رضا ابرار ندوی

زندگی میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض اپنی کامیابیوں سے نہیں، بلکہ اپنے اخلاق، حوصلہ افزائی، علمی ذوق، دینی وابستگی اور مسلسل جدوجہد سے دوسروں کے لیے مثال بن جاتی ہیں۔ صادق بھائی بھی میرے لیے ایسی ہی ایک قابل احترام شخصیت ہیں۔ وہ میرے سرپرست رہے ہیں، میری تحریروں کو ہمیشہ محبت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے رہے ہیں اور وقتاً فوقتاً میری حوصلہ افزائی بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کی طرف سے ملنے والی حوصلہ افزائی میرے لیے ہمیشہ باعث مسرت اور میرے قلم کے لیے تقویت کا ذریعہ رہی ہے۔
آج مجھے بے حد خوشی اور قلبی مسرت ہو رہی ہے کہ صادق بھائی کی علمی و دینی کاوش ’’بیسک اسلامیات: گھر گھر دین‘‘ کتابی صورت میں شائع ہوکر تیار ہوچکی ہے اور اس کا رسم اجراء 3 ستمبر کو ہونے جا رہا ہے۔ یہ لمحہ یقیناً ان کے لیے بھی باعث خوشی ہے اور ان سے محبت و عقیدت رکھنے والے تمام لوگوں کے لیے بھی مسرت کا موقع ہے۔ میں انہیں اس اہم علمی کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو شرف قبولیت بخشے اور اس کتاب کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نفع بخش بنائے۔صادق بھائی کا علمی سفر محنت، لگن اور مسلسل آگے بڑھنے کی ایک خوب صورت مثال ہے۔ ندوۃ العلماء سے فراغت کے بعد انہوں نے اپنی تعلیمی جدوجہد کو جاری رکھا اور خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی لکھنؤ سے گریجویشن مکمل کیا۔ اپنی بہترین تعلیمی کارکردگی کے باعث انہیں گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز محض ایک تمغہ نہیں بلکہ ان کی محنت، ذہانت، مستقل مزاجی اور تعلیمی سنجیدگی کا اعتراف ہے۔اس کے بعد بھی ان کا تعلیمی سفر رکا نہیں۔ انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری امتیازی نمبروں کے ساتھ حاصل کی اور اس وقت بھی اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے لکھنؤ یونیورسٹی ہی سے بی ایڈ کر رہے ہیں۔ اس مسلسل تعلیمی سفر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک علم کسی ایک ڈگری یا سند کا نام نہیں بلکہ زندگی بھر جاری رہنے والا ایک سفر ہے۔
ان کی شخصیت کا قابل تحسین پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنی تعلیمی مصروفیات تک محدود نہیں رہتے۔ یونیورسٹی کے تربیتی اور ثقافتی پروگراموں میں شرکت، اردو ادب سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لینا، بیت بازی، خطابت اور تحریری سرگرمیوں افسانہ نگاری؛ ڈیبیڈ میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنا، علمی و ادبی محافل کا حصہ بننا—یہ سب ان کی ہمہ جہت شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔
لیکن ان کی مصروفیات کا دائرہ یہاں بھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ مساجد سے وابستہ رہ کر بچوں کو تعلیم دیتے ہیں، ان کی اصلاح و تربیت کرتے ہیں اور ان کے اندر دینی و اخلاقی شعور پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نئی نسل کی تعلیم و تربیت کا یہ جذبہ یقیناً ایک بڑی خدمت ہے، کیونکہ کسی معاشرے کا مستقبل صرف کتابوں سے نہیں بلکہ اچھی تربیت، مضبوط کردار اور درست رہنمائی سے تشکیل پاتا ہے۔ایک طرف اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ، دوسری طرف یونیورسٹی کی علمی و ثقافتی سرگرمیاں، بیت بازی اور خطابت، تحریری مشاغل، مسجد سے وابستگی، بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان سب کے درمیان ایک ایسی کتاب کی ترتیب و تدوین کے لیے وقت نکالنا جس کا مقصد ’’گھر گھر دین‘‘ کی روشنی پہنچانا ہو—یہ سب کسی معمولی عزم کا نتیجہ نہیں ہوسکتا۔
یہ کتاب دراصل صادق بھائی کی محنت، وقت کی قدر، علمی شوق، دینی جذبے اور خدمت کے احساس کی عملی تصویر ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر انسان کے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو تو مصروفیات راستے کی رکاوٹ نہیں بنتے بلکہ انسان اپنے عزم سے ان کے درمیان بھی اپنے مقصد کے لیے راستہ نکال لیتا ہے۔میرے لیے یہ خوشی اس لیے بھی خاص ہے کہ جس شخص نے ہمیشہ میری تحریروں کو پسند کیا، میرے قلم کی حوصلہ افزائی کی اور میری ادبی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا، آج اسی کی اپنی علمی و دینی کاوش ایک خوب صورت کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ ایسے موقع پر دل سے یہی احساس ابھرتا ہے کہ حوصلہ دینے والے لوگ خود بھی ایک دن کامیابی کی ایسی منزل تک پہنچتے ہیں جہاں ان کی کامیابی دوسروں کے لیے بھی خوشی کا باعث بنتی ہے۔’’بیسک اسلامیات: گھر گھر دین‘‘ صرف ایک کتاب کا نام نہیں بلکہ اپنے عنوان ہی میں ایک خوب صورت مقصد لیے ہوئے ہے۔ اگر کتاب عام لوگوں، بالخصوص بچوں اور نئی نسل تک بنیادی دینی معلومات کو آسان اور مؤثر انداز میں پہنچانے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ صادق بھائی کی علمی کوشش کا ایک نہایت قیمتی ثمر ہوگا۔ میری دعا ہے کہ یہ کتاب گھروں میں پڑھی جائے، سمجھی جائے اور اس کے ذریعے دین سے وابستگی اور بنیادی اسلامی شعور کو فروغ ملے۔
صادق بھائی کی یہ کتاب ان کے علمی سفر کی آخری منزل نہیں بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز ثابت ہو، یہی میری دلی خواہش ہے۔ امید ہے کہ مستقبل میں بھی ان کے قلم سے مزید علمی، دینی، اصلاحی اور ادبی کتابیں منظر عام پر آئیں گی اور وہ اسی جوش و جذبے کے ساتھ علم و ادب اور قوم و ملت کی خدمت کرتے رہیں گے۔صادق بھائی! آپ کو اپنی اس علمی کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ ندوۃ العلماء سے فراغت، پھر خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی سے گریجویشن اور گولڈ میڈل کا حصول، اس کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے ماسٹرز میں امتیازی کامیابی اور اب اسی یونیورسٹی سے بی ایڈ کی تعلیم—یہ سفر آپ کی محنت اور بلند حوصلے کی روشن داستان ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کے علم میں برکت عطا فرمائے، آپ کی صلاحیتوں کو مزید نکھارے، آپ کے قلم کو مزید قوت دے، آپ کی اس کتاب کو شرف قبولیت بخشے اور اسے معاشرے میں دینی شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنائے۔اللہ آپ کو مزید کامیابیوں سے نوازے، آپ اسی طرح آگے بڑھتے، پھلتے پھولتے اور علم و عمل کی خوشبو بکھیرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے، آپ کی ہر نیک کوشش کو قبول فرمائے اور آپ سے قوم و ملت کے لیے مزید گراں قدر خدمات لیں۔
کتاب ’’بیسک اسلامیات: گھر گھر دین‘‘ کی اشاعت اور رسمِ اجراء کے اس پُرمسرت موقع پر ایک بار پھر دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارکباد!اللہ تعالیٰ آپ کے قلم، علم اور عمل میں مزید برکت عطا فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے