تبصرہ نگار:۔ محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
ڈاکٹر غضنفر اقبال کی سیمابیت انہیں علم اور تصوف کی طرف متوجہ رکھاکرتی ہے ۔وہ مسلسل غوروفکر کرنے اور لکھنے میں منہمک رہتے ہیں۔ مزاج کی تلخی جب باہر آتی ہے تب وہ جلالی صوفی بن جاتے ہیں۔ ان ہی ڈاکٹرغضنفر اقبال کی تالیف’’شہاب معرفت ۔حضر ت شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ‘‘ہندوستان کی انگریزوں سے آزادی کے مہینہ یعنی ماہ ِ اگست میںمنظرعام پرآئی ہے۔ ڈاکٹر غضنفر اقبال ممدوح کی بابت رقمطراز ہیں ’’حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی ؒ کی ذاتِ گرامی ایک انقلاب آفریں عبقری شخصیت کی حامل تھی۔ ان کاصوفیانہ طرز ، صوفیانہ تناظر اور عالمانہ وقار عالم گیر تھا ۔ وہ اپنے وقت کے تصوف اسلامی کے خوش منظر ، روشن لقا اور تقویٰ شعار بلندوبالا عرفانی شخصیت تھے ‘‘ (صفحہ 05)
ؔ آگے درج کیاہے ’’حضر ت شیخ شہاب الدینؒ کامولد ومسکن قصبہ سہرورد ہے۔ ان کاخاندان سہرورد کا ہی رہنے والاتھا۔ دراصل یہ قصبہ عراق کے پہاڑی علاقہ میں اس راستے پر واقع تھاجوآذربائیجان کوجاتاتھا ‘‘(صفحہ 08) ان کاسلسلہ ء نسب چودہ واسطوں سے خلیفۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ؒ (573-634) کے ساتھ متصل ہوتاہے (صفحہ 09) حضرت شیخ سہروردی ؒ مسلک کے لحاظ سے شافعی تھے ۔ رسول اکرم ﷺ کی شرع اور سنت کی کامل پیروی کرتے تھے (صفحہ 21) حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی یکم محرم الحرام 632ہجری مطابق 1234عیسوی کوبغداد میں نوے برس کی عمر میں دارِ ٖفانی سے کوچ کرکے دارِ جاودانی کی طرف رحلت کرگئے۔ (صفحہ 26)
63صفحات کی اس تالیف کو 7حصوں میں تقسیم کیاگیاہے جن میں کتابیات بھی شامل ہے۔ وصایہ عنوان سے جو تین وصیتوں کاانتخاب کیاگیاہے ان میں شیخ شہاب الدین سہروردی کی اپنے فرزند حضرت شیخ عمادالدین سہروردی کو کی گئی وصیتیں جاندار ہیں اور تصوف کا بڑا حصہ اس وصیت میں درآیاہے۔ملاحظہ کریں (۱)حلال روزی کھانا ، اس لیے کہ یہ امر مفتاح الخیرات (نیکیوں کی کنجی) ہے ۔ (۲) جماعت کی نماز نہ چھوڑنا(۳) ریاست وامارت کو طلب نہ کرنا اس لیے کہ جوریاست وامارت کوپسند کرتاہے وہ کبھی فلاح یاب نہ ہوگا(۴)مدح وذم تیرے نزدیک برابر ہوں (۵)خوف ورجا کے درمیان زندگی بسر کرنا(۶) حالت فقر میں ، پرہیزگار ، ادب شعار، فقیہ اور عالم کی حیثیت سے زندگی گزارنا(۷) جہال صوفیہ سے یکسور ہنا(۸)کوئی چیز کل کے لیے(خوامخواہ) ذخیرہ کرکے نہ رکھنا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ روز، تازہ ’’رزق مقسوم‘‘ مہیاکرتاہے (۹)تمام مخلوق سے (رزق کے سلسلے میں ) بالکل مایوس ہوجانا۔ شمس الدین سمرقندی ؒ کو کی گئی وصیت میں ہے کہ ’’ اس شخص کے پاس بیٹھے جس کے تقویٰ اور زہدکا یقین ہو‘‘ حضرت صفی الدین علی بن رشید ؒ کووصیت کی گئی کہ ’’گوشہ ء تنہائی کو غنیمت سمجھیں ۔ نصب العین ، عبودیت اور ضبط اوقات رہے ۔
کتاب میں حیرت زدہ کردینے والے افعال کا بھی ذکر ہے ۔ ڈاکٹر غضنفر اقبال نے لکھاہے ’’حضرت شیخ سہروردی کی نماز کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ہرشب دورکعت میں ایک قرآن مجید پڑھاکرتے تھے ‘‘ اور یہ کہ قرأت کے ایک مقابلہ میں ’’حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی ؓ نے قرأت کے جملہ شرائط کے ساتھ تین گھنٹے میں قرآن مجید کی تلاوت کی تھی ‘‘ (صفحہ 19)یہ بھی پڑھیں ’’مشہور ہے کہ ان کے پالتو ہرنوں کے سینگوں پرسونے کے خول چڑھے ہوئے ہوتے تھے ‘‘ (صفحہ 21)حضرت کے گھوڑوں کے بیان میں لکھاہے ’’آپ کے گھوڑے طلائی اور نقرئی میخوں سے بندھاکرتے تھے اور گھوڑوں کی گردنوں میں سونے کے ہار ہواکرتے تھے ‘‘ (صفحہ 21)
صفحہ 8پر آذربائیجان تحریر کرتے ہوئے ’ذ‘ کے بجائے ’ز‘استعمال کیاگیاہے۔صفحہ 10پر ’و ‘کے بغیر جاہ جلال ٹائپ ہواہے ۔ پروف ریڈنگ کی کئی ایک غلطیاں ہیں۔ اس تالیف کانام منیراحمد جامی ؔ کے اس شعر سے مستعار لیاگیاہے ؎
ہر اک نقطے کو روشن کرگیا عرفان وحکمت کے
تلاش حق کی راہوں میں شہاب معرفت چمکا
بہترین کاغذ پرنہایت ہی خوبصورت اشاعت عمل میں آئی ہے۔ٹائٹل بھی اچھاہے۔ کاغذدکن بیورو، کلبرگی دراصل پبلشر اور ڈسٹربیوٹر ہے۔ لہٰذا کتاب کے لئے 9945015964 پررابطہ کیاجاسکتاہے۔
