بیدر۔ 22؍جون (محمدیوسف رحیم بیدری): محکمہ اقلیتی بہبود کے ریاستی وزیر جناب بی زیڈ ضمیراحمد خان آیا مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی بیدرسیٹلائٹ کیمپس کی تعمیر پرتوجہ دیں گے ؟!یہ سوال اہم اسلئے ہیکہ وہ اقلیتوں کے چمپئن بھی ہیں اور اقلیتی وزارت بھی ان ہی کے پاس ہے۔ 11؍سال قبل UPA-IIحکومت نے بیدر میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر‘آبادکے سیٹلائٹ کیمپس کو بیدر میں قائم کرنے کافیصلہ کیاتھا۔ کیوں کہ بیدر میں اردو بولنے والے بڑی تعداد میں رہتے ہیں ۔ اس ضمن میں مولاناآزاد سیٹلائٹ کیمپس کاسنگ بنیاد بھی رکھاگیاتھا۔ اس وقت کے HRDوزیر پلم راجو بیدر آئے تھے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیابھی موجودتھے۔ اشوک کھینی رکن اسمبلی نے آفر دی تھی کہ بیدر جنوب میں اس سیٹلائٹ کیمپس کو قائم کیاجائے۔ لیکن آج گیارہ سال بعد بھی بیدر ضلع کی اقلیتی مولانا آزاد کے سیٹلائٹ کیمپس سے محروم ہیں۔

(ایاز احمد خان)

اقلیتی بہبود کے وزیر بی زیڈ ضمیراحمد خان سے یہاں کی اقلیتیں اپیل کررہی ہیں کہ وہ مولانا آزاد سیٹلائٹ کیمپس کی تعمیر کے لئے راستے نکالیں۔ دیکھنایہ ہے کہ وزیر اقلیتی بہبود بی زیڈ ضمیراحمد خان کیاایکشن لیتے ہیں؟اس ضمن میں محمد ایاز خان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اقلیتی بہبود کے وزیر بی زیڈضمیراحمد خان سے سیٹلائٹ کیمپس کی تعمیر کے سلسلے میں نمائندگی کریں۔ تاکہ بیدر ضلع کے غریب مسلمانوں کے بچے سیٹلائٹ کیمپس مین کے جی تا پی جی اردو اور انگریزی میڈیم سے مفت تعلیم حاصل کرسکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے