ابو احمد مہراج گنج
اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم اور مجبور کوئی ہے تو بلاشبہ وہ اہل اسلام اور مسلمان ہیں ۔مگر ان کی مظلومی اور مجبوری ان کی خود کردہ ہے ۔
آپ کو اس سے اتفاق ہو یا نہ ہو لیکن حقیقت یہی ہے کہ فلسطین کی آزادی کی آواز ہماری زبانی ورزش کے سواۓ کچھ بھی نہیں ہے۔ہم مصلے پر بیٹھ کر فلسطین کی آزادی اور بازیابی کے لیے حق تعالیٰ شانہ کے سامنے کس قدر خشوع و خضوع سے دعائیں مانگتے ہیں یہ تو صرف ہم جانتے ہوں گے یا ہمارا رب ۔لیکن ہم اسرائیل کو اس کے ظلم سے باز رکھنے اور اسے معاشی طور سے کمزور کرنے کے لیے اسرائیلی مصنوعات کی بائیکاٹ کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں یہ کسی پر ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔
میں اپنے ایک دوست کے گھر کھانے پر مدعو تھا اور ہمارے ساتھ چار پانچ لوگ بھی تھے جو ماشاءاللہ بہت ہی پڑھے لکھے اور مذہبی رہنما بھی ہیں ۔بطور مشروب کے ہمارے پاس ایک اسرائیلی مشروب رکھا گیا تو مجھے حیرت ہوئی کہ میرے میزبان ماشاءاللہ سے بہت ہی ایکٹیو اور مسلم ایشوز پر فعال اور فکر مند رہنے والے ہیں ۔میں نے محسوس کیا کہ غیر شعوری طور پر پا ہماری دل جوئی کی خاطر انھوں نے دسترخوان پر اس اسرائیلی پروڈکٹ کو جگہ دی ہوگی۔چوں کہ وہ مجھ سے بے تکلف ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ شاید آپ نے جلد بازی میں یہ اٹھالایا ہے۔تو کہنے لگے کہ آپ نہیں پیتے ہیں کیا؟۔میں نے ان سے کہا یہ بھی پوچھنے کی ضرورت ہے ؟؟ کوئی حساس مسلمان کس منھ سے اسرائیلی مشروب پی سکتا ہے جبکہ اسرائیل ہمارے دینی اور ایمانی بھائیوں ،بہنوں،بچوں کے خون سے دریا بہا دیاہے ۔شہروں کو ملبوں میں بدل دیا ہے ۔اور ہم میں اتنی غیرت نہیں ہے کہ ہم اسرائیلی مصنوعات کا اپنے گھروں سے بایئکاٹ کردیں۔خیر انھوں نے آئندہ سے احتیاط برتنے کی امید دلائی ۔
یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں تھا بلکہ ابھی کل کی ہی بات ہے میں اپنے ضلع کے بہت ہی معتبر اور مستند شخصیات جن میں علماء ۔ ڈاکٹر ۔ماسٹر وکیل اور دانشور حضرات کے ساتھ شام کے کھانے پر مدعو تھا وہاں پر بھی دسترخوان پر ماکولات کے ساتھ مشروب اسرائیلی تھا ۔میرے ساتھ ایک معمر اور عمررسیدہ مولانا بھی تھے جنھوں نے اس مشروب کے پینے سے احتراز کیا ۔میں وہاں سے واپسی میں بہت دیر تک سوچتا رہا کہ جب ہمارے سماج کے سمجھدار اور ذمہ دار لوگ بے حسی کے اس مقام پر کھڑے ہیں تو عوام کا کیا حال ہوگا ۔
اسرائیل دن بدن یونہی نہیں فیل بد مست ہوتا جارہا ہے اس کے ذمہ دار ہم مسلمان ہی ہیں جو اسرائیل کے مصنوعات کی خرید کرکے مضبوط تر بناتے جارہے ہیں ۔ نہ جانے ہماری بے حسی کس مقام پر جاکر رکے گی۔
مسلماں کی بے حسی کا گر یہی عالم رہا
بے سب کے موت ہوگی اور بے کفن کے ہوگی نعش
