محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ سیاست چھوڑدی
رضوانہ شمیم نے سیاست چھوڑ دی۔ بڑا چرچا رہا۔سبھی حیران تھے ۔ وجہ جاننا چاہتے تھے۔ رضوانہ شمیم نے کسی سے بات ہی نہیں کی۔ اور دوہفتوں کیلئے انگلینڈ چلی گئیں۔ جب انگلینڈ سے واپس آئیں تو ان کے سیاست چھوڑنے کامعاملہ پچاس فیصدسے زیادہ نمٹ چکاتھا۔ آدھے سے زیادہ لوگ بھول چکے تھے کہ رضوانہ شمیم نے کیاکیاتھا۔
ایک دن انٹرویو کیلئے میری رسائی ان تک ہوگئی۔ وہ ایک انتہائی خوبصورت اور اونچے قدکی خاتون تھیں۔ شلوار قمیض پہنتی تھیں۔ اور سر پر سے پلو نہیں ہٹتاتھا۔ اوردیکھنے والے کی نظربھی ان پر سے نہیں ہٹتی تھی لیکن میں ایسی جرأت نہیں کرسکتاتھا۔ میرے سوالوں کے انھوں نے جوابات دئے لیکن اصلی سوالیہی تھاکہ سیاست کیوں چھوڑ دی ؟دودفعہ ایم پی رہنے کے باوجوداچانک سیاست چھوڑبیٹھنا ہماری سمجھ سے باہرہے۔ کہیں موت کی دھمکی تو نہیں دی گئی تھی؟
رضوانہ شمیم اس سوال کوٹالنے کی کوشش کرتی رہیں۔ لیکن وہ صحافی ہی کیاجو اپناجواب نہ حاصل کرسکے۔ آخرکار انھوں نے بتایاکہ اب سیاست نے مخالف کے تعلق سے بے حیائی اوڑھ لی ہے۔ وہ جس قدر نیچاگرسکتی ہے گرجائے گی تاکہ مخالف کو ذلیل کرکے خود اقتدارپر فائز رہ سکے۔مجھ پر بھی انھوں نے جو غیر غلط الزامات لگاتے رہے ہیں، کئی مردوں کی مجھے رکھیل تک بنادیا۔ ان کے نزدیک میں وزیرداخلہ سے لے کر وزیراعظم تک کے بستر گرم کر چکی ہوں ، اس طرح کی بکواس پر کوئی سزا نہیں ہوتی ۔سبھی الزامات لگاکر آرام سے گھوم رہے ہوتے ہیں۔جہاں فریق کااحترام نہ کیاجاتاہواس میدان میں ٹہر کر خود کو مزید ذلیل کرنامیرے بس کی بات نہیں تھی، اسلئے میں نے سیاست چھوڑ دی۔
رضوانہ شمیم سے آگے سوال کی ضرورت نہیں تھی۔ میں انہیں چھوڑ کر چلاآیالیکن محسوس ہواکہ کافی بوباس رکھنے والی خاتون ہیں۔ انسانی قدروں کونبھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ سیاست میں بھی قدروں کوباقی رکھناآج کااہم سوال ہے۔ کون مرد ان قدروں کو بحال کرے گا، کہانہیں جاسکتا۔ تاکہ خواتین سیاست میں اپنا مثبت رول اداکرسکیں۔
۲۔ اس کی یاد
یاد آنا نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ بھول بیٹھنا بہت آسان ہے ،اب یہی دیکھ لو گناہ کرتے ہوئے ، گندی سندی فلمیں اور ریلس دیکھتے ہوئے خدا یادنہیں آتا۔ کم ازکم مجھے تو یادنہیں آتا۔ آپ لوگوں کے بارے میں کہہ نہیں سکتا۔جب میں خدا کو بھول جاتاہوں تو کچھ بھی کرسکتاہوں، اسلئے یادکاآنانعمت ہے۔ یادآنے والی نعمتوں کی ناقدری نہ کیاکرو، سمجھے۔اپنافرض یادآنا اور فرض سے بڑھ کر رب کی یاد تو نعمتوں سے کئی گنابڑی نعمت ہے۔ کسی شاعر نے کیاخوب کہاہے ؎
اس کی یاد آئی ہے ، سانسو!ذراآہستہ چلو
دھڑکنوں سے بھی عبادت میں خلل پڑتاہے
۳۔ مسیحا کوئی نہیں
رقیبنے کہا’’چھوڑ و یار، تنظیم مرچکی ہے ، اس کے لئے ہم کچھ نہیں کرسکتے، ہم میں کوئی مسیحا بھی نہیں ہے کہ مردوں کوزندہ کرنے کاہنرجانتاہو ‘‘رؤف لالہ ذرا ہمدردآدمی تھے ۔ انھوں نے جواب دیا’’تم تنظیم کو مراہواسمجھتے ہو، مجھے اس پر حیرت ہے۔ اصل میں ہم سب لوگوں کی موت واقع ہوچکی ہے۔ کیوں کہ پہلے افراد مرتے ہیں تب کہیں جاکران کی بنائی تنظیمیں مرتی ہیں، تنظیموں کی موت سے بہت پہلے وابستہ افراد کی موت ہوجاتی ہے، اسی لئے تنظیمیں مرجاتی ہیں‘‘
رقیب آنکھیں پھاڑے رؤف لالہ کو دیکھ رہاتھا۔ رؤف لالہ نے اپنے موبائل پر ایک نمبر پر کلک کیا۔گھنٹی بجتی رہی۔ کچھ سکنڈبعد وہ موبائل پر کہہ رہے تھے ’’جناب ، میرادورہ رکھ لیں ، سہ روزہ ۔۔۔۔۔ جی جی ۔۔۔۔کوئی بات نہیں آپ اور سکریڑی دونوں بھی ہوں تو کافی ہے۔۔۔۔ان شاء اللہ ہم بیٹھ کر ازسر نو سوچیں گے اور تنظیم کی زندگی نو کے لئے کام کریں گے۔ معززین ہی نہیں تاجرپیشہ حضرات سے بھی میں ملنا چاہوں گا۔آپ کے ضلع کے تعلقہ جات میں بھی جائیں گے، دوچار غیرمسلم احباب سے بھی ملاقاتیں کروادیں عین نوازش ہوگی ‘‘
۴۔ آرزو
انتخابات ہورہے ہیں اور اِدھرتربیت گاہ چل رہی ہے جس میں کہاجارہاہے کہ’’ بلتکاری اور بھرشٹاچاری جس پارٹی میں ہوں گے وہ پارٹی بھلے آئندہ 50سال برسراقتدار آجائے ملک سے بلتکار اور بھرشٹاچارکی لعنت کو ختم نہیں کرسکتی‘‘
بڑی سی ٹوپی پہنے ہوئے مولانا جیسے شخص نے اپنی تقریر میں توقف کیا اور پھر کہا’’ہمیں دیکھو، ہم بھلے 15؍ہزار ہوں ، ہمارے اندر کوئی بلتکاری اور بھرشٹاچاری نہیں ہے۔ اگر ہم جیسے لوگ برسراقتدارآئیں گے تب ہی اس ملک کی اخلاقی اور مالیاتی ترقی ممکن ہے ‘‘
اورمیں سوچ رہاہوں ؎
یہ آرزوبھی بڑی چیز ہے مگر ہمدم
وصال ِ یار فقط آرزو کی بات نہیں
مجھے یہ بھی یقین ہے کہ وہ دِن آسکتاہے ، ملک عزیز میں رشوت خور اور زانی نہیں ہوں گے۔ زانیوں اوررشوت خوروں سے پاک ملک بنانے کے لئے ایثاروقربانی کاایک طویل سلسلتہ الذہب ہم سے مطلوب ہے۔
