محمد ہاشم القاسمی
خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال 
رابطہ مدارس اسلامیہ مغربی بنگال کے مجلس عاملہ اور جمیعۃ علماء مغربی بنگال کے ریاستی کمیٹی کی ایک اہم میٹنگ مورخہ 22 /23 جون 2024 ریاست کے مشہور شہر دارجلنگ میں منعقد ہوئی، اس کے لئے رابطہ مدارس اسلامیہ مغربی بنگال اور جمیعۃ علماء مغربی بنگال کے 35 اراکین علماء کرام کا قافلہ حضرت مولانا صدیق اللہ چودھری منسٹر آف لائبریری مغربی بنگال، صدر رابطہ مدارس اسلامیہ مغربی بنگال و صدر جمیعۃ علماء مغربی بنگال کی قیادت میں ہاوڑہ سے نیو جلائی گوڑی کے لئے شتابدی ایکسپریس میں 21 جون بروز جمعہ بوقت ڈھائی بجے سوار ہوا، گاڑی چلنے کے بعد پانی کی بوتل ٹرے میں ناشتہ اور خود ساختہ چائے کے لوازمات ریلوے ملازم نے پیش کیا، رات 8 بجے کے قریب کھانا آ گیا اور ساڑھے دس بجے ہم لوگ نیو جلپائی گوڑی جنکشن میں اتر گئے، پلیٹ فارم کے باہر حضرت مولانا صدیق اللہ چودھری صاحب کے لئے سرکاری گاڑی اور پائیلٹ کی دو گاڑیاں اس کے علاوہ 6 بولیرو گاڑیاں جس کے سامنے اور پیچھے کے شیشے پر سرکاری مہمان خصوصی کے بورڈ لگے ہوئے انتظار کر رہی تھی حضرت مولانا از خود تمام لوگوں کو نمبر وار گاڑی پر بٹھایا پھر ایک پائلٹ گاڑی سائرن بجاتے آگے چلی اس کے بعد مولانا کی گاڑی جس کے سرپر لال بلو بتی لگی تھی اس کے بعد ایک اور پائیلٹ گاڑی اور اس کے بعد ہم لوگوں کی گاڑیاں فراٹے مارتے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس سیلی گوڑی پہنچے، دومنزلہ گیسٹ ہاوس کے تمام رومس میں ہم لوگ دو دو تین تین کر کے ایڈجسٹ ہو گئے ہر روم کشادہ اور بہت صاف ستھرا تھا استنجا وغیرہ سے فارغ ہو کر نماز ادا کرکے سب نیند کی آغوش میں چلے گئے، مولانا صدیق اللہ چودھری صاحب فجر کی نماز سے قبل از خود سبھی روم میں دستک دے کر صبح ہونے کی نوید سنائی جبکہ اکثر روم میں علماء کرام نماز یا خصوصی اوراد و وظائف میں مشغول تھے تھوڑی دیر بعد ہر روم میں بہترین چائے اور بسکٹ آئی 7 بجے اعلان ہوا کہ ڈائنگ ہال میں ناشتہ تیار ہے ناشتہ کر کے 9 بجے ہم لوگوں کا قافلہ دارجلنگ کے لئے روانہ ہوا دارجلنگ کا جغرافیائی نوعیت کچھ ایسا ہے کہ انتظامی طور پر دارجلنگ ریاست مغربی بنگال کا حصہ ہے، جب کہ مشرق میں یہ بھارتی ریاست سکم جب کہ مغرب میں یہ نیپال سے جڑا ہوا ہے، جنوب میں مغربی بنگال کا علاقہ Siliguri ہے، جب کہ مشرق میں مغربی بنگال ہی کے علاقے Kalimpong سے جڑتا ہے۔ دارجلنگ کی کل آبادی 18 لاکھ بتائی جاتی ہے جس میں ہندو 74% مسلمان 6% بڈھشٹ 12% اور عیسائی 8% شامل ہیں ؛
دنیا کے نقشے پر جب ہم دارجلنگ کو دیکھتے ہیں، تو ریاست سکم اور ملک نیپال سے جڑی ہوئی مغربی بنگال کی یہ حسین وادی چین، بھوٹان اور بنگلادیش کے سنگم پر کچھ اس طرح واقع ہے کہ اس کے شمال میں تھوڑے ہی فاصلے پر چین، شمال مشرق میں بھوٹان، مشرق میں ریاست آسام، جنوب میں بنگلادیش اور نیپال کی سرحدوں کے درمیان مشرقی ہندوستان کو باقی ملک سے جوڑنے والی مغربی بنگال اور بہار میں تقسیم ہوتی پتلی سی ہندوستانی پٹی واقع ہے۔ یوں دارجلنگ پانچ ممالک بھارت، بھوٹان، چین، نیپال اور بنگلادیش اور چار ریاستوں سکم، آسام، مغربی بنگال اور بہار، کے سنگم پر واقع ہے، قافلہ ایک ریسٹورنٹ میں رکا تو معلوم ہوا کہ یہاں دارجلنگ کی چائے اور موموس سے لطف اندوز ہونا ہے وہاں سے قافلہ کی گاڑی دارجلنگ کے مشہور ہوٹل مارویل انٹر نیشنل کے گیٹ پر رکی ہوٹل کے گیارہ روم بک تھے سب اپنے اپنے بیگ لئے اپنے مرقومہ روم پہنچ گئے فریش ہونے کے بعد نماز ظہر ادا کی گئی، دوپہر کا کھانا کھا کر سب اپنے اپنے روم میں آرام کرنے لگے عصر اور مغرب کی نماز بھی کوئی سامنے کی مسجد میں ادا کی اور کچھ اپنے روم میں اس کے بعد اسی ہوٹل کے ایک میٹنگ ہال میں رابطہ مدارس اسلامیہ مغربی بنگال کی میٹنگ کی پہلی نشست حضرت مولانا صدیق اللہ چودھری صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی ہوئی جس میں کئی اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا خاص طور پر آئین ہند کی اہمیت اور افادیت اور موجودہ حالات میں عوام و خواص تک اس کی رسائی کی ممکنہ کوششوں پر رائے لی گئی اور فیصلے ہوئے اس کے علاوہ کئی اہم تجاویز پاس ہوئے، بعد نماز عشاء کھانے کا نظم تھا سب کھانا کھا کر اپنے روم میں داخل ہو گئے، تھوڑی دیر کے اندر ہی ہم نیند کی آغوش میں تھے چار بجے اس جگہ کی جامع مسجد کی اذان کی آواز سے بیدار ہوا نماز وغیرہ سے فارغ ہو کر پورے قافلہ کو دارجلنگ کے کئی سیاحتی جگہوں پر جانا تھا گاڑی ہوٹل کے ارد گرد لگ چکی تھی سب نمبروار اپنی اپنی گاڑی پر سوار ہو گئے اب ہم لوگوں کا قافلہ دارجلنگ کے ٹائیگر ہیل کی طرف رواں دواں تھی پہاڑی پر بنے شاندار راستے ٹیڑھی میڑھی ناگن کی طرح بل کھاتی سڑک کی دونوں جانب پہاڑوں پر چائے کے باغات، لمبے لمبے درخت، کہیں کہیں پہاڑوں سے نکلنے والے جھرنوں کے پانی کے نالے، نشیب و فراز سے پر، جگہ جگہ پر سرکاری حفاظتی عملہ مولانا کی گاڑی کو سلوٹ کرتے غضب کے نظارے پیش کر رہے تھے جو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اس سے گزرتے ہوئے تقریباً دو گھنٹے کے بعد TIGER HILL دس ہزار تین سو فٹ کی اونچائی والی جگہ پہنچ گئے جہاں سے سورج کی پہلی کرن کا دیدار ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلاء کر دیتا ہے جب سورج کی شعائیں ہمالیہ کی چوٹیوں پر پڑتی ہیں تو سارا پہاڑ سنہرا دکھنے لگتا ہے اسی مسحورکن نظاروں سے لطف اندوز ہونے کیلئے انٹر نیشنل ٹورسٹ دارجلنگ وزٹ کرتے ہیں، وہاں نا چاہتے ہوئے بھی انفرادی اور اجتماعی فوٹو لئے گئے جو سبھی کے واٹسپ پر ڈالے گئے،
دارجیلنگ میں دیکھنے کے لیے 17 سیاحتی مقامات کی فہرست یہ ہیں، ٹائیگر ہل | طلوع آفتاب کا نقطہ نظر، ہمالیائی پینورما. بتاسیا لوپ | قدرتی ریلوے لوپ، جنگی یادگار. دارجیلنگ ہمالیائی ریلوے | ہیریٹیج کھلونا ٹرین، یونیسکو سائٹ.پدمجا نائیڈو ہمالیہ زولوجیکل پارک | اونچائی والا چڑیا گھر، نایاب نسل. ہیپی ویلی ٹی اسٹیٹ | چائے کے باغات، چکھنے کے دورے، راک گارڈن | چھت والے باغات، قدرتی آبشار. امن پگوڈا | بدھسٹ اسٹوپا، امن کی علامت. گھوم خانقاہ | قدیم خانقاہ، بدھ مت کے آثار. سنگیلیلا نیشنل پارک | اونچائی والا پارک، بائیو ڈائیورسٹی ہاٹ سپاٹ. دارجیلنگ روپ وے | کیبل کار، وادی کے نظارے۔ہمالین ماؤنٹینیئرنگ انسٹی ٹیوٹ | چڑھنے کا اسکول، ایورسٹ میوزیم. نائٹنگیل پارک | شہری سبز جگہ، پینورامک ویوز. ٹنچولی | ماؤنٹین ہیملیٹ، نامیاتی فارم. لیپچاجگت | فاریسٹ ریزرو، رومانوی راستہ. سندکفو | ٹریکرز کی جنت، بلند ترین چوٹی. لامہٹا ایکو پارک | نباتاتی خوبصورتی، دیودار کے جنگلات
بھوٹیا مارکیٹ | مقامی دستکاری، شاپنگ ہب شامل ہیں . چند گھنٹوں میں ان تمام جگہوں پر جانا آسان نہیں تھا تاہم بتاسیا لوپ، بتاسیا لوپ انجینئرنگ کا ایک معجزہ ہے جہاں کھلونا ٹرین گھومتی ہوئی اترتی ہے، پہاڑی نظارے اور ریلوے کا منفرد تجربہ پیش کرتی ہے۔ اس لوپ کے درمیان بہادروں کو خراج تحسین پیش کرنے والی ایک جنگی یادگار کھڑی ہے.
کیا آپ نے کبھی ایسی ٹرین پر سواری کی ہے جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی جگہ ہے؟ دارجلنگ ہمالیائی ریلوے کے ساتھ، آپ کر سکتے ہیں! یہ ہیریٹیج کھلونا ٹرین کھڑی خطوں، تنگ منحنی خطوط اور شاندار مناظر سے گزرتی ہے۔ دارجلنگ کھلونا ٹرین کی سواری کے تجربات سفر کو منزل کی طرح ناقابل فراموش بنا دیتے ہیں. وہاں سے نکل کر ٹی گارڈن وغیرہ میں تھوڑی تھوڑی دیر سرسبز شاداب قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ظہر کے وقت ہم لوگ اپنے ہوٹل میں آگئے ظہر کی نماز سے پہلے ہوٹل کے میٹنگ ہال میں حضرت مولانا صدیق اللہ چودھری صاحب کی صدارت میں دوسری نشست ہوئی جبکہ تیسری اور آخری نشست بعد نماز مغرب اسی ہال میں ہوئی جس میں اتفاق رائے سے کئی تجاویز پاس ہوئے. 24 جون کی صبح واپسی کے لیے ہم لوگ گاڑی پر سوار ہوئے تو معلوم ہوا کہ ہوٹل ماؤنٹ ویلی بتاسیا لوپ کے مالک محمد ذیشان علی نے اپنے ہوٹل میں ناشتے کی دعوت دی ہے اور مولانا نے قبول فرمایا ہے، اترے تو دیکھا تمام ٹیبل پر دسترخوان بچھا ہے، اس پر پانی بوتلیں، پلیٹ، چمچ، اور چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں ایک ایک گلاب جامن سجائے اپنے پورے عملہ کے ساتھ استقبال میں کھڑے ہیں، سلام مصافحہ کے بعد نہایت احترام کے ساتھ سبھوں کو بٹھایا گیا مولانا صدیق اللہ چودھری کے سیکورٹی اہلکار اور دونوں پائلٹ گاڑیوں کے پولیس ڈرائیور وغیرہ تقریباً دس بارہ تھے وہ بھی ساتھ بیٹھ کر ناشتہ سے فارغ ہو کر انہیں دعائیں دے کر نکلے دونوں جانب سرسبز شاداب وادیوں، چائے کے باغات اور پلکوں میں بدلتے موسم کو پیچھے چھوڑتے ہوئے تقریباً ایک بجے ایسٹیٹ گیسٹ ہاؤس سیلی گوڑی پہنچ گئے وہاں مولانا صدیق اللہ چودھری صاحب اپنی سرکاری میٹنگ میں شرکت کے لئے میٹنگ ہال گئے اور ہم لوگ وہیں سامنے مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی، اسی مسجد کے بالائی منزل میں جناب مولانا عبدالباری صاحب صدر جمیعۃ علماء کوچ بہار، اور قاری فیروز صاحب امام مسجد نے زبردست دعوت کا اہتمام کیا تھا سبھوں نے شکم سیر ہو کر کھانا کھایا اتنے میں گاڑی مسجد کے سامنے لگ گئی اور سب تھوڑی دیر اسٹیشن پہنچ گئے 3 بجے نیو جلائی گوڑی اسٹیشن سے وندے بھارت کا ٹکٹ ریزرویشن تھا سب اپنے اپنے سیٹ پر بیٹھ گئے اور ٹرین فراٹے لینے لگی. وندے بھارت ٹرین، بہتر ڈیزائن، داخلہ اور رفتار ہے، جو مسافروں کو آرام دہ اور آسان سفر کا تجربہ فراہم کرتا ہے ۔ ٹرین جدید ترین حفاظتی خصوصیات اور آرمر ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ وندے بھارت ایکسپریس ٹرین میں 16کوچز کی چیئر کار کانفیگیوریشن ہے، جس میں اسٹین لیس اسٹیل کار باڈی اور 1128 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اس کی رفتار کی حد 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے ۔ جدید ترین سسپنشن سسٹم مسافروں کے لیے بہترین سفر اور آرام کو یقینی بناتا ہے ۔وندے بھارت ایکسپریس میں مسلسل کھڑکیاں ہیں جو ٹرین کی جمالیاتی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔ ٹرین کی رنگ سکیم کے ساتھ ساتھ اندرونی حصے کو جدید ٹرین سیٹ کے مجموعی تھیم کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ ٹرین میں مسافروں کے لیے بہترین سہولیات ہیں جیسے آن بورڈ وائی فائی انفوٹینمنٹ، جی پی ایس پر مبنی مسافروں کی معلومات کا نظام، عالیشان انٹیریئرز، ٹچ فری فیچرز کے ساتھ بائیو ویکیوم ٹوائلٹس، ڈفیوزڈ ایل ای ڈی لائٹنگ، ہر سیٹ کے نیچے چارجنگ پوائنٹس، پرسنلائزڈ ٹچ بیسڈ۔ اس میں ہوا کی جراثیم سے پاک سپلائی کے لیے یو وی لیمپ کے ساتھ ریڈنگ لائٹ اور کنسیلڈ رولر بلائنڈ کے ساتھ بہتر ہیٹنگ وینٹیلیشن اور ایئر کنڈیشننگ سسٹم بھی شامل ہے۔ معذور مسافروں کے لیے خصوصی بیت الخلاء بنائے گئے ہیں۔ بائیو ویکیوم ٹوائلٹس بھی موجود ہیں جن میں ٹچ فری سہولیات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سیٹ کے ہینڈل پر بریل حروف میں سیٹ نمبر بھی دیے گئے ہیں۔ ہر کوچ میں 32 انچ کا پیسنجر انفارمیشن اینڈ انفوٹینمنٹ سسٹم لگایا گیا ہے۔ ٹرین کاوچ (ٹرین کے تصادم سے بچاؤ کا نظام) سے لیس ہے۔ ہر کوچ میں ایمرجنسی لائٹنگ لگائی گئی ہے۔ کوچ کے باہر ریئر ویو کیمرہ سمیت 4 پلیٹ فارم سائیڈ کیمرے لگائے گئے ہیں۔ مالدہ ٹاؤن اسٹیشن پر جناب مولانا معیدالاسلام جنرل سیکرٹری جمیعۃ علماء ضلع مالدہ اپنے متعلقین کے ساتھ قافلہ کے استقبال کے لئے موجود تھے، سیزن کا بہترین پھل آم مالدہ کا بہت مشہور ہے قافلہ ہر ہر فرد کے لئے پیکٹ بناکر بوری میں لائے تھے، تھوڑی دیر کے بعد ایک ایک پیکٹ جس کا وزن کم و بیش پانچ کیلو تھا سب کی سیٹ پر پہنچایا گیا رات ساڑھے دس بجے ہاوڑہ اسٹیشن پر گاڑی لگی الحمدللہ سب خیر خوبی کے ساتھ اترے اس طرح اس قافلہ کا سفر بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا وہاں سے ہم لوگ انفرادی گاڑیوں سے اپنے گھروں کو لوٹ گئے اس طرح چار روزہ یادگار دورہ اپنے تکمیل کو پہنچا فللّہ الحمد. ***

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے