انوار الحق قاسمی
(ترجمان جمعیت علماء روتہٹ نیپال ورکن سماج وادی مسلم سنگھ نیپال)
حج (بفتحئہ اول و تشدید دوم) کے لغوی معنی: عظیم چیز کی زیارت کا قصد کرنا ہے اور شریعت کی اصطلاح میں: وقت مقررہ پر مکہ معظمہ میں بیت اللہ کی زیارت کرنا اور عبادت کی خاص شرائط بجا لانا ہے۔
حج کی فرضیت کس سنہ(سال) میں ہوئی، اس سلسلے میں متعدد اقوال ہیں: 9/ھ، 6/ھ اور 5/ھ کا؛ مگر ان میں سب سے راجح قول سنہ 9/ھ کا ہے۔
حج اسلام کے بنیادی پانچ(5) ارکان میں سے ایک پانچواں رکن ہے۔ جس طرح نماز، روزہ، اور زکوٰۃ کی فرضیت قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے، بعینہ اسی طرح فرضیت حج بھی قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "ولله علي الناس حج البيت من الستطاع إليه سبيلا و من كفر فان الله غني عن العالمين”. (سوره آل عمران،آیت:97) ترجمہ: "اور لوگوں میں سے جو لوگ اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں، ان پر اللہ کے لیے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے، اور اگر کوئی انکار کرے، تو اللہ تعالیٰ دنیا جہاں کے تمام لوگوں سے بے نیاز ہے”۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم- نے ارشاد فرمایا: "يا ايها الناس قد فرض عليكم الحج فحجوا الخ”. ترجمہ: "ائے لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے، لہذا حج کروا۔ اور حضرت عبد اللہ بن عمر -رضي الله عنهما- سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول- صلى اللہ علیہ وسلم- نے ارشاد فرمایا: "اسلام کی بنیاد پانچ(5) چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد – صلى الله عليه وسلم -اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور استطاعت پر بیت اللہ کا حج کرنا”۔(بخاری :8،مسلم :16) اور امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ صاحب حیثیت افراد پر عمر میں ایک دفع حج کرنا فرض ہے۔ (المغنی لابن قدامه:16/5)۔
حج ہر اس آزاد عاقل بالغ مسلمان پر فرض ہو جاتا ہے، جس کے پاس زندگی کی بنیادی ضروریات کے اخراجات نیز اہل و عیال کے واجبی خرچے پورے کرنے کے بعد اس قدر زائد رقم ہو کہ جس سے حج کے ضروری اخراجات (آمد و رفت اور وہاں کے قیام وطعام وغیرہ) بآسانی پورے ہوسکتے ہوں۔ (الهداية، كتاب الحج :1/249)۔
واضح رہے کہ فرضیت حج میں جو بھی آدمی صاحب استطاعت ہو: یعنی سفر حج کی آمد و رفت کے اخراجات اور دورانِ سفر اپنے اور اہل و عیال کے نفقے کا انتظام ہو، تو اس پر حج کرنا فرض ہے اور حج کی فرضیت میں اولاد یا والدین ایک دوسرے کے تابع نہیں ہیں: یعنی اولاد صاحب استطاعت ہو اور والدین نہ ہوں، تو والدین پر حج فرض نہیں ہوگا، بلکہ اولاد پر فرض ہوگا، اسی طرح اگر والدین صاحبِ استطاعت ہوں اور اولاد نہ ہوں، تو اولاد پر حج فرض نہیں ہوگا۔ حاصل یہ ہے کہ جو صاحب حیثیت ہے، بس اس کے ذمے ہی حج کرنا فرض ہے۔
حج کی چند؛ مگر اہم خصوصیات کا تذکرہ: عموماً ہر چیز کی کچھ نہ کچھ خاصیتیں ہوتی ہیں، چنانچہ حج کی بھی چند خصوصیات ہیں: پہلی خصوصیت: حج ماضی کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام قبول کرنا، پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے؟ ہجرت گزشتہ گناہوں کو مٹا دیتی ہے اور ‘حج’ ماضی میں کیے ہوئے گناہوں کو مٹا دیتا ہے”۔ (مسلم شریف،حدیث : 121_192)۔
دوسری خصوصیت: جو دو(2) شرطوں: یعنی دوران حج فحش کلامی، جماع اور گناہ کے عدم ارتکاب کے ساتھ مشروط ہے، وہ یہ ہے کہ ‘حج’ حج کرنے والے کو ‘معصومیت’ میں اس بچے کی طرح بنا دیتا ہے، جو ابھی اس روئے زمین پر وجود میں آیا ہو۔ اللہ کے نبی کا ارشاد ہے: "جس شخص نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس نے دوران حج فحش کلامی اور جماع نہیں کیا، تو وہ حج کرنے کے بعد گناہوں سے پاک ہوکر اپنے گھر ‘معصومیت’ میں اس بچے کی طرح لوٹتا ہے، جسے اس کی ماں نے ابھی جنا ہو”۔(بخاری شریف،حدیث:(1521)۔
تیسری خصوصیت: یہ ہے کہ ‘حج’ گناہوں کو مٹانے کے ساتھ فقر اور محتاجگی کو بھی دور کرتا ہے: یعنی حج کرنے کے بعد انسان جہاں گناہوں سے پاک ہو جاتا، وہیں وہ خوش حال بھی ہو جاتا ہے۔ اللہ کے نبی کا ارشاد ہے: "حج اور عمرہ ایک ساتھ کیا کرو! کیوں کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو مٹا دیتے ہیں، جیسا کہ بھٹی لوہا، سونا اور چاندی سے زنگ دور کر دیتی ہے اور حج مبرور کا ثواب تو جنت ہی ہے”۔ (ترمذی شریف، حدیث: (810)۔
چوتھی خصوصیت : یہ ہے کہ حج کرنے والے کی ہر مراد پوری کی جاتی ہے اور ان کے ثوابوں کو مضاعف: یعنی ہزار ہزار گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ کے نبی کا ارشاد ہے: "حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں، اللہ ان کی مانگ، ان کو عطا فرماتے ہیں، ان کی دعاؤں کو قبول کرتے ہیں، ان کی سفارش قبول کرتے ہیں اور ان کے لیے ہزار ہزار گنا تک ثواب بڑھا دیا جاتا ہے”۔
استطاعت اور قدرت کے باوجود فریضہ حج ادا نہ کرنے والوں کے لیے بڑی سخت وعید وارد ہوئی ہے۔ اللہ کے نبی کا ارشاد ہے:”جو شخص اتنے توشہ اور سواری کا مالک ہو جائے، جو اسے بیت اللہ شریف تک پہنچا دے، اس کے باوجود بھی وہ حج نہ کرے، تو اس کے لیے کوئی ذمے داری نہیں ہے کہ وہ یہودی ہونے کی حالت میں مرے یا نصرانی اور اس کا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب (قرآن مقدس) میں فرماتا ہے: "اور لوگوں میں سے جو لوگ اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں، ان پر اللہ کے لیے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے”۔(آل عمران: 97_ترمذی شریف، حدیث: 812)۔
ارکانِ حج تین(3)ہیں: پہلا احرام: یعنی حج کی نیت سے بغیر سلے ہوئے دو کپڑے زیب تن کرنا۔ دوسرا وقوف عرفہ: یعنی نویں(9) ذی الحجہ کو زوالِ آفتاب کے بعد سے لے کر دسویں (10)ذی الحجہ کی صبح صادق کے درمیان میدان عرفات میں ٹھہرنا، گرچہ کچھ ہی لمحے کے لیے ٹھہرنا ہو۔ یہ رکن اعظم ہے، اگر کسی نے وقوف عرفہ نہ کیا، تو اس کا حج ہی نہیں ہوگا، چاہے’دم’ ہی کیوں نہ دیدے۔ تیسرا طواف زیارت: یعنی خانہ کعبہ کا، سات بار چکر لگانا۔
واضح رہے کہ طواف زیارت وقوف عرفہ کے بعد کیا جاتا ہے۔ جب تک حاجی طواف زیارت نہ کرلے، اس کا حج مکمل نہیں ہوتا اور بیوی اس کے لیے حلال نہیں ہوتی۔ اس کا وجوبی وقت دسویں(10) ذی الحجہ کے سورج طلوع ہونے سے لے کر بارہویں(12)ذی الحجہ کے سورج غروب ہونے تک ہے۔ وقت مقررہ کے دوران طواف نہ کرنے کی صورت میں ‘دم’ لازم ہوتا ہے۔
حج کے دوران حاجی سے ہونے والی مخصوص غلطیوں کے کفارہ کو اصطلاح حج میں ‘دم’ کہا جاتا ہے۔ حج کے دوران ہونے والی غلطیوں پر تین(3) طرح کا کفارہ ہوتا ہے۔ دم اور بدنہ میں جانوروں کی قربانی دینی ہوتی ہے۔ جن کا گوشت حاجی نہیں کھا سکتا؛ بلکہ وہ مساکین میں تقسیم کیا جائے گا۔ اور یہ وہیں ذبح کیے جاسکتے ہیں، جہاں حج کی قربانی کے جانور ذبح کرنے کا حکم ہے۔ ‘دم ‘ اس کی مقدار ایک بکری ہے (اس میں بکرا، دنبہ، بھیڑ شامل ہے اور گائے، بیل، بھینس اور اونٹ کا ساتواں حصہ اس میں شامل ہے۔ بدنہ: اونٹ یا گئے (اس میں بھینس اور بیل بھی شامل ہے) صدقہ: صدقہ فطر کے موافق۔
دم واجب کرنے والی غلطیاں: سعی بین الصفا والمروہ چھوڑنا، رمی جمار چھوڑنا، احرام سے بغیر حلق یا قصر کے نکلنا، طواف رکن چھوڑنا اور وقوف مزدلفہ چھوڑنا۔ بدنہ واجب کرنے والی غلطیاں: وہ دو(2)ہیں: ایک وقوف عرفہ کے بعد صحبت کرنا۔دوسرا(2) طواف زیارت،حالت جنابت میں کرنا۔ صدقہ کے وجوب کی صورت: صدقہ اس وقت واجب ہوتا ہے،جب بلاعذر کسی جنایت کا ارتکاب ناقص طور پر ہو۔
اخیر میں عرض ہے کہ تمام حجاج دورانِ حج بیت اللہ شریف کے احترام کو لازم تصور کرنے کے ساتھ، گناہوں سے اجتناب کی کلی کوشش کریں۔
