میربیدری، بیدر،کرناٹک
بندہ تیراتری الفت سے ہے
زندہ تیری ہی مشیت سے ہے
زندگی میرؔامانت سے ہے
اور سزا اپنی حماقت سے ہے
مال ودولت نہ حمایت سے ہے
ساری نسبت تری بیعت سے ہے
ڈھونڈ لیتی ہے رزق اللہ کہیں بھی
چیونٹی کوکام نہ پربت سے ہے
وہ تو لیڈر سبھی کے ہیں لیکن
دشمنی اُردو صحافت سے ہے
اس زمیں پر ہے بودوباش اس کی
بندہ یہ کتنی حماقت سے ہے
دِل کو کہتے ہیں خدا کی نعمت
زندہ، قرآں کی تلاوت سے ہے
اے خدایا مجھے داخل فرما
کام مجھ کو ذرا جنت سے ہے
وہ منسٹر تھے ریاست کے میرؔ
اُن کو شکویٰ بھی حکومت سے ہے
