محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔  تشریح 
گروپ میں بخاری شریف کی حدیث نمبر5645 واٹس ایپ کی گئی تھی، جس کااُردو مطلب یوں بیان کیاگیاتھا ’’اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کاارادہ کرتاہے، اس کو مصیبت میں مبتلا کردیتاہے ‘‘
کسی دل جلے نے لکھا’’آج اگر ہندوستان میں ہر طرف مسلمانوں کے خلاف لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، مسجد یں گرانے کی بات کررہے ہیں، اوقافی جائیدادی قانون ختم کرنا چاہ رہے ہیں اور اس کے لئے ہرجائزوناجائزطریقے اختیار کررہے ہیں، ٹرین میں مسلمانوں کو ماراپیٹااور جگہ جگہ گاؤ ہتھیاکے نام پرقتل کیاجارہاہے تو پھر اس میں خدائے واحد نے مسلمانوں کیلئے کوئی بھلائی ہی رکھی ہوگی ‘‘
گروپ میں علماء دین بھی تھے اور علمائے دنیا بھی ، اور اسلامی جہد کاربھی تھے۔ کہیں سے کوئی کمنٹ نہیں آیا۔ شاید ذہن حدیث شریف کی اس تشریح کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔یاپھر ذہنوں نے خاموشی کی رِدا اوڑھ رکھنے میں عافیت سمجھ رکھی تھی۔ بیچارا ابھی بھی انتظار کررہاہے کہ اس کوگروپ ممبران کی رائے چاہیے تھی۔
۲۔ مکمل آزادی 
بوم پٹارا ہوچکاتھا۔ سارا دیش واقعہ کو سن رہاتھا۔چینلوں ، اخبارات اور سوشیل میڈیاپر بات چل رہی تھی ، کہہ رہے تھے کہ’’دو بڑے ملتے ہیں تو دنیا میں بوال ہوتاہی ہے ،پہلے صفحہ کی پہلی جلی سرخی دوبڑوں کے ملاپ کی وجہ بن جاتی ہے۔ اس میں ڈرنے کی کیابات ہے ؟ملک میں جمہوریت ہے ، پروٹوکال ، اور کوڈ آف کنڈکٹ کے نام پر تاناشاہی نہیں چلے گی۔ ایک آزاد جمہوری ملک میں سبھی ایک دوسرے سے مل جل سکتے ہیں، جس طرح مقننہ اورانتظامیہ ،مقننہ اور پریس مل بیٹھتے ہیں ، ایسے ہی مقننہ اور عدلیہ پوجاکے موقع پرمل بیٹھ جائیں تو برا کیاہے ؟‘‘
ملک کی عوام ہکابکا سب کچھ دیکھنے اور سننے میں لگی ہوئی تھی۔بلکہ اس کے تو حوا س ہی گم ہوچکے تھے۔ جیسے زمانہ ء حاضر سے عوام کہہ رہی ہو کہ یار یہ سب کیا ہورہاہے ؟ لوگ اپنی حدوں سے باہر کیوں آرہے ہیں ؟ اپنی حدیں پارکرنے کاانجام یہ لوگ جانتے بھی ہیں۔ پڑوسی ملک کے حالات سے شاید سبق نہیں سیکھا۔
۳۔ لمبا شخص 
وہ وزیر کے گھر میں بیٹھ کر بکواس کئے جارہاتھا۔ ’’معلوم ہوا، کسی اخبارنے لکھاہے کہ پنڈت کاقتل ہواہے ،جب کہ وہ صاف طورپر خودکشی ہے ، ان اخباروالوں کوعقل ہوتی بھی ہے؟ ‘‘
مجھ تک بات پہنچی تو غصہ بہت آیا لیکن میں نے خاموش رہنامناسب جانا۔ میرے ساتھ کھڑا میرابڑا فرزند میرے ساتھی سے کہنے لگا’’چچاجان ، میں ایک بات کہوں ؟‘‘ میرے ساتھی نے فرزند کی جانب جھکتے ہوئے کہا’’ہاں ، ہاں ، کیوں نہیں ‘‘
میرے بڑے فرزند نے کہا’’ان بکواس کرنے والے انکل سے کہوکہ وہ پنڈت کی خودکشی کاثبوت پیش کریں‘‘ دوسرے ہی سانس میں اس نے یہ بھی پوچھ لیا ’’ چچاجان ! کیاوہ لمبے آدمی ہیں ؟‘‘
میرے ساتھی کی آنکھیں حیرت سے باہر نکل گئیں۔انھوں نے کہا’’ہاں ، ہاں ، بیٹے ، وہ لمبے ہی ہیں، لیکن تمہیں کیسے پتہ چلا؟‘‘
میں اپنے فرزند کی طرف پوری طرح متوجہ ہوگیاتھا۔ اس نے میرے ساتھی سے کہا’’چچا جان ،بڑے بزرگ کہتے ہیں لمبوں کی عقل گھٹنوں میں ہوتی ہے ۔ جبجب قسمت ایسے افراد پر مہربان ہوئی ہے ، انھوں نے خود کو سب سے زیادہ عقلمند سمجھاہے ، یہ مطالعہ بتاتاہے ‘‘
میرے فرزند نے وجہ نہیں بتائی کہ اس نے کس طرح پہچانا کہ وہ شخص لمباہے ؟
۴۔ جیت ہماری 
میں نے اس سے کہا’’جانی ، تم میںاور ہم میں فرق اتنا ہے کہ تم بازی غیرقانونی طریقے سے جیتنا چاہتے ہواور ہم اپنی بازی قانون کے دائرے میں رہ کراطمینان سے جیتنا چاہتے ہیں اورجیت بھی لیتے ہیں اور تم ہمیشہ ہی ہم سے ہار جاتے ہو‘‘وہ سرجھٹکتے ہوئے بڑے غصہ میں میرے چیمبر سے اٹھااور اُٹھ کرچل دِیا۔اُس کا باپ بھی بڑا ضدی تھالیکن زندگی میں ناکامی کے علاوہ اس کو بھی
کچھ ہاتھ نہ لگا۔
۵۔ نرگیسیت 
میں نے اپنی فلم کے پرنٹ دیکھے ،میں نہایت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔اور جہاں کہیں اپنے ہیرو کو میں نے لبھایا تھا وہاں وہاں تو مجھے خود اپنے پرپیا رآگیا۔ میں خود اپنے آپ پر مرمٹی۔ دسویں بار جب میں نے اپنی اس پہلی فلم کودیکھا تو میں نے خود سے سوال کیاکہ ‘‘حقیقت میںمیںکون ہوںاور اسکرین پر اس قدر خوب صورت وہ لڑکی کون ہے ؟ اگر ہم دونوں ایک ہیں تو پھر میںاسکرین والی کوخود سے الگ کیوں سمجھ رہی ہوں ؟اور اس پر فدا کیوں ہوگئی ہوں ؟کہیں میرادماغ تو خراب نہیں ہوگیاہے ؟‘‘
لیکن میرے سوال کاکوئی جواب شاید نہیں ملا۔میں نے سوچا نفسیات کے ڈاکٹر کو دِکھاناپڑے گا۔
یہ دس سال پہلے کی بات ہے۔ آج میں واقعی امریکہ کے لئے ہوائی جہاز میںسوار ہوں ۔ دس سال کے دوران میں فلم انڈسٹری کے صف ِ اول کی اداکارہ بن چکی ہوں۔ اور اب اپناعلاج کرانے امریکہ کیلئے نکل پڑی ہوں، ماتاجی ساتھ ہیں۔ پتاجی گزر چکے ہیں۔
مجھے نفسیات کے ڈاکٹر سے صرف اتنا ہی معلوم کرنا ہے کہ میرے اندر یہ خوبصورت لڑکی آخرہے کون؟جو مجھے اچھی لگتی ہے اور مجھ سے زیادہ تشنہ بھی ہے ۔اسکرین والی وہ لڑکی اب تک ہزاروں پر اپناپیار لٹاچکی ہے تو اصلی والی کون ہے ؟ میں اصلی ہوں یا پھر میرے اند رسے نکل کر اسکرین پر اپنے جلوے دکھانے والی ؟ جب تک یہ پتہ نہیں چلے گا مجھے راتوں کونیند نہیں آئے گی اور نشہ آور گولیوں سے بھی چھٹکار انہیں ملے گا۔
۶۔ کرم اللہ کا 
’’جینا چاہتے ہو؟‘‘سوال کیاگیا۔جواب دیاگیا’’ ہاں‘‘ کچھ اور سوالات پوچھے گئے پھر جواب دیاگیاکہ ’’ اپنامقصد پیچھے کرلو ،بہت زیادہ مقصد مقصد چلانے پکارنے سے بھی مقصد پورا نہیں ہوتا۔اگر یوں کرلوگے تو بامقصد زندگی جی سکوگے ‘‘اس دن شاید میرے نصیب اچھے تھے ، میں نے وہی بات گرہ سے باندھ لی ۔ اب واقعی میرامقصد میری نگاہوںکے سامنے ہے مگر کسی کو پتہ نہیں چلتا۔مقصدہی پر چل رہاہوں میں ۔ کرم ہے مالک کا۔
۷۔ زندگی سنجیدہ 
اپنی اپنی زندگی کی بابت لوگ اس قدر سنجیدہ ہیں کہ مجھ جیسا سنجیدہ لکھنے والا مزاحیہ شاعر کے ساتھ کھڑا کردیاگیاہے اور میںاس کے ساتھ کھڑا ہونے سے انکار نہیں کرسکتا۔ جب کہ کئی ایک انکار کرچکے ہیں ۔ کہا ہے کہ کیا آپ نے مجھے مسخروں کی ٹیم سے سمجھ رکھاہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے