ڈاکٹر سراج الدین ندویؔ
ایڈیٹر ماہنامہ اچھا ساتھی۔بجنور
مسلمان ہونے کے لیے تقدیر پر ایمان لانا ضروری ہے ۔تقدیر پر ایمان ہمارے اندر صبر و رضا کی کیفیت پیدا کرتا ہے ۔برے حالات میں بھی جینے کا حوصلہ عطا کرتا ہے ۔وطن عزیز میں اس وقت مسلمان جن حالات کا سامنا کررہے ہیں اس کی وجہ سے ان کی اکثریت پریاس و قنوطیت چھائی ہوئی ہے۔حالات سے لڑنے اور ان کو بدلنے کے لیے کوئی جوش و خروش ان کے اندر نہیں پایا جارہا ہے ۔ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور ان سے سمجھوتا کرلیا ہے ۔ناامیدی کی اس کیفیت میں مزید اضافہ ’’ تقدیر ‘‘ کے بارے میں غلط عقائدو نظریات نے کیا ہے۔وہ اپنی کوتاہیوں ،کمزوریوں اور غلط فیصلوں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے ’’اللہ کی مرضی‘‘ کو ان حالات کا ذمہ دار گردان رہے ہیں ۔اس لیے تقدیر کیا ہے ؟اس کا دائرہ کار کیا ہے ؟اور انسان کن امور میں مجبور ہے اور وہ کون سے امور ہیں جن میں اسے پسند و ناپسند کی آزادی حاصل ہے ؟اس کا جاننا بہت ضروری ہے۔
"قدر” یعنی تقدیر سے مراد اللہ تعالیٰ کا اپنے علم اور حکمت کے مطابق ساری کائنات کا ان کے وجود سے پہلے اندازہ اور فیصلہ کرنا ہے۔تقدیر پر ایمان چار امور پر مشتمل ہے:
(1)اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالیٰ ازل سے ابد تک ہر چیز سے اجمالا اور تفصیلا واقف ہے،چاہے اس کا تعلق خود اپنے اعمال سے ہو،یا اپنے بندوں کے افعال سے۔
(2)اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالیٰ نے سب کچھ لوح محفوظ ،یعنی نوشتہ تقدیر میں لکھ رکھا ہے۔انہی دو امور کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اَلَم تَعلَم اَنَّ اللّہ یَعلَمْ مَا فِی السَّمَآئِ وَالاَرضِ . اِنَّ ذٰلِک َ فِی کِتَابٍ ۔ اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّہ یَسِیر
ترجمہ: کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے یہ سب کتاب میں لکھا ہوا ہے یہ اللہ پر آسان ہے (سورہ الحج،آیت 70)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
"اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیریں آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے ہی لکھ دی تھیں اور اس کا عرش پانی پر ہے۔”(صحیح مسلم)
(3) اس بات پر ایمان کہ تمام کائنات صرف اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی سے وقوع پذیر ہے،خواہ اس کا تعلق خود باری تعالیٰ کے اپنے عمل سے ہو یا مخلوقات کے افعال و اعمال سے۔اللہ تعالیٰ اپنے عمل کے بارے میں فرماتا ہے:
وَرَبُک یخلُقُْ مَا یَشَآء ْ وَیختَارُ ترجمہ: اور تیرا رب جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہے پسند کرے (سورہ القصص،آیت 68)
(4)اس بات پر ایمان کہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کردہ ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے۔اللَّہْ خَٰالقْ کْلِّ شَیء وھو علیٰ کل شیء وکیل (سورہ الزمر،آیت 62)ترجمہ:اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے ۔
تقدیر یا قسمت پر ایمان لانے کا معاملہ ازل سے ہی انسانوں کے درمیان اختلاف رائے کا باعث رہا ہے، بہت سے لوگوں نے تقدیر کا سرے سے انکار کیا ہے ان کے نزدیک نہ خدا ہے ،نہ کوئی تقدیر ،یہ الحاد و دہریت کا نظریہ ہے ۔اس نظریہ کو ماننے والے سماج میں بہت کم ہیں۔جو لوگ کسی بھی مذہب کو مانتے ہیں وہ سب لوگ تقدیر کومانتے ہیں ۔کچھ لوگوںنے تقدیر یا قسمت ہی کو سب کچھ مان لیا اور تدابیر و اسباب سے ہاتھ چھڑا کر بیٹھ گئے ۔یہ بھی ہلاکت و بربادی کا راستہ ہے ۔اسلام ان دونوں کے درمیان کا ایک راستہ بتاتا ہے ۔وہی راستہ سیدھا اور سچا ہے۔
قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس بات کو دل سے مانیں کہ دنیا میں جوکچھ ہو چکا ہے اور جو ہورہا ہے اور جو مستقبل میں ہوگا، ان سب کا علم اللہ کو ہے اور اس کو یہ علم ان تمام امور کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کے بارے میں مفصل طور پر لکھ رکھا ہے کہ اس چیز کا آغاز وانجام کیا ہوگا۔ یعنی اس کی تمام جزئیات کو بھی اللہ نے لکھ دیا ہے اور لکھنے کا یہ عمل آسمان وزمین اور ان کے مابین جوکچھ ہے، سب کی تخلیق سے پہلے ہی مکمل کرلیا گیا تھا اور جو کچھ ہورہا ہے وہ اسی کے مطابق ہورہا ہے اور آئندہ جو کچھ ہوگا وہ بھی اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق ہی ہوگا۔
صحابہ کرامؓ اور ہر دور کے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہی رہا اور قیامت تک رہے گا۔ مختصراً تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات دل سے مانی جائے کہ اللہ نے جو چاہا ہوا اور جو نہیں چاہا نہیں ہوا۔ اگر کسی امر کو نافذ کرنے پر تمام انسان وجنات مجتمع ہو جائیں اوراللہ نہ چاہے تو اس کا نفاذ یا یوں کہئے کہ اس کو وجود میں لاناممکن نہیں اور اللہ جس چیز کو وجود میں لاناچاہے اگر اسے سارے انسان وجنات مل کرروکنا چاہیں تب بھی وہ چیز ہو کررہے گی ۔
اب سوال یہ ہے کہ جب سب کچھ اللہ تعالیٰ کے پہلے سے لکھے ہوئے منصوبے کے مطابق ہونا ہے تو پھر انسانوں سے مآخذہ کیوں ہوگا ؟اسے آخرت میں سزائیں کیوں دی جائیں گی یا دنیامیں بھی مجرموں کو سزائیں کیوں دی جاتی ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو اللہ نے کلی طور پر مجبور نہیں بنایا ہے بلکہ بعض امور و معاملات میں اسے اختیار کی آزادی دی گئی ہے ۔انسان سے بازپرس صرف ان ہی امورمیں ہوگی جن میں اسے اختیار کی آزادی حاصل ہے ۔مثال کے طور کوئی بچہ کہاں پیدا ہوگا ؟اس کے والدین کون ہوں گے ؟اس کی ظاہری شکل و شباہت کیسی ہوگی ؟یہ سب پہلے سے مقدر کردیا گیا ہے یعنی اس میں انسان کوآزادی و اختیار حاصل نہیں ہے ۔اسی طرح انسان اپنے اعضاء جسمانی سے وہی کام لے سکتا ہے جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں ۔مثال کے طور پر آنکھوں سے دیکھنے کا ،ناک سے سونگھنے کا ،منہ سے کھانے کا ،زبان سے بولنے کا ،پائوں سے چلنے کا وغیرہ وغیرہ۔لیکن وہ کیا دیکھے ؟کیا سونگھے ؟کیا کھائے ؟کیا بولے اور کہاں جائے؟ اس کی اسے آزادی حاصل ہے ۔اس آزادی و اختیار کے متعلق انسان اپنے اعمال کے لیے دنیا میں اور آخرت میں جواب دہ ہے ۔
معلوم ہوا کہ تقدیر کا معاملہ صرف انھیں امور میں ہے جن میں ہم مجبور ہوتے ہیں ۔رہے وہ امور جن میں ہم آزاد ہیں ۔جن میں اختیارات حاصل ہیں ان میں ہم تقدیر کا بہانہ بنا کر کوئی کام کریں گے یانہیں کریں گے تو ہم اس کے مکلف خودہوں گے۔مثلاً ہم نے چوری کی تو چوری کرنے یا نہ کرنے کے لیے ہم آزاد تھے پابند نہ تھے اس لیے چوری کی سزا ہمیں ملنا چاہیے ۔ہم نے نماز پڑھی جس کے پڑھنے کے لیے ہم طبعی طور پر مجبور نہ تھے لیکن ایمان کا تقاضہ اور اللہ و رسول کاحکم تھا اس لیے ہمیں ثواب ملنا چاہیے۔ہم نے کاروبار کیا ۔تمام وہ طریقے اختیار کیے جن سے نفع ہوتا ہے ۔اس کے باوجود ہمیں نقصان ہوگیا۔اس پر ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ اللہ کی جانب سے امتحان ہے ۔وہ نقصان دے کر ہمیں آزمانا چاہتا ہے۔یہی تقدیر پر ایمان ہے۔
امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک طور کا مقدمہ پیش ہوا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے ہاتھ قلم کرنے کا حکم جاری فرمایا۔اس نے عرض کیا "اے امیر المومنین!نرمی کیجیے کیونکہ میں نے یہ چوری صرف اللہ تعالیٰ کی "قضا و قدر” سے کی تھی۔یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ہم بھی تو تیرا ہاتھ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی قضا و قدر سے کاٹ رہے ہیں۔”
تقدیر کی کتاب اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھی ہے۔ہمیں اس لیے نہیں دی کہ یا تو ہم اپنی تقدیر میں لکھے ہوئے رنج و الم دیکھ کر غم سے پاگل ہوجاتے یا خوشی کے مناظر سے پھولے نہیں سماتے ۔اس لیے روز سورج نکلنے کے ساتھ ہماری تقدیر کا ایک ورق کھلتا ہے اور ہم دن گزارنا شروع کردیتے ہیں۔شام ہوتے ہوتے ایک صفحہ پورا ہوجاتا ہے۔
تقدیر پرایمان بڑا نازک معاملہ ہے ۔اس پر زیادہ بحث و مباحثہ نہ کیجیے ۔ایک مومن اور مسلمان ہونے کے ناطے جو فرائض وواجبات آپ پر ہیں انھیں ادا کیجیے ۔جن باتوں سے روکا گیا ہے ان سے رکیے۔اپنی ناکامیوں کا جائزہ لیجیے ۔ان کی وجوہات پر غور کیجیے۔جب یہ معلوم ہوجائے کہ آپ کی کوئی کمی نہیں تھی تو اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ اللہ نے آپ کو اپنے منتخب بندوں میں شامل کرلیا ہے کیوں کہ اب وہ آپ کو آزما رہا ہے ۔اس آزمائش میں ثابت قدم رہیے ۔اس کے بدلے آپ کو بڑا انعام ملنے والا ہے۔تقدیر پر ایمان انسانوں کے اندر خدا کے فیصلوں پر تسلیم و رضا کی کیفیت پیدا کرتا ہے ۔کبھی ہم اپنی تمام تر کوششوں اور جدو جہد کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہوتے اس وقت تقدیر پر ایمان ہمیں جینے کا حوصلہ دیتا ہے ۔ہمارے دل کو طمائنیت کی دولت سے مالا مال کرتا ہے اور ہم زبان حال سے بول اٹھتے ہیں۔
میں اپنا خون دے کر مطمئن ہوں
گلستاں میں بہار آئے نہ آئے
٭٭٭
