غزل

جولائی 9, 2026

میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک

شان وشوکت سے نکالے ہوئے ہیں
تیری قدرت سے نکالے ہوئے ہیں

ہم کوجنت کا پتہ ہے پر، ہم
اک ضرورت سے نکالے ہوئے ہیں

بڑھتی نفرت کا سبب کیاپوچھیں
رب کی عظمت سے نکالے ہوئے ہیں

شرط تونے رکھی تھی ، یاد نہیں
تیری شرکت سے نکالے ہوئے ہیں

اس لئے آج ہیں کھوٹا سکہ
دل کی دولت سے نکالے ہوئے ہیں

ہم میں لاچاری بہت ہے پیارے
اپنی طاقت سے نکالے ہوئے ہیں

بندہ ء رب کہاکرتے ہیں جسے
تیری چاہت سے نکالے ہوئے ہیں

آپ مایوس نظر آتے ہو
کس ریاست سے نکالے ہوئے ہیں

پوچھتا کوئی نہیں ہے ہم کو
ہم حکومت سے نکالے ہوئے ہیں

چار جانب جو نظر آئیں گے
دِل کدورت سے نکالے ہوئے ہیں

پوچھتے پھرتے ہیں لوگوں سے میرؔ
کس بشارت سے نکالے ہوئے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے