سہیل انجم
ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر کے ناظم شیخ وصی اللہ عبد الحکیم مدنی حفظہ اللہ کی اطلاع کے مطابق ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر کے زیر اہتمام عظیم الشان انعامی مسابقہ حفظ القرآن الکریم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ مسابقہ مرکز آفاق لتحفیظ القرآن کریم مہدئیا برڈ پور، ضلع سدھارتھ نگر اترپردیش میں 14 نومبر 2026ء بروز سنیچر منعقد ہوگا۔ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 17 نومبر ہے۔ محترم ناظم صاحب کی اطلاع کے مطابق مسابقہ کے تین زمرے ہوں گے اور ہر زمرے میں اول، دوم اور سوم آنے والوں کو پرکشش انعامات سے نوازا جائے گا۔ ممتاز آنے والے طلبہ کو بھی انعامات دیے جائیں گے۔ اس سلسلے میں ضلعی جمعیت کی جانب سے ایک پوسٹر جاری کیا گیا ہے جس میں ہدایات و شرائط کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔ بلا شبہ ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر کا یہ ایک قابل ستائش قدم ہے اور اس کے لیے جمعیت کے ذمہ داران مبارک باد کے مستحق ہیں۔
قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جو انسانوں کو ایک جامع اور مکمل نظام حیات سے نوازتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ انھیں دنیا میں اپنی زندگی کیسے گزارنی چاہیے۔ جہاں مسلمانوں کو قرآن مجید کی تلاوت پر زور دیا جاتا ہے، وہیں اس کو باترجمہ پڑھنے کی بھی ترغیب دی جاتی ہے اور یہ ضروری بھی ہے تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ اس میں ہمارے لیے کیا رہنمائی ہے اور یہ کتاب ہم سے کیا تقاضہ کرتی ہے۔ اس کتاب کا ایک اعجاز یہ بھی ہے کہ اس کی تلاوت کرنے پر ایک ایک حرف پر نیکی ملتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے الفاظ کی صحیح ادائیگی کے ساتھ پڑھا جائے۔ لہٰذا یہ سیکھنے اور سکھانے کی ضرورت ہے کہ اس کو کیسے الفاظ کی صحیح ادائیگی کے ساتھ پڑھا جائے۔ عام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ طلبائے مدارس میں بھی اس کے مطالعے کا ذوق و شوق پیدا کرنا ضروری ہے۔
اس کے لیے مختلف ملکوں میں مسابقے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ مسابقہ مقامی، ملکی اور عالمی سطح پر بھی ہوتا ہے۔ طلبہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، اس کے لیے پرکشش انعامات کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ مختلف مسابقوں کے ملاحظے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ طلبہ کے ایک حلقے میں اس تعلق سے دلچسپی موجود ہے۔ اس دلچسپی کو فزوں تر کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ دوسرے طلبہ کو بھی اس کی جانب راغب کیا جائے۔ اس مبارک مقصد کے تحت ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر کی جانب سے اس مسابقے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ مدارس کے ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ اس میں خصوصی دلچسپی لیں اور اپنے یہاں زیر تعلیم طلبہ کو اس میں شرکت کے لیے نہ صرف آمادہ کریں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کریں۔ امید ہے کہ مدارس کے ذمہ داران اور طلبہ کے والدین اس جانب خصوصی توجہ فرمائیں گے۔
اسی طرح اربابِ ثروت اور اہلِ خیر حضرات سے خصوصی گزارش ہے کہ وہ اس پروگرام کی کامیابی میں اپنا گراں قدر تعاون پیش فرمائیں اور اس خیر کے کام میں اپنا حصہ شامل کریں۔
