از نوک قلم: سید رونق شیر کوٹی ایڈوکیٹ
زخم شمشیر تو ایک روز کہ بھر جاتا ہے،
ہو قلم کا تو رگِ جاں میں اتر جاتا ہے !
عشق کرنا ہے تو پھر عشق مجازی کیا ہے،
عشق حقیقی ہو تو بندہ ہی سنور جاتا ہے!
نقش توحید ہو دل میں تو مزا آجائے،
دور تک پھر تو دعاؤں کو اثر جاتا ہے!
ہو اگر حق کا کرم بندے یہ ملتا ہے،
نشہ دنیا کہ پل بھر میں اتر جاتا ہے!
اب تو بس رونق آسی پہ کرم ہو جائے،
اس کی ہر راہ کو یہ راہ گزر جاتا ہے!
