(اسماعیل ہانیہ کی فائل فوٹو)

محمد ہاشم القاسمی
(خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)
فلسطین کے سابق وزیراعظم حماس کے سیاسی سربراہ اور حماس کے پولیٹیکل بیورو کے چیئرمین اسماعیل ہانیہ کو 31 جولائی 2024 بروز بدھ کی رات دو بجے ایران میں شہید کر دیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون. اسماعیل ہانیہ ایران کے نو منتخب صدر مسعود پیشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنے دوحہ قطر سے تہران پہنچے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے ساتھی وسیم ابو شعبان بھی شہید ہوگئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسماعیل ہانیہ شہید رحمۃ اللہ علیہ کے جسد خاکی کو ان کے شیخ و مرشد علامہ یوسف قرضاوی رحمۃاللہ علیہ کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔ 2 اگست بروز جمعہ نماز جمعہ کے بعد دوحہ کی” جامع مسجد امام عبد الوہاب” میں نماز جنازہ ادا کی جائے گی انا للہ وانا الیہ راجعون. اسماعیل ہانیہ 23 جنوری 1962 کو غزہ کی پٹی "الشاطی پناہ گزین کیمپ” میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے خاندان نے مقبوضہ ضلع عسقلان کے گاؤں "الجورا” سے ہجرت کرکے پناہ لی تھی۔ عسقلان فلسطین کی وہ قدیم اور مردم خیز بستی ہے، جہاں امیر المومنین فی الحدیث امام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ جیسی نابغہ روز گار شخصیت نے جنم لیا اور یہ وہی عسقلان ہے جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تھا کہ "تمہارا بہترین جہاد رباط (سرحد کی پہرہ داری) ہوگا اور تمہارا بہترین رباط عسقلان ہوگا۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ ناجائز صہیونی ریاست نے اس علاقے پر قبضے کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے” اشکلون” رکھ دیا ہے۔
اسماعیل ہنیہ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) کے اسکولوں میں پرائمری اور مڈل سطح کی تعلیم حاصل کی اور پھر "الازہر انسٹی ٹیوٹ” سے ہائی اسکول کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا، اس کے بعد انہوں نے 1987 میں غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور عربی ادب میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ بعدازاں اسی یونیورسٹی نے انہیں پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا۔ اپنی یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران، اسماعیل ہانیہ اسٹوڈنٹ یونین کونسل کے ایک فعال رکن کے طور پر ابھرے، اس کے علاوہ وہ 1992 میں اسلامی یونیورسٹی آف غزہ میں ڈین بننے سے پہلے کئی عہدوں پر فائز رہے۔ 1997 ء میں اسرائیل کی جانب سے 6 ماہ قید کی رہائی کے بعد وہ شیخ احمد یاسین رحمۃاللہ علیہ کے دفتر کے سربراہ کے طور پر کام کرنے لگے ۔اسماعیل ہانیہ نے حماس کے بانی شیخ احمد یاسین سے متاثر ہو کر اپنا مرشد بنالیا، وہ اسماعیل ہانیہ کے خاندان کی طرح اشکلون کے قریب الجورا گاؤں سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین مجاہد تھے۔
سنہ 1994 میں انہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ شیخ احمد یاسین فلسطینی نوجوانوں کے لیے ایک نمونہ ہیں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم نے ان سے اسلام سے محبت اور اسلام کے لیے قربانیاں دینا اور ظالموں اور جابروں کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنے دینا سیکھا ہے، سنہ 2003 تک اسماعیل ہانیہ شیخ احمد یاسین کے ایک قابل اعتماد معاون تھے۔ انہوں نے غزہ میں اپنے مرشد کے مکمل طور پر تباہ شدہ گھر میں مکمل طور پر مفلوج شیخ احمد یاسین کے کان پر فون رکھ کر تصویر کھینچی تھی تاکہ وہ بات چیت میں حصہ لے سکیں۔ شیخ احمد یاسین رحمۃاللہ علیہ کو اسرائیل نے 2004 میں شہید کر دیا تھا، اسماعیل ہانیہ کو اسرائیلی قابض حکام نے پہلی بار 1987ء میں فلسطینی انتفاضہ شروع ہونے کے بعد گرفتار کیا تھا، وہ 18 دن تک جیل میں رہے تھے، پھر 1988ء میں انہیں 6 ماہ تک دوسری مرتبہ حراست میں رکھا گیا۔ اسماعیل ہنیہ 1989 میں حــــــمـــــاس تحریک سے تعلق کے الزام میں دوبارہ اسرائیلی جیل گئے۔ جہاں انہوں نے 3 سال حراست میں قید و بند کی زندگی گزاری، اس کے بعد انہیں جنوبی لبنان کے علاقے "مرج الظہور” میں جلا وطن کر دیا گیا۔ وہاں وہ ایک سال گزارنے کے بعد واپس پھر غزہ کی پٹی لوٹ آئے۔ کیونکہ اس دوران "اوسلو معاہدے” پر دستخط ہوگئے تھے اور ان کی جلاوطنی ختم ہوگئی تھی۔ وطن واپسی کے بعد وہ غزہ اسلامی یونیورسٹی میں اسلامی بلاک کے سربراہ بن گئے۔ وہاں اسماعیل ہنیہ نے تبدیلی اور اصلاحات کی سیاست کا باقاعدہ آغاز کیا۔ انہوں نے جنوری 2006ء کے شروع میں منعقد ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی اور فروری 2006ء میں حــــــمـــــاس کی طرف سے تشکیل دی گئی فلسطینی حکومت کے سربراہ یعنی وزیر اعظم بن گئے تھے۔ اسرائیل ماضی میں کئی بار اسماعیل ہنیہ کو شہید کرنے کی کوششیں کر چکا ہے۔ پہلی بار 2006 میں جب اسماعیل ہنیہ وزیر اعظم تھے تب اسرائیلی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے انکے دفتر کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں انکے تین محافظ زخمی ہوئے لیکن آپ کچھ لمحے پہلے اپنے دفتر سے نکلنے کے باعث محفوظ رہے تھے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد مبینہ طور پر قطر اور ترکیہ میں بھی کئی بار قاتلانہ حملے کی کوشش کر چکی تھی۔ اسرائیل نے الشاطی پناہ گزین کیمپ میں اسماعیل ہنیہ کے گھر کو بھی گئی بار نشانہ بنایا ہے۔ 14 جون 2007 کو فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسماعیل ہانیہ کو اس وقت برطرف کر دیا تھا جب حــــــمـــــاس تحریک کے عسکری ونگ شہید عزالدین القسام بریگیڈز نے غزہ کی پٹی میں سیکورٹی سروسز کے مراکز کا کنٹرول سنبھال لیا تھا تاکہ امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔ پٹی میں کئی مہینوں تک بدامنی کی صورت حال رہی، لیکن فلسطینی اتھارٹی نے اس فیصلے کو مسترد کر دیا اور غزہ میں قائم "اسماعیل کی ہانیہ حکومت” کو ختم کردیا گیا۔ اسماعیل ہانیہ فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ قومی مفاہمت کا دروازہ کھولنے کے خواہاں تھے اس لئے انہوں نے ایک جامع مفاہمت کے فریم ورک کے اندر برطرف حکومت کی صدارت سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا اور وہ قومی مفاہمت کی حکومت کی مخلوط حکومت پر راضی ہو گئے تھے۔ نتیجے کے طور پر، 2 جون 2014 کو ایک نئی حکومت کا اعلان کیا گیا، جس کی سربراہی ماہر تعلیم رامی حمد اللہ نے کی، اسماعیل ہانیہ نے فلسطینی عوام کو نئی حکومت کے قیام پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا "آج میں رضا کارانہ طور پر حکومت ان کے حوالے کرتا ہوں اور اگلے مرحلے میں قومی اتحاد اور مزاحمت کی ہر شکل میں کامیابی کا خواہاں ہوں۔” اسماعیل ہانیہ نے محض سولہ سال کی عمر میں اپنی چچا زاد بہن امل ہانیہ سے شادی کی، اور ان سے 13 بچے ہوئے، آٹھ بیٹے اور پانچ بیٹیاں۔
اسماعیل ہانیہ کی بیٹیوں کے نام اور سن پیدائش یہ ہیں 1986 میں پیدا ہونے والی لڑکی کا نام سینا، 1987 میں پیدا ہونے والی لڑکی کا نام بتھینا، 1992 میں پیدا ہونے والی کا نام خولہ، 1998 میں پیدا ہونے والی کا نام لطیفہ اور 2004 میں پیدا ہونے والی کا نام سارہ ہیں۔ اور ان کے ان کے آٹھ بیٹے تھے: عبدالسلام 1981 میں پیدا ہوئے، حمام 1983 میں، وسام 1984 میں، معاذ 1985 میں، عاد 1994 میں، حازم 1994 میں پیدا ہوئے اور اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے۔ عامر 1995 میں پیدا ہوا اور ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہو گیا اور محمد 1996 میں پیدا ہوا اور اسرائیلی حملے میں شہید ہو گیا۔اسماعیل ہانیہ حماس کے ان رہنماؤں میں شامل تھے جن کے پورے خاندان نے فلسطین کی آزادی کی جنگ لڑی اور قربانیاں دیں، ابتک اس جنگ میں ان کی بہن، 3 بیٹوں اور پوتے سمیت پورے خاندان کے 79 لوگ شہید ہوچکے ہیں.
حماس نے اسماعیل ہانیہ کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا، جس میں تنظیم نے کہا کہ "اسماعیل ہانیہ پر حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، یہ ایک بزدلانہ کارروائی ہے جس کا بدلہ لیں گے "حماس رہنماء اسماعیل ہانیہ فلسطین ہی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتے تھے، انہوں نے کبھی بھی فلسطین کی آزادی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا،
حماس کے ترجمان نے کہا کہ” ایران ایک مسلمان ملک ہے، مسلم امہ کو اس کا منہ توڑ جواب دینا چاہیے، اسرائیل کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آچکا ہے، ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں اپنا دفاع کر رہے ہیں، اسرائیل تمام سرخ لکیروں کو عبور کررہا ہے عالمی برادری کیا کرے گی، اسرائیل نے ایک عالمی لیڈر کاقتل کیا ہے، اقوام متحدہ کو ایکشن لینا چاہئے، اسرائیل نے صرف اسماعیل ہانیہ نہیں بلکہ تمام مسلمانوں پر حملہ کردیا ہے۔ ” اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہانیہ کی شہادت کے بعد پہلا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے اپنے دشمنوں کو عبرت ناک جواب دیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ خطاب تقریباً 5 منٹ تک ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا، تاہم اس دوران انہوں نے تہران میں قتل ہونے والے حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہانیہ کا کوئی ذکر نہیں کیا، اس کے برعکس انہوں نے بیروت میں مارے گئے حزب اللہ کے ایک سینئر اہلکار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل غزہ میں جاری جنگ بندی کے دباؤ میں آجاتا تو کبھی بھی حماس کے رہنماؤں اور دیگر ہزاروں دہشتگردوں کو ختم نہیں کرسکتا تھا "ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ "ہم تہران میں اسماعیل ہانیہ کی شہادت کے واقعے کے طول و عرض کا مطالعہ کر رہے ہیں اور ہم تحقیقات کے نتائج کا اعلان بعد میں کریں گے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ اسماعیل ہانیہ اور ان کے ایک محافظ کو تہران میں ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کے بعد شہید کر دیا گیا۔ اسماعیل ہانیہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران کے دورے پر تھے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا اسماعیل ہانیہ کی شہادت کا بدلہ لینا ایران کا فرض ہے، اسرائیل نے اپنے لیے سخت سزا کی بنیاد فراہم کردی ہے ۔” پوری دنیا سے اسرائیل کی اس بزدلانہ رویے کی مذمت کی جا رہی ہے وہیں اسماعیل ہانیہ کی شہادت پر تعزیت اور خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے.
فلسطین کے صدر محمود عباس نے حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کے تہران میں قتل کی شدید مذمت کی ہے۔اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد فلسطینی قومی اور اسلامی تنطیموں نے عام ہڑتال اور بڑے پیمانے پر مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
لبنان کی حزب اللہ نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کی ایران کے دارالحکومت تہران میں رات گئے شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ حزب اللہ نے کہا کہ اس سے ایران سے وابستہ گروہ اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ پرعزم ہو جائیں گے۔”
ترک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ” ترک صدر رجب طیب اردوان اسماعیل ہانیہ کے ’شرمناک قتل‘ کی مذمت کرتے ہیں۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کے تہران میں شرمناک قتل کی مذمت کرتے ہیں اور اس حملے کا مقصد غزہ کی جنگ کو ایک علاقائی سطح تک پھیلانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے اپنے وطن میں امن سے رہنے کے لیے اسماعیل ہانیہ جیسے لاکھوں شہیدوں کی قربانی دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر نیتن یاہو کی حکومت نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کا امن قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اگر عالمی برادری نے اسرائیل کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیے تو ہمارے خطے کو بہت بڑے تنازع کا سامنا کرنا پڑے گا۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر کے حملوں سے قبل ترکی میں کافی وقت گزارنے والے اسماعیل ہانیہ نے آخری بار اپریل میں استنبول میں اردوان سے ملاقات کی تھی۔”
روس کے نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف نے کہا ہے کہ” روس اسماعیل ہانیہ کے ’ناقابل قبول سیاسی قتل‘ کی مذمت کرتا ہے۔
بوگدانوف نے سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’یہ مکمل طور پر ناقابل قبول سیاسی قتل ہے اور اس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔”
قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قطر نے تہران میں حماس کے سربراہ کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ اسماعیل ہانیہ کا قتل ایک خطرناک واقعہ ہے۔”
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ "ہمیں اس واقعے پر گہری تشویش ہے اور ہم اس قتل کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔”
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسماعیل ہانیہ کے خاندان اور فلسطینیوں کے غم میں برابر کی شریک ہے، اسماعیل ہنیہ کی شہادت سے فلسطین کی آزادی کی تحریک ختم نہیں ہوں گی، اسماعیل ہنیہ سے جب ملاقات ہوئی وہ شہادت کے جزبہ سے سرشار تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسماعیل ہنیہ اور ان کے خاندان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، شہادت پر ان کی خدمات کے اعتراف میں اسمبلی اجلاسوں میں قرادادیں پیش کریں گے۔”
افغان طالبان حکومت نے اسماعیل ہانیہ کے ایران میں قتل کو” بہت بڑا نقصان” قرار دیتے ہوئے انہیں ’ایک ذہین فلسطینی رہنما‘ قرار دیا ہے۔
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ” وہ کامیاب رہے اور انہوں نے مزاحمت، قربانی، صبر، رواداری، جدوجہد اور عملی قربانی کا سبق اپنے پیروکاروں کو دیا ہے۔”
یمن کے حوثی باغیوں کے سربراہ محمد علی الحوثی نے کہا کہ "اسماعیل ہانیہ کو نشانہ بنانا ایک گھناؤنا دہشت گردانہ جرم اور قوانین اور مثالی اقدار کی کُھلی خلاف ورزی ہے۔‘
اسماعیل ہانیہ نے ایک موقع پر کہا تھا کہ "ہم وہ لوگ ہیں جو موت کو اسی طرح پسند کرتے ہیں جیسے ہمارے دشمن زندگی سے پیار کرتے ہیں”
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شہید اسماعیل ہانیہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے مزاحمت اور آزادی کی تحریکوں کے لئے ایک مثال تھے،
ان کی شہادت سے فلسطینیوں کے اندر نیا نظم اور جذبہ پیدا کرے گی۔ اب عالم اسلام کو اچھی طرح یہ سمجھ لینا چاہئے کہ امریکہ اور اسرائیل کی سرپرستی میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے، اور ان بحرانوں کا علاج اور واحد حل صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ کو متحد ہونا چاہئے اور عالم اسلام کی قیادت کو چاہئے کہ بزدلی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے متحد ہو کر آگے بڑھے تاکہ اسماعیل ہنیہ اور ان جیسے جانبازوں کا پاک خون رائیگان نہ جائے. ***
