رحمت اللہ ندوی

استاد دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ

۶ ذی قعدہ ۱۴۴۶ھ مطابق ۲۴اپریل ۲۰۲۶ء بروز جمعہ یہ اطلاع موصول ہوئی کہ ضلع کشی نگر کے ایک قدیم ندوی فاضل، خادم علم و دین، سماجی اور رفاہی کاموں میں سرگرم، اور اصلاحِ معاشرہ کے لئے کوشاں اور ملت کی ترقی و اٹھان کے لئے فکر مند، دردمند اور ہوشمند شخص مولانا احمد کمال عبدالرحمٰن ندوی اپنی زندگی کی ۷۷ بہاریں دیکھ کر اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

مولانا کئی سالوں سے بیمار تھے ، ضیق نفس ، اور گلے کی خشکی اور دیگر اعذار کے شکار تھے ،چند روز قبل طبیعت زیادہ بگڑ گئی اور "کسیا ” کے اسپتال میں داخل کئے گئے ،جہاں وقت موعود آگیا ۔

جمعہ کے مبارک دن میں اچھی موت پائی ، عمر بھی لمبی ملی ،اور زندگی بھی دینی و علمی خدمات سے بھرپور گزاری ، یہ سب ان کے حق میں بشارت ہیں ۔

اتفاق سے میں قصبہ "ہاٹا” میں تھا، اس لئےجمعہ کی نماز "جامعہ عمر فاروق ” کسیا کی جامع مسجد میں ادا کرنے کا ارادہ کرلیا کیونکہ جمعہ بعد دو بجے جامعہ کے صحن میں ہی نماز جنازہ ہونی تھی ، جو جامعہ مولانا مرحوم کا ہی قائم کردہ ہے، اسی کے صدر دروازہ پر مرحوم کی رہائش گاہ ہے۔

ہاٹا سے رفیقِ درس مولانا محمد شاہد علی ندوی کی رہبری اور مولانا محمد جاوید قاسمی کی معیت میں چل کر اذان کے وقت جامعہ حاضر ہوا، جمعہ سے قبل آدھ گھنٹہ تذکیر موت و آخرت اور تعزیت پر گفتگو ہوئی، بعد از نماز مولانا مرحوم کے فرزندوں کی خواہش اور اجازت سے نمازِ جنازہ خاکسار نے پڑھائی ، پھر "کسیا” کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی، موصوف کے جنازہ اور تدفین میں بڑا ازدحام تھا ،اور میری شرکت من جانب اللہ ہو گئی، کیونکہ پہلے سے کوئی ایسا نظام نہ تھا۔

سال میں ایک دو بار جامعہ عمر فاروق میں میری حاضری ہوتی رہتی ہے، اس کے موجودہ مہتمم مولانا محمد الیاس نعمانی مختلف مواقع پر یاد کرتے رہتے ہیں،اس طرح مولانا مرحوم سے جامعہ کی مسجد یا گھر پر ملاقات کا اتفاق ہوتا رہتا تھا، اس کے علاوہ مولانا جب ندوہ تشریف لاتے تو ملاقات ہوتی رہتی تھی، بڑے خورد نواز، قدر داں، اورمخلصانہ تعلق رکھنے والے تھے، مجلس میں علمی گفتگو اور حالاتِ حاضرہ پر تبادلہ خیال کرتے، غلط بات پر بلا خوف تردید نقد کرتے ،جو حق سمجھتے وہی کہتے ،کسی طرح کی مداہنت یا مفاہمت نہ کرتے ، بسا اوقات یہ طرزِ عمل اور طریقہ اصلاح لوگوں پر شاق گزرتا اور ناگوار معلوم ہوتا ،لیکن وہ کسی کی پرواہ نہ کرتے، اس معاملہ میں وہ اپنے استاد خاص مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کے نقشِ قدم پر تھے ۔

آئین جواں مرداں حق گوئی و بےباکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

مولانا احمد کمال ندوی کی پیدائش ماہ فروری ۱۹۴۹؁ء میں موضع "سمرا ہردو” پوسٹ ” کٹھ کوئیاں،” ضلع کشی نگر (یوپی) کے ایک مذہبی گھرانے میں ہوئی، ان کے والد بھی مذہبی معاملات اور عقائد میں پختہ تھے، اس لئے اپنے فرزند کی دینی تعلیم و تربیت کی فکر کی اور گاؤں کی ابتدائی تعلیم کے بعد ” جامعہ الرشاد” اعظم گڑھ میں داخلہ کرایا، جہاں انہوں نے ادارہ کے بانی و ناظم اور مشہور عالم دین، فقیہ اور مفکر مولانا مجیب اللہ ندوی علیہ الرحمہ کی صحبت سے خاص فیض حاصل کیا، پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے مشہور عالمی درسگاہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کا رخ کیا، اور یہاں کے نامی گرامی اساتذہ کرام سے کسبِ فیض کیا، چنانچہ ۱۹۶۸ء میں عالمیت اور ۱۹۸۰ء میں فضیلت کی امتیازی سند حاصل کی، پھر دس سال بعد یعنی ۱۹۸۰ء میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ اور اپنے خاص استاذ حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی مدظلہ کے ایما اور مشورے سے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔

جہاں ۱۹۸۶ء تک چھ سال تعلیمی اور دعوتی سرگرمیوں میں مصروف رہنے کے بعد وطن عزیز واپس آگئے، جہاں وہ درس و تدریس کے ساتھ دعوت و تبلیغ سے بھی وابستہ رہے، اصلاح باطن اور تزکیہ نفس کی فکر بھی رکھی اور کئی مشائخ سے اصلاحی تعلق رکھا،نیز ملی، سماجی اور سیاسی تحریکات سے مربوط ہوکر مسلمانوں کے حقوق و اختیارات دلانے اور سیاسی وقار کی بحالی و بازیافت کے لیے کوشش کی۔

"آل انڈیا ملی کونسل” کے ذمہ دار اور سرگرم رکن کی حیثیت سے علاقے کے مسلمانوں میں جوش اور اعتماد پیدا کردیا۔

مسلمانوں کے سیاسی پلیٹ فارم "مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا” کی صدارت اور قیادت کی، اور "ویلفئر پارٹی آف انڈیا” میں شمولیت اختیار کر کے مسلمانوں کی نئی سیاسی صف بندی کی۔

مولانا مرحوم کا مزاج عالمانہ، داعیانہ اورقائدانہ تھا، بزرگوں کی نظر کیمیا اثر نے ان کے افکار و خیالات پر گہرا اثر ڈالا اور زبردست انقلاب پیدا کیا، جس کے نتیجہ میں ان کی فکری اور علمی و قلمی صلاحیتیں صفحہ قرطاس پر بکھرنے لگیں، آپ نے مختلف اوقات میں اہم اخبارات میں علمی و فکری موضوعات پر مراسلات، مقالات لکھے ،یہ اخبارات کے تراشے کتابی مجموعہ کی صورت "تاثرات” کے نام سے منظر عام پر آئے۔

 از راہِ شفقت اپنے دستخط سے مزین کرکے ایک ملاقات پر مرحوم نے کتاب کاایک نسخہ خاکسار کو بھی عنایت فرمایا، ان مضامین میں مولانا موصوف کی طبعیت کی جولانی ، قلم کی روانی، فکر کی بلندی، مطالعہ کی وسعت، اور علمی گہرائی و گیرائی صاف نظر آتی ہے، بلاشبہ یہ مجموعہ ایک وقیع اورگراں قدرِ علمی و فکری سرمایہ ہے، جس سے نسلِ نو اور موجودہ معاشرہ کی تعمیر و تشکیل میں بڑی رہنمائی ملے گی۔

 مولانا موصوف کا عظیم کارنامہ "کسیا” میں "جامعہ عمر فاروق” جیسے ادارہ کا قیام پھر اور دارالعلوم ندوۃالعلماء لکھنؤ سے اس کا الحاق ہے، یہ ادارہ علاقہ کی اہم تعلیمی ضرورت پوری کر رہا ہے اور عالیہ اولیٰ (مشکوٰۃ اول) تک تعلیم ہوتی ہے، اس کے موجودہ مہتمم مولانا محمد الیاس نعمانی ریاضی مولانا مرحوم کے شاگرد ہیں ، بعض وجوہات کی بنا پر یہاں سے علاحدگی اختیار کرنی پڑی ، جس کے بعد مولانا موصوف نے اپنے گاؤں "سمرا ہردو” میں ایک مدرسہ "جامعہ رحمانیہ” کے نام سے قائم کیا ، یہ بھی ندوہ کی شاخ ہے اور ابتدائی عربی درجات قائم ہیں، یہ دونوں ادارے اور یہاں کے فارغین نیز مولانا کے دیگر تلامذہ اور تحریریں ان شاء اللہ صدقہ جاریہ ثابت ہوں گی۔

مولانا کثیر العیال تھے ، ان کے پس ماندگان میں بیوہ کے علاوہ ۷/ بیٹے اور۷/ بیٹیاں اور ان کی اولادیں ہیں۔

اللہ تعالی مولانا مرحوم کے جملہ حسنات اور خدمات کو قبول فرمائے، لغزشوں کو معاف کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، تمام پسماندگان، متعلقین اور محبین کو صبر جمیل سے نوازے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے