محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک۔ 
۱۔ ختم ِ خوبصورتی 
’’جی رہاہوں ، کوشش ہے کہ ناشکری نہ ہو‘‘
اس بیان کے بعد کہانی ختم تھی لیکن خطرناک موڑ یہ آیاکہ حرص نے دل ودماغ پر قبضہ جمالیا۔شکرگزاری جیسی خوب صورتی ختم ہوکر رہ گئی بلکہ وہ آدمی ہی ختم ہوکر رہ گیااور کیا۔
۲۔  افسانچائی بات
اپنے افسانچوں میں اُ س کو افسانچائی بات کہناآتی ہے ۔ یہ کہہ کر قلم توڑ دیاگیاتھا۔پچیس سال بعد اس قلم کوڈھونڈا جارہاہے۔
۳۔ English City
شہرِ اردو سے اُردودرس وتدریس ختم ہورہی تھی۔ کبھی اُردوزبان کیلئے جی جان لگادینے والے باوقار اِدارے جب نئی نسل کے حوالے ہوئے تو اردو سے تعلیم حاصل کرچکی اس نئی نسل نے جو اب بوڑھی ہوچکی تھی،فیصلہ کیاکہ چوں کہ ُاردو کی طرف کوئی دیکھ نہیں رہاہے ، اُردو کوکوئی پوچھ نہیں رہاہے ،لہٰذا اُردو اسکولوں کو انگریزی اسکولوں میں تبدیل کردیاجائے ۔ اس عمل سے مسلمانوں کااِدارہ بھی زندہ رہے گااور وہ وقار جو ادارے کوپہلے حاصل تھا وہ واپس لوٹ آئے گا۔
  اِدارے کے وقار کو لوٹانے کے لئے اُردو اسکولوں کو انگریزی اسکولوں سے تبدیل کرتے ہوئے اردو درس وتدریس کی قربانی دی گئی اور کسی پیشانی پر بل تک نہیں آیا۔ اس طرح مسلم ملت کاشہرِ اردوEnglish City میں تبدیل ہوگیا۔
اُردودرس وتدریس کے قاتل دراصل انگریزی زبان کے مسیحا اور قوم کو تیزرفتار ترقی کی راہ بتلانے والے زمانہ شناس قائد کہلائے۔ ان انگریزی اسکولوں میں اُن مرحوم مسیحاؤں کے مجسمے لگانے کی سعی جاری ہے ۔اورسن گن یہ بھی ہے کہ انگریزی اسکولوں میں اُن مسیحاؤں کے مجسمے لگتے ہی اُن مجسموں پر پھول چڑھانے کی روایت اختیارکی جائے گی۔اس طرح سب سے پہلے یہودونصاریٰ کے اسی مجسماتی غار میں مسلم قوم پہنچے گی ۔اس کواور بھی جگہوں پر جانا باقی ہے۔
قیامت نزدیک آچکی ہے۔
۴۔ آسودہ نیند 
آج کھاناپکانہیں تھا۔ کیوں کہ کھانا پکاکر دینے والی اس کی زوجہ میکے گئی ہوئی تھی۔
وہ  باورچی خانہ میںداخل ہوااور ٹٹولنے لگا کہ کچھ کھانے کو مل جائے ۔ کھارا(نمکین) رکھاہواتھااس میں سے لے کر تھوڑا ساکھارااس نے کھالیا۔ فریج میں مٹھائی رکھی ہوئی ملی ، ایک پیس منہ میں ڈال لیا۔ اچار تھا آم کا، اس کی ایک پھانک مصالحہ سمیت منہ میں ڈال کر اس کالطف لینے لگا۔ کھٹاکھٹااچار اچھا نہ لگامگر بھوک لگی ہوئی تھی اسلئے کھانا ہی پڑا۔
رات میں لائی ہوئی بریڈ بھی مل گئی، بچوں نے شاید نہیں کھایاتھا ۔اس کوبغیر گرم کئے اس نے کھانا چاہا لیکن دل نے نہیں مانا اس کے باوجو دایسے ہی نوش کرگیا۔ابھی بھوک ختم نہیں ہوئی تھی۔چوں کہ وہ کھانا وانا پکانا جانتانہیں تھا۔اسلئے گھر سے باہرنکل آیا۔
نکڑ کی ہوٹل پہنچا۔ اڈلی وڈا اور سشلا دستیاب تھا ۔ اس نے سشلا کھالیا۔چائے بھی پی لی۔گھر واپس آتے ہوئے کرانہ کی دوکان سے نمکین اور میٹھے  بسکٹ خریدے ، گھر پہنچا۔کچھ دیر کے لئے سوناچاہتاتھا۔ لیٹاہی تھاکہ دل نے مزید کھانے کی خواہش کااظہار کیا۔ لائے ہوئے  بسکٹ میں سے Kracjack  بسکٹ کھاکرلیٹ گیا۔اس کو آخر کارنیند آگئی۔
  بہرحال کہانی یہ کہہ رہی ہے کہ روزانہ گھر پر ملنے والا کھانا باعث برکت ہوتاہے ورنہ چاہے جتنا کھالیں ، پیٹ اور نیت دونوں بھرتے نہیں ہیں، پیاس اورآس لگی رہے گی۔اس لئے ہوشیار ، اِدھر اُدھر منہ نہ ماریں ،فوراً شادی کیجئے گا۔ جسم وجاں اور پیٹ ونیت ہمیشہ بھریں رہیں گے۔اورواقعی خوشی بھی ملے گی اور ایک آسودہ نیند بھی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے