سہارنپور(احمد رضا): مدارس اسلامیہ کے خلاف جاری سازشیں ملک کے امن و استحکام کے لئے بڑے خطرے کا الارم ہے یاد رکھیں کہ ہندو شدت پسند ایک سازش کے تحت بھاجپا کو مضبوطی دینے کے لئے نماز ،آزان ،مساجد اور مدارس اسلامیہ کو مسلسل نشانہ بناتے رہیں گے اب ہماری زمہ داری بنتی ہے کہ ہم مسلم لیڈر شپ کو نظر انداز کر تے ہوئے صرف اور صرف علمائے کرام اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا کے جھنڈ کے نیچے متحد ہو کر حق اور حقوق کی حفاظت کے لئے آواز بلند کریں اگر آپ ابھی بیدار نہی ہوئے تو بڑا خسارہ اٹھانے کے لئے بھی تیار رہو؟ مسلم قوم صحیح معنوں میں آج گمراہی کی طرف کامزن ہے اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے آواز نہیں اٹھا رہی ہے، بھلا ملت اسلامیہ کی حفاظت کیسے کر یگی۔ آج ملت اسلامیہ کو ہر صورت علماء کرام کے ساتھ ملکر خود کو اور اپنی نسل کو محفوظ کرنے کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی۔ ملت اسلامیہ کی کمزوری دیکھ کر آج جگہ جگہ ہمارے بزرگوں ،علماء کرام اور عام مسلمانوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اگر احتجاج نہی کیا تو غلام بن کر رہ جاؤ گے ہوش میں آجاؤ علماء کرام کی اور انکے احکامات کی پابندی رکھو!
واضع رہے کہ ایک عام نظریہ والے وکیل کی فرضی یعنی حقیقت سے کوسوں دور دلائل پر 22 مارچ کو ہمارے الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ سنا تے ہوئے ’یوپی بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن ایکٹ 2004‘ کو غیر آئینی قرار دے دیا یعنی مدارس اسلامیہ میں زیر تعلیم سبھی مدارس کے طلبا کو اسکولوں میں منتقل کیے جانے کی ہدایت بھی دے ڈالی اچانک آئے اس فیصلہ کے بعد سبھی ریاستی مدارس کے انتظامیہ میں زلزلہ پیدا ہو گیا اور سوچ و فکر کی ایک طویل سنجیدہ لہر اقلیتی طبقہ میں دوڑ پڑی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ پہنچے مسلم درخواست دہندہ کی دلیل سننے کے بعد کل قابل احترام سپریم عدلیہ نے اتر پردیش کے مدارس میں پڑھنے والے تقریباً 17 لاکھ طلباء اور مدارس سے جڑے تقریباً 10 ہزار اساتذہ کو ’سپریم‘ راحت عطا کردی ہے جس سے مخالفین مدارس کے ہوش فاختہ ہوگئے سپریم عدالت نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگانے کا اعلان بھی کر دیا ہے سپریم کورٹ نے آج کہا کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کا یہ کہنا کہ مدرسہ بورڈ آئین کے جمہوری اصول کی خلاف ورزی کرتا ہے، یہ درست نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے مدرسہ بورڈ کے 17 لاکھ طلباء اور 10 ہزار اساتذہ کو دیگر اسکولوں میں شامل کرنے کے عمل پر بھی روک لگا دی ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت اور اتر پردیش حکومت کو نوٹس بھی جاری کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایڈووکیٹ انشومن سنگھ راٹھوڑ نے یوپی مدرسہ لاء کے آئینی جواز کو چیلنج پیش کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی۔ اس پر ہائی کورٹ نے یوپی مدرسہ لاء کو غیر آئینی مانتے ہوئے اسے ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ جسٹس وویک چودھری اور جسٹس سبھاش ودیارتھی کی ڈویزن بنچ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ’’حکومت کے پاس یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ مذہبی تعلیم کے لیے بورڈ تشکیل کرے یا پھر کسی خاص مذہب کے لیے اسکول تعلیمی بورڈ بنائے‘ الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے اپنے حکم میں ریاستی حکومت کو ہدایت بھی دی تھی کہ وہ ریاستی مدارس میں پڑھ رہے بچوں کو دیگر اسکولوں میں شامل کرے، اس عدالتی فیصلے کو آپ بغور ملاحظہ کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ ہندو شدت پسند افراد کی سازش کا ایک حصہ ہے کہ عدالتوں کو گمراہ کر کے مدارس اسلامیہ اور مساجد کے خلاف ماحول تیار کیا جا رہا ہے تاکہ ملت اسلامیہ کو پست کیا جا سکے!
