٹ بولنے کے ہنر سے سب کو لاجواب بنا کر رکھ دیا ہے۔
اس الیکشن میں جھوٹ بولنے والوں کو جس قدر پذیرائی حاصل ہورہی ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا کہ آنے والے دنوں میں جھوٹ گوئی کا اگر کوئی عالمی سطح کا مقابلہ ہو تو ہمارے والے جھوٹے بڑے بڑے جھوٹ بولنے والوں کو پچھاڑ کر خطاب اپنے نام کرلیں گے ۔کیوں کہ ہمارے والے جب جھوٹ بولتے ہیں تو لوگ دل دماغ گھر پر رکھ کر ان کا جھوٹ سننے جاتے ہیں ۔اور واپسی میں کہتے ہیں

جادو ہے یا طلسم ہے تمھاری زبان میں
تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا۔

سیاست اور وہ بھی تخریبی سیاست ایک ایسی دنیا ہے جہاں جاکر آباد ہونے کے بعد ۔شرم وحیا،ندامت اور پشیمانی جیسے الفاظ صرف در و دیوار پر نقش ونگار کے کام آتے ہیں اصل زندگی میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے ۔اسی لئے سیاست دان عزت۔عصمت سے کھیلنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کرتا،لوٹ مار رہزنی اور ڈاکہ زنی کرکے بھی اسے پشیمانی نہں ہوتی ۔سچ ہی کہا ہے کسی نے۔

ایسا بدلا ہوں تیرے شہر کا پانی پی کر
جھوٹ بولوں تو ندامت نہیں ہوتی مجھ کو۔

اللہ پاک اس ملک کو بے ضمیر رہنماؤں سے نجات دلاۓ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے