احسن حبیب
سدھارتھ نگر
آج پپرا رام لال ڈومریا گنج، ضلع سدھارتھ نگر کا وہ مدرسہ بھی زمیں بوس کر دیا گیا، جس کی دیواروں میں برسوں کی محنت، علم، عبادت اور دعائیں بسی ہوئی تھیں۔
یہ صرف اینٹ، پتھر اور چونے سے بنی ہوئی ایک عمارت نہیں تھی، بلکہ یہ ایک نسل کی علمی تربیت کا مرکز تھا۔
اس مدرسے کے ساتھ میرے والدِ محترم کی زندگی کے پندرہ قیمتی سال وابستہ ہیں، جہاں وہ صدر مدرس کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔
انہوں نے صرف یہاں کتابیں نہیں پڑھائیں، بلکہ بچوں کے دلوں میں علم کی محبت، دین کی عظمت اور اخلاق کی روشنی پیدا کرنے کی کوشش کی۔
آج بھی اس عمارت کے کسی کونے میں شاید میرے والد کے قدموں کی چاپ محسوس ہوتی ہوگی۔
وہ تختی، وہ دیواریں، وہ کمرہ، وہ درس گاہیں اور وہ محراب نما دروازہ—سب ان گزرے ہوئے دنوں کی گواہی دیتے تھے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ تحریر، جو میرے والدِ محترم کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے، آج اس اجڑی ہوئی عمارت کے ماضی کی ایک زندہ نشانی بن کر رہ گئی ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ آج عمارت مٹا دی گئی، مگر اس کے ساتھ جڑی یادیں مٹانے کی طاقت کسی کے پاس نہیں۔
سرکاری زمین پر قبضے کا فیصلہ اپنی جگہ، قانونی معاملات اپنی جگہ؛ مگر ایک ایسے ادارے کے خاتمے کا درد اپنی جگہ ہے جس سے لوگوں کی دینی اور تعلیمی یادیں وابستہ رہی ہوں۔
بلڈوزر نے دیواریں تو گرا دیں، مگر ان دیواروں کے سائے میں پڑھا ہوا سبق نہیں گرا سکتا۔
وہ دعائیں نہیں مٹائی جا سکتیں جو کبھی اس مدرسے کے صحن میں طلبہ نے کی ہوں گی۔
وہ علم نہیں مٹایا جا سکتا جو یہاں سے سینکڑوں بچوں کے سینوں میں منتقل ہوا ہوگا۔
اور وہ پندرہ سال تو کبھی نہیں مٹ سکتے جو میرے والد نے اس ادارے کی خدمت میں گزارے۔
میرے لیے اس مدرسے کا گرنا محض ایک عمارت کا گرنا نہیں، بلکہ میرے والد کی زندگی کے ایک روشن باب کا ملبے میں تبدیل ہو جانا ہے۔
آج جب میں اپنے والد کے ہاتھ کی لکھی ہوئی یہ تحریر دیکھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پتھر پر لکھی ہوئی سطریں مجھ سے کہہ رہی ہوں کہ عمارتیں فنا ہو جاتی ہیںمگر خدمت کی یادیں باقی رہتی ہیں۔
وقت گزر جائے گا، ملبہ بھی شاید ہٹا دیا جائے گا، اور اس جگہ نئی نشانیاں بھی بن جائیں گی؛ مگر ہمارے دلوں میں یہ مدرسہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔
کیونکہ کچھ جگہیں زمین پر نہیں، انسان کے دل میں آباد ہوتی ہیں۔
یہ مدرسہ بھی ہمارے لیے ایسی ہی ایک جگہ تھا۔
آج آنکھیں نم ہیں، دل بوجھل ہے اور یادیں بے چین ہیں۔
مگر تسلی یہ ہے کہ میرے والد نے اپنی زندگی کے پندرہ سال علمِ دین کی خدمت کے خاطر اس مدرسہ میں گزارے اور علم کی خدمت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
عمارت گر سکتی ہے، دروازہ بند ہو سکتا ہے، دیواریں ملبے میں بدل سکتی ہیں، مگر علم کی شمع جس دل میں روشن ہو جائے اسے کوئی بلڈوزر نہیں گرا سکتا۔
اللہ تعالیٰ میرے والدِ محترم کی ان خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، اور اس مدرسے سے وابستہ تمام اساتذہ، طلبہ اور اہلِ علاقہ کی محنتوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین
آج ایک عمارت گری ہے، مگر ہماری یادوں میں ایک مدرسہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔
اور میرے والد کے ہاتھ کی یہ تحریر اس بات کی گواہ رہے گی کہ اس جگہ کبھی علم کا چراغ روشن تھا۔
