محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔ پروجیکٹ ، پیسہ اور قدریں
’’کوسٹل بیلٹ والوں کی رقم کے ذریعہ مدد نہ کی جائے‘‘ حکم آگیاتھا۔ ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آسکاکہ ایساکیوں ؟وہ لوگ آئے ، اپناپروجیکٹ سامنے رکھا۔ اور بات چیت کرکے چلے گئے۔ ایک لاکھ روپئے تک جمع نہ کرسکے ۔
ان کے جانے کے بعد رابطہ کیاگیاکہ ایساکیوں ؟ کیا کوسٹل بیلٹ والے ہمارے لوگ نہیں ہیں ۔ جواب ملا’’جواب کیلئے دودن انتظار کریں ، ذمہ داران دیگر اہم کام میں مشغول ہیں ‘‘
دو دن بعد نمازفجر کے فوری بعدموبائل کی گھنٹی بج اٹھی ۔ کہاگیا کہ’’کوسٹل بیلٹ دراصل ایک کھلے مزاج کابیلٹ ہے۔ یہاں کی بیشتر عورتیں چہرہ کھلارکھ کر گھومتی ہیں۔ ان کے صحافتی پروجیکٹ میں مدد کے بعد کھلا چہرارکھنے کی وباء اس پروجیکٹ کی بدولت دکن بیلٹ میں بھی پہنچ سکتی ہے ، اس کے علاوہ کوسٹل بیلٹ کا ترقیاتی یاسماجی کام کوسٹل بیلٹ تک محدود ہے ، اس کے فائدے دکن بیلٹ تک نہیں پہنچتے ۔ لہٰذا ہماری دکن بیلٹ والوں سے یہ بھی گزار ش ہے کہ سوچ سمجھ کر پروجیکٹ میں حصہ لیں اور ایسے افراد کے اختیار ات کو محدود کردیں جو کوسٹل بیلٹ سے آکروہاں ملازم ہیں اور کی پوسٹ پر قبضہ کررکھاہے ۔کیوں کہ کل کلاں کو دوسری تہذیب وتمدن کے زیراثردکن بیلٹ اپنی تہذیب وثقافت اوراپنی صحافتی قدروں سے آزاد نظر آسکتاہے ، لہٰذا ہوشیار،کل یہ شکویٰ نہ کرناکہ تنظیم نے ہمیں خبردار نہیں کیا تھا ‘‘
مسئلہ اور اس سے زیادہ مسئلہ کاحل ہماری سمجھ میں خاک بھی نہیں آیا۔ سیدھے سیدھے علاقائی تعصب کی بات ہورہی تھی۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ ہم جیسے بدھوؤں کو کبھی ہیرپینچ میں پڑنا نہیں آتا۔ جس چیز کوسمجھنے کی کوشش کی، سیدھے طورپر سمجھنے کی کوشش کی اور اس کو برتنے میں بھی راست طریقہ اختیار کیااورکیا۔اب ہم لوگسرپکڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔کیاکریں ؟ کیانہ کریں ؟سے نکلنا آسان نہیں لگ رہاہے۔
۲۔ چار روزہ نسائی تقاریب
جامع مسجدمیں چار دن تک مختلف پروگرام تھے۔ پہلادِن چھوڑ کر باقی تین دِن اس جامع مسجد میں بڑے بڑے پروگرام رکھے گئے تھے۔
پہلے دن ایک مذہبی جماعت کے شعبہ ء خواتین کا دوگھنٹے کاپروگرام تھا۔ دوسرے دِن وہاں دِن بھرکامردوں کا پروگرام تھا لیکن اس میں خواتین کو شامل رکھاگیاتھا۔ان کے لئے پردے کاخصوصی انتظام بھی تھا۔ پوچھا گیاکہ اہل ِ تصوف کے یہاں خواتین کاکیاکام ؟ جوابات تو دئے گئے لیکن ہر جواب دوسرے سے مختلف تھا۔ تیسرے دن سرکار دوعالم ﷺ کی آمد کے پیش نظرگرلز ہائی اسکول،کالجس اور عربی مدارس کی لڑکیوں کے درمیان نعت گوئی مقابلہ کا دن بھر کاپروگرام تھا۔ اور چوتھے دِن کسی فضیلت الشیخ کی آمد تھی اور ’’مساجد پر خواتین کاحق‘‘ عنوان سے ایک عظیم الشان خطاب رکھاگیا تھا۔خطاب کے بعد خواتین کے لئے طعام کااہتمام بھی تھا۔
ان چار دِن کے پروگراموں کواخبار میں پڑھنے والے اُس بے وقوف مزاج شخص نے گویا ان پروگراموں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا’’لگتاہے ، چار دِن تک جامع مسجد پرخواتین اور نوجوان لڑکیوں کاراج رہے گا، اگر یہی حالت رہی تو جامع مسجد کے صحن میں ایک دن طالبات کے کھیل کود کے مقابلے بھی رکھے جانے کامجھے خدشہ ہے، جسے دیکھنے کے لئے مردوں اور نوجوان لڑکوں کی بڑی تعداد جمع ہوسکتی ہے ‘‘
میں اس کی بات سن کر ہتھے سے اکھڑ گیا۔ میں نے کہا’’کیاتکلیف ہے بھائی، عورت اور لڑکیاں مسجد ہی تو آرہی ہیں۔ کیاان کو بازار وں میں ہی رہناچاہیے ؟‘‘
اس بے وقوف مزاج شخص نے میری بات کاجواب دیتے ہوئے کہا’’اجی حضرت ، عورت اور لڑکیاں مسجد آئیں لیکن دن بھرکیلئے نہیں ۔ اور مسجد آئیں بھی تو فجر اور عشاء کی ادائیگی کے لئے آئیں ۔پھرفوراًوہاں سے چلی جائیں ۔ آخر شہر میں یہ سب کیاہورہاہے ؟ مختلف دینی جماعتیں اپنی اپنی خواتین اورلڑکیوں کویکے بعددیگر ے پروگراموں کے ذریعہ آگے کیوں کررہی ہیں ؟ یہ آپس میں کس طرح کامقابلہ ہے ؟مجھے تو یہ ایک کڑا مقابلہ معلوم ہورہاہے ‘‘
میں اس شخص کی تنقید کے ساتھ ہی سنبھل گیا اور سوچنے لگاواقعی شہر میں دینی خواتین اور طالبات کی اچانک ہوڑسی کیوں کر لگی ہوئی ہے
۳۔ قلمی مجبوری
عدالتیں ، منتخبہ عوامی نمائندوں کوسزاد ینے کے بجائے مقدمات سے بری کردیاکرتی تھیں۔ یہ دھاندلی بھی عرصہ ء درازتک جمہوریت کے نام پر چلتی رہی۔
پھراس جنوبی ملک میں ایسی آندھی آئی کہ عدالتوں سے وہ سارے جج غائب کردئے گئے ۔ کہتے ہیں، ان تمام ججس کو کہیں صحرا میں پھینک دیاگیا۔ کچھ لوگوں کامانناہے کہ انہیں لندن بھیج دیاگیا ۔جو بھی کیاگیاہو بہرحال خاطی ججس سے اُس جنوبی ملک کو آخرکار چھٹکار امل ہی گیا۔
جو حقیقی کہانی تھی،اس میں یہ سب نہیں ہواتھا مگر کہانی کارنے اپنے قاری کو خوش رکھنے کے لئے مذکورہ کہانی لکھ کرقلم توڑ دیا۔وہ دراصل اپنے قاری کوٹنشن دینا نہیں چاہتاتھا، خوشخبری پر مبنی کہانیاں پیش کرنا اس کی قلمی اورقلبی مجبوری تھی۔
۴۔ ونڈو=چارہ
اس نے ایک ونڈو کھول رکھاہے۔ جس میں سبھی لوگ کوئی سی چیز ارسال کرسکتے ہیں ۔ کسی پر بھی پابندی عائد نہیں ہے۔نہ ہی کوئی قانون انہیں کسی بھی قسم کی ایکٹیوٹی کو انجام دے کر ونڈ ومیں پوسٹ کرنے سے روک سکتاہے۔
اس ونڈو کواستعمال کرنے والے خوش ہیں کہ ان پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ونڈوکے موجداور مالک نے ان تمام افراد کی ترسیل کوپڑھنے کے لئے سینکڑوں افرادکوروزگار سے لگارکھاہے۔ جو ان کی ترسیلات کوپڑھنے کے علاوہ ان کاتجزیہ بھی کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ سماج اور سماج میں رہنے والے افراد کے خیالات سے مطلع ہورہے ہیں۔
اچانک پروفیسر غلا م علی کی بات یاد آگئی۔وہ کہاکرتے تھے ’’ دشمن جب معمولات اورمزاج سے واقف ہوگاتو غلا می پکی سمجھیں ‘‘
اس آزاد ونڈو کواستعمال کرنے میں نئی نسل ہی نہیں سبھی شامل ہیں اور مجھے یقین ہے کہ غلامی کادور آن لگاہے۔ سبھی غلام ہوں گے کوئی باغی نہیں بن سکے گا۔
۵۔ رکھیل خبریں
اس نے پندرہ دن پرانی خبر شائع کرنے کے لئے میرے واٹس پر بھیجی تھی۔ میں نے تاخیر کی وجہ پوچھی، اس نے وجہ بتائی اورمیں خاموش ہوگیا۔دوسرے دن خبرشائع نہ ہوسکی۔ اس نے مجھے فون نہیں کیا۔ البتہ تیسرے دن ایک اخبار میں اس کی 16دن پرانی خبر شائع ہوگئی ۔ جس کاتراشہ اس نے مجھے بھیج کر جو بھی پیغام دینا چاہا ہو، لیکن میں کہاں پیچھے رہنے والاتھا؟
میں نے اس کے ارسال کئے گئے تراشے کے جواب میں لکھا’’بازار میں عورت 500روپئے میں دستیاب ہے لیکن اس کوبیوی نہیں ایک یومی رکھیل کہتے ہیں۔ویسی ہی رکھیل خبروں میں سے یہ بھی ایک خبر ہے جس کاتراشہ تم نے مجھے واٹس ایپ کیا ہے۔ ایسی خبروں کوشائع کرنے سے ہمارا اخباریکسر پرہیز کرتاہے ‘‘۔
