محمد مبشرسندھے، بیدر

موجودہ دور میں مسلم معاشرہ مختلف سماجی، معاشی اور فکری چیلنجز سے دوچار ہے۔ اگر ہم ہندوستانی مسلمانوں کا جائزہ لیں تو انہیں عمومی طور پر تین طبقات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱۔ پس ماندہ طبقہ ۲۔ مڈل کلاس (متوسط طبقہ)۔ ۳۔اعلیٰ یا بااثر طبقہ (Big Shot)۔ ان تینوں میں سب سے زیادہ تعداد پس ماندہ طبقے کی ہے، اس کے بعد متوسط طبقہ آتا ہے، جبکہ بااثر طبقہ نہایت کم ہے۔
۱۔ پس ماندہ طبقہ:۔ یہ طبقہ اپنی روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ ان کی تمام تر توجہ معاشی مسائل کے حل تک محدود ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ بڑے سماجی یا فکری مسائل پر غور نہیں کر پاتے۔
۲۔ متوسط طبقہ:۔ یہ طبقہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اور معاشی استحکام کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ اس طبقے میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو امت کی بھلائی کے لیے سوچتے ہیں، مگر مناسب پلیٹ فارم نہ ملنے کی وجہ سے وہ مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
۳۔ بااثر طبقہ:۔ یہ طبقہ اپنی حیثیت اور مقام کو برقرار رکھنے کے لیے اکثر سماجی یا سیاسی مسائل میں کھل کر حصہ نہیں لیتا اور موجودہ حالات میں خود کو محفوظ رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔
موجودہ صورتحال:۔ آج مسلمان ایک بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود کوئی مؤثر اور مثبت کردار ادا نہیں کر پا رہے۔ اس کی بنیادی وجوہات یہ ہیں:(۱)پس ماندہ طبقہ حالات سے بے خبر یا غافل ہے۔(۲) متوسط طبقہ مایوسی کا شکار ہے(۳)بااثر طبقہ اپنی ذمہ داریوں سے دوری اختیار کیے ہوئے ہیْ
مسائل کا ممکنہ حل :۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ مسلم معاشرے کو مثبت امید کے ساتھ زندگی کے مقصد کی طرف متوجہ کیا جائے۔ اس کے لیے سیاسی اور سماجی شعور (Political & Social Awareness) پیدا کرنا نہایت اہم ہے۔ اس مقصد کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:٭جمعہ کے خطبات کے ذریعے شعور بیدار کرنا٭ائمہ مساجد کو چاہیے کہ وہ اپنے خطبات میں سماجی اور سیاسی شعور اجاگر کریں۔٭سوشل میڈیا کا مؤثر استعمال٭نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے ذریعے بیداری مہم چلانی چاہیے۔٭شہری سطح پر اجلاس اور مکالمہ٭شہر کے معزز افراد کو اس موضوع پر باقاعدہ میٹنگز کا انعقاد کرنا چاہیے۔٭پس ماندہ علاقوں کا دورہ٭پس ماندہ بستیوں میں جا کر ان کے مسائل کو سمجھنا اور حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
متوسط طبقے کا کلیدی کردار:۔ متوسط طبقہ پس ماندہ افراد کے مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کرے اور بااثر طبقے کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلائے۔
نتیجہ:۔ اگر ہم منظم انداز میں ان اقدامات پر عمل کریں تو ان شاء اللہ مسلم معاشرے کی ذہنی کیفیت مضبوط ہوگی، اور وہ سیاسی، سماجی اور معاشی چیلنجز کا بہتر طور پر مقابلہ کرتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا   ؎
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے