از: ذوالقرنین احمد 

،دنیا کا نظام تیزی سے تبدیل ہورہا ہے

کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے بعد سے دنیا کا منظر نامہ یکسر تبدیل ہوچکا ہے

،عالمی وبائی مرض کی نام پر عوام کو کنٹرول کرنے کا ٹرائل لیا جا چکا ہے

آئے دن نئی نئی تبدیلیاں دنیا میں رونما ہورہی ہے

کئی ملک میدان جنگ میں تبدیل ہوچکے ہیں

تو کوئی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے

تو کہیں عوامی تحریکوں نے بغاوت کے ذریعے حکومت کے تختے الٹ دیے

عالمی سطح پر نفسہ نفسی کا شور برپا ہے

ملی مفادات چھوڑ کر ذاتی مفادات کو ترجیح دی جارہی ہے

یہاں تک کے انسانی اقدار تک کو پاؤ تلے روندا جارہا ہے

جمہوریت کے نام پر غریب الحال، کمزور طبقات کو غلامی کے زنجیروں میں جکڑنے کی تیاریاں ہوچکی ہیں

اور عدل وانصاف کے محکمے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں

بنت حوا کی عصمتیں محفوظ نہیں رہی

معصوم بچوں تک کا استحصال ہورہا ہے

عصمتیں بیچیں اورخریدی جارہی ہے

مذہب کو کاروبار بنایا جارہا ہے

 انسانی جان کی قیمت پانی سے سستی ہوچکی ہے

سیاست و اقتدار کی خاطر زندہ آبادیوں کو قبرستان میں تبدیل کیا جارہا ہے

درس گاہیں تجارت کا اڈہ بن چکی ہے

جدید تعلیمی نظام نے اخلاقی اقدار کو تحس نحس کردیا ہے

آپسی رنجشوں نے خاندانیت کے تصور کو ایک خواب بنادیا ہے

طبیب مریض کے دکھ درد کا مداوا کرنے کے بجائے ڈاکو بنے ہوئے ہے

سرکاری افسران عوامی خدمات کے بدلے رشوت خوری میں ملوث ہے

والدین بچوں کی تربیت سے بے بہرہ ہوچکے ہیں

باپ معاشی سرگرمیوں میں مصروف ہے

تو ماں سوشل میڈیا پر

 اور بچے طاغوت اور یہودیت کے پنجے میں ہیں

نوجوان نسلیں فطرت سے بغاوت پر تلی ہوئی ہیں

سائنسدان قدرتی وسائل کے ختم ہونے کی فکر میں پریشان

تو سیاستدان عوامی حقوق کو غضب کرنے مین مگن

فیشن اور نفسانی خواہشات کی حوس نے دلوں کے سکون کو غارت کر دیا ہے

لیکن وہ پھر بھی عارضی چیزوں میں سکون تلاش کر رہا ہے

جبکہ سکون تو صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔

یہیں دنیا کا منظر نامہ ہے یہیں فانی دنیا کی حقیقت ہے

اور یہ قیامت سے پہلے قیامت صغریٰ کا منظر نامہ ہے

 بحیثیتِ امت مسلمہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انسانیت کی بقاء اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے میدان عمل میں آئے حالات کی سنگینی کی پیش نظر ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی آپ کو اپنی نسلوں کو تیار کیجیے

 ہمارے ذمہ ہے کہ سسکتی بلکتی انسانیت کو ان کے جائز حقوق دلائیں

انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں

انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر ایک خدائے واحد کی دعوت پیش کریں

تمام انسانوں تک کلمہ حق کے پیغام کو عام کریں

شعوری بیداری پیدا کریں

آفاقی تعلیمات کو پیش کریں

اور ظلم و ستم کے خلاف محاذ آرائی کے لیے عوام کی ذہن سازی کریں۔

جب تک اللہ اور آخری نبی ﷺ کی تعلیمات کا‌ عملی طور پر نفاذ نہیں ہوگا تب تک دنیا میں امن و امان قائم نہیں ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے