ابو احمد مہراج گنج

"ٹوپی سے میرا رشتہ بہت پرانا ہے بچپن میں جب میں شاکھا جایا کرتا تھا تبھی سے میں ٹوپی پہنتا اور پہناتا ہوں ”

ٹوپی تو آپ نے دیکھی ہی ہوگی وہی جو مسجد کے امام صاحب پہنتے ہیں۔ نہیں میں اس کی بات نہیں کررہا ہوں، اچھا وہ جو جلسے کے اسٹیج پر بیٹھے مولانا لوگ پہنتے ہیں ۔نہیں یار! میں اس کی بھی بات نہیں کررہا تو یقینا تم اس ٹوپی کی بات کررہے ہوگے۔ جو ہمارے قوم کے رہنما کبھی رام لیلا میدان میں تو کبھی تال کٹورہ اسٹیڈیم میں لگاکر جاتے ہیں۔ نہیں یار !! بے وقوف ہو ! اچھا تو پھر تم اس ٹوپی کی بات کررہے ہو جو ہولی میں اپنا ہیولیٰ بدلنے کے لئے لوگ لگاتے ہیں یا دیوالی میں لگاکر اپنا دیوالیہ پن دکھاتے ہیں ۔تم بالکل احمق ہو میں ان سب کی بات نہیں کررہا ہوں ۔

میں تو اس ٹوپی کی بات کررہا ہوں جس کو لگاکر ملائم سنگھ یادو ملا ملائم بن جاتے تھے ۔میں تو اس ٹوپی کی بات کررہا ہوں جس کو پہن کر لالو یادو اقلیتوں کے مسیحا ہوجاتے ہیں ۔میں تو اس ٹوپی کی بات کررہا ہوں جسے لگا کر نتیش کمار بہاری مسلمانوں کے پیشوا ہوجاتے ہیں ۔ میں تو اس ٹوپی کی بات کررہا ہوں جسے اشوک گہلوت دو تین دہائیوں سے لگاتے رہے ہیں میں تو اس ٹوپی کی بات کررہا ہو جسے اکھیلیش اور تیجسوی یادو مسلم یوتھ کو پہنا رہے ہیں سچ میں ۔میں اسی ٹوپی کی بات کررہا ہوں جسے افطار پارٹی کے موقع پر ملک کے سیاستدان مسلمانوں کو پہنا کر سیکولر اور ان کے مسیحا بن جاتے ہیں ۔

سمجھ تو گئے ہوں گے آپ!! لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم اب بھی نہیں سمجھے ہیں ۔ملک کو آزاد ہوئے پچھہتر سالوں سے زیادہ ہوچکے ہیں لیکن بحیثیت قوم ہمیں آج بھی کوئی نہ کوئی ٹوپی پہنا کر چلا جاتا ہے ۔اور ہم بصد خلوص ومحبت اس ٹوپی کو پہن کر خوش ہو جاتے ہیں ۔

آجکل تو الیکشن کا زمانہ ہے الگ الگ قسم کے ٹوپی باز میدان میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں ۔کہیں سماجوادی ٹوپی ہے تو کہیں کانگریسی ٹوپی ہے ۔کہیں ہندتوادی ٹوپی ہے تو کہیں جن سنگھی ٹوپیاں دیکھنے کو مل جائیں گی ۔کہیں بھاجپائی ٹوپی کی مانگ ہے تو کہیں بسپائی ٹوپی کی ۔ کسی کے سر پر عاپ کی ٹوپی ہے تو کوئی آپ کو ٹوپی پہنا رہا ہے ۔

حالیہ الیکشن میں تو ایک سپر اسٹار ٹوپی باز نے سارے حدود وقیود کو بالائے طاق رکھتے ہوئےاپنے ٹوپی بازی کے فن سے سارے ٹوپی باز فنکاروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے وہ مستقبل میں کبھی بھی کسی مسجد ۔مدرسہ یا مسلمانوں کی بستی میں ٹوپی پہن کر یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ "ٹوپی سے میرا بہت پرانا رشتہ ہے۔بچپن میں جب میں شاکھا جایا کرتا تھا تبھی سے ٹوپی پہنتا ہوں اور پہناتا ہوں”

آپ ہیں کہ خود بھی اور اپنے بچوں بھی کو ناخواندگی کے گڈھے میں گراتے جارہے ہیں ۔آپ ہیں کہ فضول خرچی کے دلدل میں پھنستے جارہے ہیں ۔آپ ہیں کہ دکھاوے کی زندگی میں مست ہو کر نئی نئی خرافاتوں میں الجھ کر ان ٹوپی بازوں کے ہتھے چڑھے جارہے ہیں ۔نہ جانے کب آپ اپنے سر سے یہ بیوقوفوں والی ٹوپی اتار کر پھینکنے کی جرات پیدا کریں گے ۔اور اپنے سر کو اسلام کے ہمہ گیر احکامات کے تعمیل کی ٹوپی سے سجا کر اپنے اور اپنے نونہالوں کے مستقبل کو روشن و محفوظ بنانے کی طرف قدم بڑھائیں گے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے