مسلم ووٹ سے منتخب ہونیوالے قائدین کی خاموشی تشویشناک !     
سہارنپور(احمد رضا):  لگاتار مسلم طبقہ کے خلاف فرضی مقدمات ،فرضی الزامات لگائے جا رہے ہیں بيقصور مسلم افراد چار چار سال سے جیل میں قید ہیں مسلم آبادی کے گھروں اور دکانوں کو توڑا اور لوٹا جا رہا ہے، اب مسلم افراد سے اپنی دکانوں اور کام کرنیوالے مقامات پر اپنا نام لکھنے کا ہٹلری فرمان جاری کیا گیا ہے۔ مدارس اسلامیہ پر بھی جبر کرنے اور ان کی خود مختاری پر شکنجہ کسنے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ اب ملت اسلامیہ کو بہت سنجیدگی کے ساتھ حکمت عملی بنانے کے لئے آگے بڑھنا ہو گا!
مسلم طبقہ کے خلاف ہندو ووٹ کو متحد کرنے کے لئے ہی نفرت کا زہر پھیلانے کا ہندو شدت پسند تنظیموں اور ان کے کارکنان کا بڑا پلان تیار، جگہ جگہ ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوششیں تیز، اعلانیہ پھیلتی نفرت کے بیج سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی خاموشی بھی تشویش ناک۔ مسلم آبادی کے خلاف زبردست پلان یہ ہے کہ گلی کوچوں محلوں بازاروں اور بسوں کے ساتھ ساتھ ریل کے ڈبوں میں بھی مسلم افراد کو الگ تھلگ دکھایا جائے، جھوٹ اور فرضی پوسٹ کے ذریعہ مسلم آبادی اور مسلم افراد کی  مذاق بنایا جائے، تہمتوں کے ذریعہ مسلم آبادی کو بدنام اور ہندو مخالف ثابت کیا جائے، جگہ جگہ مسلم کو گائے اور مندروں کا دشمن دکھایا جائے تاکہ ہندو ووٹ متحد ہوکر بھاجپا کی جھولی میں آسانی کے ساتھ منتقل ہو جائے مگر یاد رکھیں کہ زہر کے اثر کو ختم کرنے کے لئے اس دوائی کا استمعال فائدہ دیتا ہے کہ جو دوائی زہر کے اثر کو ختم کرکے راحت بخشے اگر زہر پھیلنے میں مدد دی جائے گی تو یقین کریں زہر زبردست نقصان کا باعث بن جائیگا۔ یہی سب کچھ عمل آجکل ملک بھر میں بھاجپا کے دور اقتدار میں ہندو شدت پسند افراد اور تنظیمیں بے خوف ہوکر انجام دے رہی ہیں۔ نتیجہ نفرت بڑھ رہی ہے، ہندو مسلم اتحاد کو نیست و نابود کر کے ہندو ووٹ کو اپنی جانب راغب کیا جا رہا ہے، سرکاری مشینری بھی شدت پسند افراد کی کمر تھپ تھپانے میں اپنی کامیابی سمجھ رہی ہے، مسلم طبقہ کا ووٹ لیکر ایوان اعلی میں پہنچ کر ہندو شدت پسند افراد کے ڈر سے حق بات کہنے اور بولنے سے ڈرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہجومی تشدد اور ہندو شدت پسند افراد کے منظم حملوں میں دس سال سے زائد مدت میں ہزار مسلم افراد ہلاک کر دیئے گئے اور لاکھوں جیل میں بند مصیبتوں کا شکار بنے ہوئے ہیں، عدالتوں کو گمراہ کرکے مسلم افراد کی ضمانتیں  بھی نہیں ہونے دی جا رہی ہیں۔ ہندو افراد قتل کرنے کے بعد بھی بہ آسانی پولیس کی مدد سے باہر نکل کر اپنا مسلم دشمن کردار پھر سے نبھانا شروع کر دیتے ہیں، جانی اور مالی خسارہ اٹھانے میں مسلم آبادی آج سرفہرست ہے، سیکولر نظریات والے افراد ہندو شدت پسند تنظیموں سے خائف ہیں۔
آپ غور کریں کہ ضلع شاملی کے تھانہ بھون ساکن فروز قریشی کے قتل کے خلاف جمیعتہ علماء ہند کے ایک وفد نے کچھ عرصے قبل مولانا محمد عاقل قاسمی صدر جمعیة علماء مغربی اترپردیش اور جمعیة علماء مغربی اتر پردیش کے سکریٹری قاری ذاکر حسین کی قیادت میں شاملی کے پولیس کپتان ابھیشیک سے ملاقات کی اور گزشتہ دنوں جلالہ باد میں ہوئے فروز قریشی کے قتل کے ملزموں کی ابھی تک گرفتاری نہ ہو نے پر غم و غصہ اور اعتراض ظاہر کیا جس پر ایس پی شاملی نے وفد کو جلد ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی اور کہاکہ شواہد جمع کررہے ہیں ،ثبوتوں کی بنیاد پر کارروائی ہوگی۔
اس موقع پر قاری ذاکر حسین نے کہا کہ یہ بات یقینی ہے کہ فروز کو بھیڑ کے ذریعہ زدو کوب کیا گیااور اسکے بعد اسکا انتقال ہوا ہے ،جس کے بعد ایس پی شاملی نے کہا کہ ابھی ایک رپورٹ آنی باقی ہے اس کی بنیاد پر آگے کارروائی کی جائیگی۔ قاری ذاکر حسین نے کہا کہ اگر ضلع افسران نے قتل معاملہ میں لیپا پوتی کی گئی تو علماء کی تنظیم کورٹ کا رخ کر یگی اور ہر حال میں فروز کے قاتلوں کو سزا دلائی جائیگی آج بھاجپا کے سابق ریاستی وزیر سریش رانا فروز قاتل کےگھر گئے اوران کے بیٹے کی بھر پور مدد کرنے کاوعدہ کیا۔ اس موقعے پر سریش رانا کےساتھ درجن بھر بھاجپا کارکنان بھی موجود تھے۔ عام چرچا ئیں ہیں کہ بھاجپا کے دباؤ میں فروز کو کریمنل اور بدمعاش بتاکر معاملہ کو ہندو قاتلوں کے حق میں موڈ دیا گیا ہے ظاہر ہے کہ اس معاملہ کو افسران کے ذریعہ دبانے کا  عمل شروع ہو گیا ہے اور قاتل کھلے عام گھوم رہے ہیں پولیس ان کی گرفتاری نہیں کررہی ہے جبکہ ایس پی شاملی نے علماء کرام کے وفد کو مثبت کارروائی کی یقین دہانی کرائی تھی  اب آپ خد سمجھ لیں کہ ملک میں کیسا ذہن کام کرنے لگا ہے علماء کرام کے وفد میں مولانا مولانا محمد طاہر صدر جمعیة شاملی، مولانا محمد تحسین جنرل سکریٹری ضلع شاملی،قاری عبد الماجد، مولانا محمد ارشاد وغیرہ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے