مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ
جناب خورشید حسن صاحب چیر مین اسلامیہ گروپ آف انسٹی چیوشن پھلواری شریف، پٹنہ نے اپنے والد اورہمارے عہد کی تاریخ ساز تعلیمی وسماجی شخصیت، بے انتہا متحرک وفعال انسان جناب الحاج ڈاکٹر محمد احسن (آمد 2/ اپریل 1952ء -رفت 24/ مارچ 2017ء) بن الحاج عبد الستار صاحب کی حیات وخدمات پر مشتمل ایک کتاب مرتب کیا ہے، یہ ایک اچھی بات ہے، مرحوم کا حق تھا کہ ان کے احوال وآثار، زندگی کے واقعات وحوادثات سے اہل علم طبقہ کو باخبر کیا جائے، تاکہ قارئین،مرحوم کی زندگی کے تابندہ نقوش سے اپنی زندگی کے خد وخال کو منور کر سکیں، ان کی کامیابی کے اسرار ورموز سے واقف ہو کر خود کو بھی متحرک اور فعال بنا سکیں۔
ڈاکٹر محمد احسن صاحب مرحوم محکمہ پولس حکومت بہار سے 30/ اپریل 2000ء میں سبکدوش ہوئے، سبھی جانتے ہیں کہ پولس کی ملازمت کس طرح خشکی اور کرختگی لیے ہوتی ہے، لیکن انہوں نے اپنی تحریکی زندگی میں اس ملازمت کو آڑے نہیں آنے دیا، انہوں نے اپنی زندگی کے دو خانے کر رکھے تھے، ملازمت کی زندگی الگ تھی، سماجی اور تعلیمی زندگی الگ، اس تفریق کی وجہ سے ہی وہ دونوں محاذ پر کامیاب رہے۔
تعلیمی اسناد کی حد تک وہ گریجویٹ تھے، لیکن انہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیت کے سہارے چودہ تعلیمی ادارے قائم کیے، انہیں وقار واعتماد بخشا، ان میں ادارہ فلاح المسلمین بھی ہے اور اردو ہائی اسکول بھی، کئی بی ٹی، بی ایڈ اور ڈی ایل ایڈ کالج ہیں، انفارمیشن ٹکنالوجی، آرٹ اینڈ کرافٹ، صحت، اسلامک اسٹڈیز، خدمت خلق، ویلفیر سوسائٹی جیسے ادارے بھی ہیں، ان میں سات ادارے وہ ہیں جن کے نام میں اسلامیہ اور اسلامک لگا ہوا ہے، اسے ہم صرف اتفاق نہیں کہہ سکتے، جب تک ایمان واسلام قلب میں راسخ نہ ہو تو یہ نام کا جز نہیں بن سکتا تھا، اس لیے تعلیمی اداروں کے ان ناموں کو پیرا میٹر سمجھنا چاہیے کہ ڈاکٹر محمد احسن اسلام کے بارے میں کس طرح سوچا کرتے تھے، اسلاموفوبیا کے اس دور میں جب لوگ اپنی اسلامی شناخت چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، اس دور میں انہوں نے اسلامیہ لگا کر اپنے موقف اور طریقہ کار کا کھلے عام اعلان کیا، تجارتی نقطئہ نظر سے اس کے لیے بڑا دل گردہ چاہیے تھا، جو ان کے اندر اللہ نے رکھا تھا، انہیں اس نام کے لگانے سے حالات کے تلاطم نے نہیں روکا۔
جن اداروں کے ناموں میں اسلام جز نہیں ہے،وہ بھی خدمت خلق اور ویلفیر سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ دونوں کام اسلام کے امتیازات میں سے ہیں، بھلائی کے کام اور مخلوق کی خدمت بڑا کار ثواب ہے، اس طرح یہ بھی ان کے لیے صدقہ جاریہ ہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں کثیر العیال بنایا تھا، چھ لڑکے، چار لڑکیاں دس کی تعداد کم نہیں ہوتی، سب کو انہوں نے اچھی تعلیم دلائی، بہترین تربیت کی اور آج وہ سب مختلف میدانوں میں بہترین خدمات انجام دے رہے، جناب خورشید حسن صاحب ترتیب کے اعتبار سے ان کے پانچویں فرزند ہیں اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے والد کی فکر کو پورے طور پر اوڑھ رکھا ہے اور اپنے ارد گرد اس طرح سے کام کے لوگوں کو جوڑا ہے، جو ان اداروں کے مقاصد کے حصول میں ان کے بہترین معاون ہیں، ان لوگوں میں ایک مولانا افتخار احمد نظامی بھی ہیں جنہوں نے امارت شرعیہ میں رہ کر برسوں کام کا تجربہ حاصل کیا، جس کی وجہ سے سرکاری کارندوں سے نمٹنے کا فن انہیں آگیا۔ وہ قاضی نور الحسن میموریل اسکول کے پرنسپل اور ہمہ گیر تعلیمی مہم اور ہنر کے ذمہ دار بھی رہے۔
مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ ڈاکٹر محمد احسن صاحب سے میری ملاقات کبھی نہیں ہوسکی، حالاں کہ کم وبیش چودہ سال کا دورانیہ پھلواری شریف میں میرے قیام کا وہ ہے جس میں وہ باحیات تھے، لیکن میری خلوت نشینی کی وجہ سے اس متحرک اور فعال شخص سے ملنے کی نوبت نہ آسکی، ان کے کام کے چرچے سنے اور اسی بنیاد پر یہ چند سطور لکھے جا سکے۔اللہ مرحوم کی مغفرت فرماے، ان کے کاموں کو آگے بڑھایا جائے، یہی ان کے لیے بہترین خراج عقیدت ہے۔
