تحریر: ابوشحمہ انصاری

سعادت گنج، بارہ بنکی

انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی زمانہ ایسا آیا ہو جس نے زندگی کو اتنی تیزی سے بدلا ہو جتنا موجودہ ڈیجیٹل دور نے بدل دیا ہے۔ ایک بٹن کے لمس پر دنیا کی خبریں، علم کے خزانے، تفریح کے بے شمار ذرائع اور لاتعداد روابط انسان کی دسترس میں ہیں۔ بظاہر یہ دور سہولت، ترقی اور آگہی کا دور ہے، لیکن اس چمکتی ہوئی اسکرین کے پیچھے ایک ایسا المیہ بھی پوشیدہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ المیہ اُس نوجوان کا ہے جو بظاہر ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہے، مگر فکری، اخلاقی اور روحانی اعتبار سے کہیں گم ہو چکا ہے۔
یہ گمشدگی جسمانی نہیں، بلکہ فکری، اخلاقی، سماجی اور روحانی گمشدگی ہے۔ آج کا نوجوان گھر میں موجود ہے مگر خاندان سے دور ہے، دوستوں کی فہرست میں ہزاروں نام ہیں مگر حقیقی دوست ایک بھی نہیں، معلومات کے سمندر میں غوطہ زن ہے مگر حکمت اور شعور کی پیاس سے بے حال ہے۔
کبھی نوجوان قوموں کا سرمایہ، معاشروں کی امید اور مستقبل کا معمار سمجھا جاتا تھا۔ اس کے خواب آسمان سے بلند اور ارادے پہاڑوں سے مضبوط ہوتے تھے۔ وہ کتابوں سے رشتہ جوڑتا، بزرگوں کی صحبت سے سیکھتا اور زندگی کے حقیقی مسائل سے نبرد آزما ہو کر اپنی شخصیت تعمیر کرتا تھا۔ مگر آج صورتِ حال مختلف ہے۔ اس کے ہاتھ میں کتاب کی جگہ موبائل فون ہے، محفل کی جگہ چیٹ روم ہے اور مقصد کی جگہ لمحاتی تفریح نے لے لی ہے۔
سوشل میڈیا کے اس عہد میں نوجوان کی زندگی ’’لائکس‘‘، ’’شیئرز‘‘ اور ’’فالوورز‘‘ کے گرد گھومنے لگی ہے۔ اس کی خوشی دوسروں کی توثیق سے وابستہ ہو گئی ہے۔ وہ اپنی اصل شخصیت سے زیادہ اپنی ڈیجیٹل شخصیت کی فکر میں مبتلا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل اس کا استقبال کرتا ہے اور رات کو نیند آنے تک یہی اس کا ساتھی رہتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ حقیقی دنیا سے کٹتا جا رہا ہے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ نوجوان کا ذہن مسلسل منتشر ہو رہا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیوز نے اس کی توجہ کو محدود کر دیا ہے۔ وہ گھنٹوں موبائل اسکرین پر وقت گزار سکتا ہے لیکن چند صفحات کی کتاب پڑھنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔ معلومات کی فراوانی نے علم کی گہرائی کو نقصان پہنچایا ہے۔ وہ بہت کچھ جانتا ہے مگر کسی چیز کو مکمل طور پر نہیں سمجھتا ہے۔
اس ڈیجیٹل یلغار نے خاندانی نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد الگ الگ اسکرینوں میں گم ہیں۔ دسترخوان پر خاموشی ہے، کمروں میں تنہائی ہے اور رشتوں میں وہ حرارت باقی نہیں رہی جو کبھی خاندان کی پہچان تھی۔ والدین اپنے بچوں سے شکوہ کرتے ہیں اور بچے والدین کو اپنی دنیا سے بے خبر سمجھتے ہیں۔ یوں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔
اس صورتِ حال کا ایک اور افسوس ناک پہلو ذہنی دباؤ اور تنہائی کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی مصنوعی کامیابیاں دیکھ کر نوجوان اپنے آپ کو کمتر محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ دوسروں کی خوشیوں کا موازنہ اپنی حقیقت سے کرتا ہے اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی احساس رفتہ رفتہ اضطراب، مایوسی اور بعض اوقات شدید ذہنی بیماریوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ٹیکنالوجی قصوروار ہے؟ ہرگز نہیں۔ ٹیکنالوجی ایک آلہ ہے، اصل مسئلہ اس کے غیر متوازن استعمال کا ہے۔ یہی موبائل فون علم کا خزانہ بھی بن سکتا ہے اور وقت کا قاتل بھی ہے۔ یہی انٹرنیٹ تعلیم و تحقیق کا ذریعہ بھی ہے اور فکری انتشار کا سبب بھی۔ فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان کو محض ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا صارف نہیں بلکہ باشعور اور ذمہ دار شہری بنایا جائے۔ تعلیمی ادارے کردار سازی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ والدین بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات سنیں اور انہیں اعتماد دیں۔ نوجوان خود بھی اپنی زندگی کا محاسبہ کرے کہ وہ اپنا وقت کہاں اور کس مقصد کے لیے صرف کر رہا ہے۔
کتاب سے رشتہ جوڑنا، کھیلوں میں حصہ لینا، سماجی سرگرمیوں میں شریک ہونا، مطالعے اور تحقیق کی عادت اپنانا اور حقیقی انسانی تعلقات کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قوموں کی تقدیر موبائل اسکرینوں پر نہیں بلکہ بیدار ذہنوں، مضبوط کرداروں اور بلند حوصلوں سے لکھی جاتی ہے۔
آج اگر ہم نے اپنے نوجوان کو اس ڈیجیٹل بھول بھلیاں سے نکالنے کی کوشش نہ کی تو آنے والا وقت ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ ایک ایسی نسل پروان چڑھے گی جو معلومات سے بھرپور مگر شعور سے خالی، رابطوں سے مالامال مگر تعلقات سے محروم، اور سہولتوں سے آراستہ مگر مقصدِ حیات سے ناواقف ہوگی۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس گمشدہ نوجوان کو تلاش کریں۔ اسے اس کے خواب واپس لوٹائیں، اس کے ہاتھ میں کتاب، دل میں امید، ذہن میں فکر اور زندگی میں مقصد پیدا کریں۔ کیونکہ نوجوان صرف ایک فرد نہیں ہوتا، وہ پوری قوم کا مستقبل ہوتا ہے، اور جب مستقبل گم ہو جائے تو قومیں اپنی منزل کھو بیٹھتی ہیں۔
مضمون نگار آل انڈیا مائناریٹیز فورم فار ڈیموکریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سیکریٹری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے