محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک

ایک ملک کی قسمت بننے کے لئے اس ملک کے ہزاروں نہیںلاکھوں کروڑوں باشندوں کی مسلسل محنت، قربانیاں، ان کاوقت اور ان کی صلاحیتیں لگتی ہیں۔ تب کہیںجاکر ایک ملک دنیا کے سامنے شان سے کھڑا ہوپاتاہے۔بھارت جسے آج وشواگرو کہاجارہاہے ، انگریزوں کے دور میں اس کی حالت خستہ تھی ۔کئی جہات سے اس کی ترقی ہونی باقی تھی۔ بے خبری اس قدر عام تھی کہ دنیا نے جب رابند ناتھ ٹیگور کو نوبل پرائز دینے کااعلان کیاتب یہاں کے صحیفہ نگار ٹیگو رکے گھر پہنچے۔ دستک دی ۔ انھوں نے دروازہ کھولا۔ دیکھاپچاسوں صحیفہ نگار ان سے ملنے آئے ہیں۔ انھوں نے فوراًدروازہ بندکرلیا۔ صحیفہ نگار سمجھ نہیں پائے کہ ایسا کیاہوگیا، انھوں نے دروازہ کھلوایا۔اور پوچھاکہ یہ کیاہے ؟ٹیگور نے جواب دیا’’ودیشی لوگوں نے جب میرے فن کوپہچانا تب میرے دیش واسی مجھ سے ملنے میرے پاس آئے ہیں۔ ورنہ میں تو آپ کے ساتھ برسوں سے ہوں، کہیں گیانہیں ۔ آج سے قبل کبھی کوئی میراانٹرویو لینے یا میرے فن کو لوگوںتک پہنچانے نہیں آئے۔ایک مقام پر لکھاہے کہ ’’گیتا نجلی‘‘ کی وجہ سے ٹیگور کی شہرت جب باہر کے ملکوں میں ہوئی تب ہندوستان والوں کو معلوم ہوا کہ وہ کتنے بڑے شاعر ہیں‘‘ کہاجاتاہے کہ صحیفہ نگاروں کواپنی غلطی کااحساس ہوامگر یہ بات تاریخ نے اپنے ہاں لکھ رکھ لی کہ گھر کی مرغی بنگال میں بھی دال برابر ہی ہوتی ہے ۔اسی بنگال کے ٹیگور کودنیانے اس قدر چاہا، جس چاہت کی تمنا لے کر سینکڑوں دانشور دنیاسے چلے گئے۔ یہ وہی ٹیگور ہیں جن کالکھاترانہ ’’جن گن من‘‘ ہندوستان کاقومی ترانہ ہے۔ ان ہی ٹیگور کاآج 7؍مئی کو یوم ِ پیدائش ہے۔
ٹیگور کی پیدائش اور تعلیم :۔ رابندر ناتھ ٹیگور 7 ؍مئی 1861ء کوغیرمنقسم بنگال کے ایک امیر گھرانے میں پیدا ہوئے۔ربندر ناتھ کے لفظی معنی ’’فرزندِ آفتاب‘‘ ہے۔ گھر والے انہیں پیار سے ’’ربی‘‘ کہتے تھے۔ وہ 7؍مئی 1861؁ء کو بنگال کے جوراسنکوٹھاکر با میں پیداہوئے اور 7؍اگست 1941؁ء کو اسی مقام پر اس دنیاسے سدھارے ۔ کہاجاتاہے کہ  ان کے خاندان کی مغل بادشاہوں کے آخری زمانے میں بڑی عزت تھی اور جب انگریزوں کا دور شروع ہوا تب بھی ان کے خاندان کی ویسی ہی عزت باقی رہی۔ رابندر ناتھ ٹیگور کے چودہ بھائی بہن تھے اور وہ ان سب سے چھوٹے تھے۔ جب ٹیگور پیدا ہوئے تو ان کے بہت سے بہنوں اور بھائیوں کی شادیاں ہوچکی تھیں اور ان کے بھانجے بھتیجے قریب قریب ان ہی کی عمر کے تھے۔اگرچہ کہ ٹیگور کا خاندان بہت مال دار تھا لیکن بچوں کی پرورش بہت سادہ طریقے پر کی جاتی تھی۔ آج اگر کسی کے چارپانچ بچے ہوں تو اس کوکثیرالعیال مانا جاتاہے، جب کہ ٹیگور چودہ بھائی بہن تھے اوروہ خود ان میں سب سے چھوٹے تھے۔ اورپھر انھوں نے جو نام کمایا ایسی کمائی ان کے کسی بھائی کے حصہ میں نہیں آئی۔ ربندر ناتھ نے ابتدائی تعلیم اورینٹل سیمنری اسکول اور نارمل اسکول سے حاصل کی۔ 1874ء میں سینٹ زیویئرس اسکول میں داخل ہوئے۔ انہیں بچپن سے شاعری کا شوق تھا وہ ایک سنجیدہ اور بردبار بچے تھے۔ انہوں نے ہندوستانی ادب کے ساتھ ساتھ غیر ملکی ادب کا مطالعہ بھی شروع کر دیا اور 1871ء میں صرف دس سال کی عمر میں شیکسپیئر کے ”میک بتھ” اور کالی داس کے ”کمار سمبھو” کا ترجمہ کیا۔ گھر پر بھی کئی اساتذہ پڑھانے آتے تھے۔ ربندر ناتھ کو اسکول جانا پسند نہیں تھا۔ 1873ء میں وہ اپنے والد کے ساتھ پہلی مرتبہ گھر سے دور گئے اور ہمالیہ کے پہاڑی علاقوں کا سفر کیا۔ اسی دوران انہوں نے ”پرتھوی راج کی شکست” ڈرامہ لکھا۔بیسویں صدی کے ہندوستان نے دنیا کو دو عظیم شاعر دیے۔ ربندر ناتھ ٹیگور اور اقبال۔ ان دونوں نے بالترتیب بنگلہ اور اردو میں وہ عظیم شاہکار تحریر کیے کہ پوری دنیا میں بھارت کا نام روشن ہوگیا۔
ٹیگور کے والد :۔  ان کے والد مہارشی دیبندر ناتھ ٹیگور خود اردو، فارسی اور بنگلہ کے عالم تھے۔ انہیں شاعری میں خاص دلچسپی تھی اور دیوانِ حافظ منہ زبانی یاد تھا۔ انہیں ادب، فنونِ لطیفہ، فلسفہ، ہیئت، انسانیت اور ادبِ اسلامی پر خاص عبور حاصل تھا۔ ربندر ناتھ ٹیگور کو فارسی سے والہانہ محبت تھی۔ وہ بات چیت کے دوران فارسی اشعار دہراتے تھے۔ ربندر ناتھ نے اپنی سوانح عمری میں فارسی کے اشعار کے ساتھ ساتھ ا’ردو کے جملے بھی استعمال کیے ہیں حالانکہ اس دور میں اردو بول چال کی زبان بن چکی تھی لیکن عالموں کی نظر میں فارسی کی قدر و قیمت تھی۔آپ ہی سوچیے جس بچے کی پیدائش علم و ادب کے پروردہ ایسے خاندان میں ہوئی ہو تو خود اس کا رجحان کس طرف ہوگا۔ گھر کے اس علمی ماحول کا اثر تھا کہ ربندر ناتھ کو بچپن سے علم و ادب سے لگاؤ ہوگیا۔ وہ ایک عظیم شاعر، ادیب، ناول نگار، ڈرامہ نگار، گلوکار، موسیقار، مصور، معلم، مصلح اور وطن پرست انسان تھے۔
ڈرامہ نگار اورایکٹر ٹیگور:۔
 ربندر ناتھ کے بڑے بھائی جیوتی ربندر ناتھ نہایت کامیاب ڈرامہ نگار اور اداکار تھے۔ ان کی بہن بھی کامیاب اداکارہ تھیں۔ ایسے ماحول میں آنکھیں کھولنے والے بچے کا ڈرامے میں دلچسپی لینا قدرتی تھا۔
ٹیگوربھی ایک اچھے ڈرامہ نگار، اداکار اور ہدایت کار بنے۔ انہوں نے خود ڈرامے لکھے، انہیں خوبصورت گیتوں، جاندار مکالموں اور سُر سے سجایا۔ 1881ء میں صرف بیس سال کی عمر میں ٹیگورنے اپنا پہلا ڈرامہ ’’بالمیکی پرتی‘‘ پیش کیا اور خود بالمیکی کا رول ادا کیا۔
افسانہ نگار ٹیگور :۔ کہاجاتاہے کہ بنگلہ زبان میںاپنا پہلا افسانہ ’’مدھومتی‘‘ 1873ء میں لکھا۔ اس کے بعد بھی کئی افسانے لکھے لیکن بطور افسانہ نگار کوئی اور شخص ربندر ناتھ کی طرح ابھر کر نہیں آیا۔ انہوں نے اپنے افسانوں کے ذریعے سماجی اصلاح کی بھی کوشش کی۔ 1926ء کا افسانہ ’’سنسکار‘‘ غیر ملکی سامان کا بائیکاٹ اور ہریجنوں کو سماج میں مقام دلانے کی وکالت کرتا ہے۔’’درشا‘‘ ایک تاریخی رومانی افسانہ ہے اس میں ہندوستانی سپاہیوں کی بغاوت (1857) کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ ٹیگور کے دور کے بنگالی دانشوروں نے پہلی جنگِ آزادی 1857ء کو اہمیت نہیں دی تھی لیکن 1898ء میں ٹیگور نے اس افسانے میں بغاوت کو جو اہمیت دی وہ قابلِ ذکر ہے۔
ٹیگور کے 13ناول :۔ ربندر ناتھ کے تیرہ ناول کتابی شکل میں چھپ چکے ہیں۔ ان کا پہلا ناول ’’کرونا‘‘ قسط وار ’’بھارتی‘‘ میں 1877ء میں شائع ہوا۔ اسی رسالے میں ایک اور ناول ’’بوٹھا کرانیز ہاٹ‘‘ 1881ء میں شائع ہوا۔ یہ دونوں تاریخی ناول ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ’’راج رشی‘‘ تحریر کیا۔ربندر ناتھ کے سبھی ناولوں میں ’’گورا‘‘ سب سے ضخیم اور اہم ترین ناول ہے۔ جس کے لیے وہ ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔ یہ ناول انہوں نے 1909ء سے 1921ء کے بیچ لکھا۔ یہ ناول ہندوستانی ادب کا بہترین شاہکار کہا جا سکتا ہے۔ ’’گورا‘‘ ایک محبِ وطن، انسا دوست، بیباک اور نڈر سپاہی ہے وہ تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے۔ اس ناول میں ربندر ناتھ نے اپنے سیاسی، سماجی اور تاریخی شعور کا ثبوت پیش کیا ہے۔ بنگلہ ناول نگاری میں ’’گورا‘‘ ہی پہلا کردار ہے جو غریب کسانوں کا ہمدرد ہے جو کسانوں کے حقوق کے لیے انگریزوں سے جا ٹکراتا ہے۔ لہٰذا ’’گورا‘‘ آج تک بنگلہ زبان کا بہترین ناول ہے۔
ٹیگوراور اردو زبان کے شعراء وادبا:۔  اردو کے ادیبوں سے ربندر ناتھ کے اچھے تعلقات تھے۔ اردو کے کئی ادیب اور شاعر ان سے متاثر ہوئے ان میں پریم چند، نیاز فتح پوری، منشی دیانارائن نگم، احمد اکبر آبادی، سجاد انصاری، میاں بشیر احمد، ساغر نظامی، جوش ملیح آبادی، منور لکھنوی، افسر میرٹھی، مخدوم محی الدین، امجد حیدر آبادی، فراق گورکھپوری، عبدالسلام ذکی اور راحت آرا بیگم خاص ہیں۔
ٹیگور کی مسلمانوں سے محبت :۔ ربندر ناتھ نے ہر مذہب کا مطالعہ کیا تھا۔ انہوں نے اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون ’’ہندو مسلمان‘‘ میں افسوس ظاہر کرتے ہوئے لکھا’’جس ملک میں لوگ مذہب کی بنیاد پر پہچانے جاتے ہیں۔ جہاں مذہب اتحاد اور میل ملاپ کا پل ہے، جہاں اور کوئی بندھن ان کو آپس میں باندھے رکھنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ وہ ملک نہایت ہی بدنصیب ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر فرق پیدا ہوتا ہے۔ وہی اختلاف سب سے زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہوتا ہے‘‘جس دور میں وہ اپنی زمینداری کی دیکھ بھال کر رہے تھے تو انہوں نے محسوس کیا کہ برہمن سماج مسلمانوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا۔ بنگال میں زیادہ تر کسان مسلمان تھے۔ ربندر ناتھ نے دیکھا کہ برہمن نائب نے مسلم کاشتکاروں کے بیٹھنے کے لیے کچھ دوری پر جگہ بنائی ہے۔ انہوں نے خیال کیا کہ اس طرح مسلمانوں کو دور رکھنے کی وجہ سے سیاست میں بھی مسلمان ہندوؤں سے دور ہی رہیں گے۔ اس رویے سے مسلمان مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔ لہٰذا اس فرق کو ختم کرانے کے لیے انہوں نے مسلمانوں کو اپنے قریب لانے کی کوشش کی۔ ربندر ناتھ کی مورپنکھی کشتی میں کام کرنے والے سبھی ملازمین مسلمان تھے اور وہی ان کے لیے کھانا بھی بناتے تھے۔ماہنامہ ’’پرباسی‘‘ 1934ء کے شمارے میں وہ لکھتے ہیں’’سب سے پہلے یہ واضح کردوں کہ میرے کردار اور عملی زندگی میں ہندو اور مسلمان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کے ظلم اور ناانصافی سے میں مساوی طور پر شرمندہ ہوں اور مجھے غصہ آتا ہے۔ ہندو مسلمان میں کسی بھی طرح کی فرقہ پرستی کو میں پورے ملک کے لیے باعثِ شرم سمجھتا ہوں‘‘آج اسی رابند رناتھ ٹیگور کے بنگال میں بھاجپا کا ایک منتخب رکن اسمبلی کہتاہے کہ ’’مجھے مسلمانوں نے ووٹ نہیں دیا ہے اس لئے ان کاکام نہیں کروں گا‘‘ نفرت کا کھلے عام اظہار ٹیگور کی روح کو تکلیف دے رہاہے۔ یہی ٹیگور مذہب کی بنیادپر فرق کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے ماہنامہ ’’پرباسی‘‘ (1931ء) میں لکھا’’مسلمان ہمارے اپنے ہیں۔ اس حقیقت کو کسی طرح جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ ایک دن میری ایک مسلمان چرواہے سے ملاقات ہوئی اس نے مجھے ایک روپیہ سلامی دی۔ میں نے کہا میں نے تم سے کچھ نہیں مانگا۔ اس پر وہ بولا ‘میں نہ دوں تو تم کھاؤ گے کیا؟ بات سچ ہے۔ مسلمان رعیت کا دیا ہوا ہی تو اتنے زمانے سے کھاتا آ رہا ہوں (مشرقی بنگال میں زیادہ تر کسان مسلمان ہیں)میں ان کو دل سے چاہتا ہوں وہ چاہنے کے لائق ہیں‘‘انہوں نے بڑی ایمانداری سے یہ بات تسلیم کی کہ صدیوں تک ہندوؤں اور مسلمانوں کے ایک ملک میں ساتھ ساتھ رہنے کی بنا پر ایک مشترکہ کلچر پیدا ہوا۔اس کلچرکو اکیسویں صدی میں بھی باقی رکھنا اہل بنگال کی اولین ذمہ داری ہے۔
وشوابھارتی کامقصد :۔ صفدر حسین لکھتے ہیں ’’ٹیگور پہلے ہندوستانی تھے، جنہوں نے ساری دنیا میں اپنے دیس کا نام اونچا کیا۔ انہوں نے جس ملک کا بھی دورہ کیا، وہ ہندوستان کا دوست بن گیا۔ ان کی قابلیت اور ملنساری کی وجہ سے یورپ کے کئی ملکوں کے لوگ اپنا وطن چھوڑ کر ہندوستان آئے اور شانتی نکیتن میں کام کرنے لگے۔ ٹیگور کے ان ہی دوروں کی وجہ سے ’’وشوا بھارتی‘‘ میں دنیا کے تقریباً ہر ملک سے لوگ پڑھنے اور پڑھانے کے لیے آنے لگے اور اس طرح ”وشوا بھارتی” نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا کی یونیورسٹی بن گئی‘‘جو مسلمان آج بھارت میں اپنی یونیورسٹیاں قائم کررہے ہیں وہ ٹیگور سے سیکھ سکتے ہیں کہ یونیورسٹی بنانے کاویژن کیاہوناچاہیے؟یونیورسٹی علاقہ تک محدود رہے گی یا اس سے استفادہ کرنے کیلئے دنیا بھر سے لوگ اس یونیورسٹی تک آنا چاہیے۔ وشوابھارتی کے حوالے سے ایک اور دلچسپ بات ٹیگور کی زندگی سے ملتی ہے۔ ایک دفعہ کاواقعہ ہے کہ 15 فروری 1940ء کو شانتی نکیتن میں گاندھی جی اپنی اہلیہ کستوربا کے ساتھ ربندر ناتھ ٹیگور سے ملنے آئے اور وہ دو دن شانتی نکیتن میں رہے۔ جب گاندھی جی چلنے لگے تو ربندر ناتھ نے انہیں ایک بند لفافہ دیا۔ اس میں ایک خط تھا جس میں لکھا تھا کہ میرے بعد گاندھی جی شانتی نکیتن کی ذمہ داری قبول کرلیں۔ خط لے کر گاندھی جی کلکتہ آئے اور وہ خط مولانا ابوالکلام آزاد کو دے دیا کیونکہ گاندھی جی کو یقین تھا کہ ٹیگور کے بھائی چارے اور سیکولرزم کے مشن کو مولانا آزاد ہی بہتر طریقے سے آگے بڑھا سکتے ہیں۔ ربندر ناتھ کے بعد جب گاندھی جی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن کے لیے قربان ہو گئے تو وزیر تعلیم بنتے ہی مولانا ابوالکلام آزاد نے وشو بھارتی کی ذمہ داری قبول کرلی۔86سال بعد بھی ہندوستان کامسلمان ٹیگور کے بھائی چارے اور سیکولرزم کے مشن کو مولانا آزادہی کی طرح لے کر ملک وطول وعرض میں سرگرم ِ عمل ہے ۔حالانکہ یہ کام کرتے ہوئے اس کو اسلام کی بہت سی تعلیمات ترک کرنی پڑرہی ہے ۔اس کے باوجود مسلمانوں کی یہ قربانی بہت کم دیش واسیوں کونظر آتی ہے۔
سترسال کی عمر میں مصوری سیکھی :۔ 1930؁ء میں جب کہ ان کی عمر ستر سال(ایک مصنفہ نے 60سال لکھاہے) کی ہوگئی تو انہوں نے مصوری سیکھی۔ جب لوگوں کو ٹیگور کی تصویریں بنانے کا علم ہوا تو وہ حیران رہ گئے۔ بھلا اتنی بڑی عمر میں ٹیگور نے ایک نیا کام شروع کیا اور تھوڑے ہی دنوں میں اس کام میں ماہر ہو گئے۔ جب یورپ کے لوگوں نے ٹیگور کی بنائی ہوئی تصویریں دیکھیں تو اچنبھے میں پڑ گئے۔ ٹیگور کی یہ تصویریں یورپ کے مشہور مصوروں کی تصویروں سے کسی طرح کم نہ تھیں۔ اب نہ صرف ہندوستان بلکہ باہر کے ملکوں میں بھی ان کی بنائی ہوئی تصویروں کی نمائش کی
 جانے لگی۔ جو بھی ان تصویروں کو دیکھتا بے حد پسند کرتا اور اس کے بعد سے ان کا شمار دنیا کے بہترین مصوروں میں ہونے لگا۔ان کی سوانح لکھتے ہوئے یہ بات بھی ان کی مصوری کے بارے میں لکھی ہے کہ
ہندوستان کا پہلا بین الاقوامی مصور ہونے کا اعزاز(انھیں) حاصل ہوا۔ میونخ کی کیاسپری آرٹ گیلری میں ان کی تصاویر کی نمائش چل رہی تھی۔ جب لوگوں نے مصوری پر ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی تو ربندر ناتھ نے مختصر تقریر میں اپنی مصوری کا تعارف ان الفاظ میں پیش کیا’’کبھی کبھی شاعری کا صحیح ترجمہ دوسری زبان میں نہیں ہو پاتا۔ ترجمے میں شاعری کی کئی خوبیاں اور خصوصیات خراب ہو جاتی ہیں لیکن تصاویر ترجمہ کی محتاج نہیں ہیں۔ وہ خود سب سے اپنی بات کہہ دیتی ہیں۔ اس لیے میری شاعری میرے وطن والوں کے لیے ہے اور اپنی مصوری کو میں بطور تحفہ مغربی دنیا کے لیے پیش کرتا ہوں‘‘انہوں نے تصاویر کے ذریعے جبر و استبداد کو پیش کیا تھا۔ ان کی ایک تصویر میں اٹلی کے تانا شاہ مسولینی کو ایک دیو کی صورت میں دکھایا گیا ہے جو پوری دنیا کو کھانا چاہتا ہے۔بلاشبہ کہاجاسکتاہے کہ سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی ۔ تاہم ہمارا مزاج مذاق اڑانے ، طعنے کسنے اور شک کرنے کے علاوہ اور کوئی چیز سے بنانہیں ہے ۔ ٹیگور کی مصوری بتاتی ہے کہ بڑی عمر میں بھی اس قدر اچھی مصوری سیکھی جاسکتی ہیکہ جس سے ساری دنیا متاثر ہوجائے۔
ظلم برداشت نہ کرتے ہوئے خطاب واپس کیا :۔ ۳ ا؍پریل 1919؁ء کو امرتسر میں جلیان والا باغ کا قاتلانہ حادثہ رونما ہوا۔ ظالم انگریز کمانڈر نے اپنے سپاہیوں کو ان نہتے لوگوں پر گولی چلانے کا حکم دے دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہندوستانیوں کی لاشوں کے ڈھیر لگ گئے۔ کئی سو ہندوستانی مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے۔غریب ہندوستانیوں پر انگریزوں کا یہ ظلم دیکھ کر ٹیگور تڑپ اٹھے اور اسی وقت اپنا ’سر‘ کا خطاب واپس کرتے ہوئے وائسرائے کو ایک خط لکھااور کہاکہ’’مجھے اس ’سر‘کے خطاب کو باقی رکھتے ہوئے شرم آتی ہے، جب کہ میرے ہندوستانی بھائیوں پر بغیر کسی قصور کے گولی چلائی جا رہی ہے۔ میں اس ظلم کے خلاف اپنے ہندوستانی بھائیوں کا ساتھ دینا چاہتا ہوں، جو مجھے آپ کے ’سر‘کے خطاب سے کہیں زیادہ عزیز ہیں‘‘اس کے بعد سے ٹیگور نے پھر کبھی اپنے نام کے ساتھ ’’سر‘‘ کا خطاب نہیں لکھا۔ یہ وہی خطاب تھا جو انگریزی حکومت نے انہیں نوبل پرائز ملنے کے بعد ان کی قابلیت کو مان کر دیا تھا۔یہاں سوال یہ اٹھتاہے کہ آزادہندوستان میں اقلیتوں پر جو مظالم ہورہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے جب کئی بڑے فنکاروں نے اپنے ایوارڈ لوٹائے تو ان لوٹانے والوں میں کون کون شامل نہیں تھے۔ کیاان لوگوں کواقلیتوں یا مسلمانوں کاخیر خواہ کہاجاسکتاہے؟
انسان کی وقعت سب سے بڑھ کر :۔ بابوجامنی کانت سوم اپنی بنگلہ کتاب جس کااردو ترجمہ رابندرناتھ ٹیگور کے نام سے منشی پیارے لال صاحب شاکرؔ(میرٹھی)نے کیااور 1934؁ء میں جس کی اشاعت عمل میں آئی۔ اس کتاب میں بابوجامنی کانت سوم لکھتے ہیں کہ کامل ایک برس کے بعد رابندر ناتھ ولایت سے واپس آئے۔ جب پہلے پہل انہوں نے ولایت میں قدم رکھا تھا تو وہاں کے باشندے اور ان کا طور طریقہ انہیں بالکل پسند نہ تھالیکن وہاں سے یہ بہت کچھ سیکھ کر واپس آئے۔ اب انہیں وہاں کے باشندوں سے محبت سی ہوگئی تھی۔ جو چیزیں یہ ولایت سے اپنے ہمراہ لائے تھے اس میں سب سے بیش قیمت چیز تھی انسان کی انسان سے محبت تھی۔ دیسی ہو یا پردیسی، انسان کی فطرت بالکل یکساں ہے۔ یہ ملک ہو یا کوئی اور، انسان کی طبیعت کا رجحان ہر جگہ ملتا جلتا ہے۔ اس لئے یہ نظریہ ان کے دل پر نقش ہوگیا کہ انسان کا تعلق دنیا میں سب سے بڑھ کر ہے۔
نوبل پرائز :۔ 
بابوجامنی کانت سوم کے مطابق مئی 1913ء میں رابندر ناتھ ولایت تشریف لے گئے۔ اسی زمانہ میں انہوں نے اپنی بنگالی نظموں کے ایک مجموعہ ’’گیتا نجلی‘‘ کا انگریزی نثر میں ترجمہ کرکے شائع کیا۔ گیتا نجلی کے ترجمہ کو دیکھ کر یورپ والے عش عش کرنے لگے۔ اس کے جذبات نے ان کے گھمنڈ کو چکنا چور کر دیا۔ شعراء یورپ نے شاعرِ ہندوستان کے سامنے سر جھکایا اور ہندوستان کے اس شاعر کو شعرائے عالم کی صف میں سب سے اوّل نشست دی اور لٹریچر کے لئے سب سے بڑا انعام ’’نوبل پرائز‘‘ انہیں عنایت کیا۔بڑی شہرت اور عزت کمانے کے بعد ٹیگور کا آخری وقت آیا۔ آخری دِنوں میںمزاج ناسازرہنے لگا۔ بخار ہردن رہا۔ آخرکار  7؍اگست 1941؁ء کو وہ دنیابھر کے اپنے چاہنے والوں کوچھوڑ کرمالک ِ حقیقی سے جاملے۔
ماخذو مصادر
۱۔  کتاب کانام :بچوں کے ربند رناتھ ٹیگور۔ مصنفہ :ناظمہ ، سال اشاعت :اگست 2011؁ء، صفحات :39۔ اشاعت : مکتبہ پیام تعلیم ، جامعہ نگر ، نئی دہلی۔ 25
۲۔رابندر ناتھ ٹیگور۔ ملک الشعرائے ایشیا رابندرناتھ ٹیگور کے مختصر حالات ۔ بابوجامنی کانت سوم کی بنگلہ کتاب کاترجمہ ، از:۔ منشی پیارے لال صاحب شاکرؔ(میرٹھی) 1934؁ء ، صفحات :81۔ انڈین پریس لمیٹیڈ الہ آباد ۔
۳۔ ہمارے ٹیگور ۔ مسعود انصاری ،اشاعت :1962؁ء  صفحات :94، زیراہتمام ادارہ ء پیکر حیدرآباد
۴۔ رابندر ناتھ ٹیگور۔ صفد رحسین ۔ مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ نئی دہلی۔صفحات 60۔اکتوبر 1967؁ء

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے