ابو احمد مہراج گنج

میرا خیال ہے کہ بھارت میں شرح خواندگی گزشتہ دس بارہ سالوں میں ترقی کے بجائے معکوس ہوگئی ہے ۔اور اتر پردیش اس ڈگر پر چلنے میں سب سے زیادہ بہتر کارکردگی کا ریکارڈ بنا رہا ہے ۔یہ سب ہوا ہوائی باتیں نہیں ہیں بلکہ گزشتہ دنوں اتر پردیش کے جونپور میں واقع ویر بہادر سنگھ پوروانچل یونیورسٹی سے ایک خبر آئی ہے کہ ڈی فارما یعنی ڈپلوما ان فارمیسی کے طلباء میں سے چار طالب علموں نے سوالات کے جواب دینے کے بجائے اپنی کاپیوں میں جے شری رام، ہاردک پانڈیا،  روہت شرما اور ویراٹ کوہلی لکھا تھا ۔اور وہ طلباء 50 فیصد نمبروں سے پاس بھی ہو گئے ۔

بھائی یہی تو آج کل اتر پردیش کا ایجوکیشن ماڈل ہے ۔اب آپ اپنا سر پکڑ کر سوچئے کہ یہ طلباء اپنی ڈگری پوری کرنے کے بعد گاؤں دیہات اور قصبوں میں میڈیکل اسٹور سے آپ کو دوائیں دینے والے ہیں۔ جنھوں نے اپنے سوالات کی کاپی کو جے شری رام اور ویراٹ کوہلی، روہت شرما اور ہاردک پانڈیا کے نام سے بھر رکھا ہے ۔ اسی لئے میں نے اس مضمون کا عنوان لگایا ہے کہ

لفظ و منظر میں معانی کو ٹٹولا نہ کرو

ہوش والے ہو تو ہر بات کو سمجھا نہ کرو

وہ تو بھلا ہو اویسی صفت (سوال پوچھنے والے) لڑکے کا جس نے یو نیورسٹی کے چانسلر یعنی اتر پردیش کے گورنر سے آر ٹی آئی کے ذریعہ دوبارا جوابات کی کاپیاں چیک کرنے کی گزارش تو یہ خلاصہ سامنے آیا ۔کہ پربھو شری رام سیاست کے علاوہ یونیورسٹیوں کے امتحانات میں بھی شاندار کامیابی کی ضمانت بن گئے ہیں ۔لیکن جب کاپیاں ریچیک ہوئیں تو پربھو شری رام نے من بڑھ بھکت کی لنکا لگا دی ۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر اب بھی ہم نہیں سمجھ سکتے تو پھر ہم کب سمجھیں گے ۔

سوچو آخر کب سوچیں گے ۔

ایک قیامت در پر ہوگی۔

موت ہمارے سر پر ہوگی تب سوچیں گے ۔سوچو آخر کب سوچیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے