جن سے اطفال ادب تھا پُر بہار و باوقار
ہاں وہی سرتاج بانو کر گئیں ہیں سوگوار
ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ایڈیٹر ماہنامہ اچھا ساتھی
سرکڑہ، بجنور، یوپی
بانو سرتاج قاضی کے انتقال کی خبر ملی تو محسوس ہوا کہ ہندوستان میں ادب و اخلاق کی دنیا سوگوار ہوگئی ہے۔ اردو ادب، خصوصاً ادبِ اطفال، ایک ایسی فعال، باصلاحیت اور مخلص ادیبہ سے محروم ہوگیا ہے جس نے اپنی زندگی کے کئی قیمتی عشرے قلم، کتاب، تعلیم اور نئی نسل کی تربیت کے لیے وقف کیے۔ ان کا انتقال صرف ایک ادیبہ کا انتقال نہیں، بلکہ ادب، اخلاق اور بچوں کی ذہنی و فکری تربیت کے ایک ایسے چراغ کا بجھ جانا ہے جس کی روشنی دور تک پھیلی ہوئی تھی۔
بانو سرتاج 17 جولائی 1945 کو پانڈھرکوڑ، ضلع ایوت محل، مہاراشٹر میں پیدا ہوئیں۔ ان کی زندگی کا ایک طویل عرصہ چندرپور، مہاراشٹر میں گزرا۔ یہ علاقہ اردو کے اعتبار سے کوئی بڑا ادبی مرکز نہیں تھا، لیکن بانو سرتاج نے اسی خطے سے اپنے قلمی سفر کا آغاز کیا اور برسوں یہیں سے اردو ادب کی دنیا میں اپنی آواز پہنچاتی رہیں۔ بعد میں وہ ایوت محل منتقل ہوگئیں اور 13 اگست 2026 کو وہیں اپنی زندگی کی آخری سانس لی۔
ان کا ادبی سفر بڑی تیزی سے شروع ہوا۔ ابھی وہ عنفوانِ شباب ہی میں تھیں کہ ملک کے مختلف ادبی رسائل میں ان کی تحریریں مسلسل شائع ہونے لگیں۔ ان کی فعالیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ بعض اوقات ایک ہی مہینے میں ملک کے طول و عرض سے شائع ہونے والے مختلف رسائل میں ان کے الگ الگ افسانے اور کہانیاں شائع ہوتی تھیں۔ اس دور میں جب رسائل ہی ادبی مقبولیت کا ایک بڑا ذریعہ تھے، بانو سرتاج بہت کم عمری میں اردو دنیا میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئیں۔ خاص طور پر خواتین کے حلقے میں ان کی تحریریں اس قدر مقبول ہوئیں کہ وہ ایک گھریلو نام بن گئیں۔
ان کے افسانوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ ان میں زندگی اپنی پوری سچائی کے ساتھ جلوہ گر ہوتی تھی۔ وہ جن مسائل کو اپنی کہانیوں کا موضوع بناتی تھیں، وہ اس زمانے کے مسلم معاشرے کی روزمرہ زندگی سے لیے گئے مسائل تھے۔ عورتوں کے دکھ، گھریلو زندگی کی الجھنیں، معاشرتی رویے اور انسانی جذبات ان کے افسانوں میں اس طرح آتے کہ پڑھنے والی خواتین کو محسوس ہوتا جیسے یہ کسی اور کی نہیں، خود ان کی داستان ہے۔ یہی قربت ان کی تحریروں کی مقبولیت کا راز تھی۔ وہ زندگی کو دور بیٹھ کر نہیں دیکھتی تھیں بلکہ اسے قریب سے محسوس کرتی تھیں اور پھر اپنے مخصوص انداز میں کاغذ پر منتقل کردیتی تھیں۔
تاہم بانو سرتاج کی سب سے نمایاں شناخت ادبِ اطفال کے حوالے سے قائم ہوئی۔ وہ درس و تدریس سے وابستہ رہیں اور بچوں کے ساتھ عملی زندگی میں طویل عرصے تک کام کیا۔ اسی معلمانہ تجربے نے انہیں بچوں کی نفسیات، ان کی دلچسپیوں، ان کی ذہنی استعداد اور ان کے جذبات کو سمجھنے میں غیر معمولی مدد دی۔ جب انہوں نے بچوں کے ادب کو اپنی خصوصی توجہ کا مرکز بنایا تو ان کی معلمانہ نظر اور ادیبانہ تخلیقی صلاحیت ایک دوسرے سے مل گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی کہانیاں محض نصیحتوں کا مجموعہ نہیں رہیں بلکہ بچوں کے لیے دلچسپ، بامعنی اور زندگی سے قریب تحریریں بن گئیں۔
وہ جانتی تھیں کہ بچے کو ادب دیتے وقت اس کی عمر اور ذہنی سطح کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بچے کو ایسی کہانی چاہیے جو اس کی دلچسپی قائم رکھے، ایسا کردار چاہیے جس سے وہ اپنا رشتہ محسوس کرسکے اور ایسا پیغام چاہیے جو اس کے ذہن پر بوجھ بنے بغیر اس کے دل میں اتر جائے۔ بانو سرتاج نے اسی شعور کے ساتھ بچوں کے لیے متعدد کہانیاں، ایک ناول، متعدد ڈرامے اور دوسری تحریریں تخلیق کیں۔ ان کی تقریباً پچاس سے زائد کتابیں بچوں کے ادب کے حوالے سے شائع ہوئیں۔ انہوں نے لوک کہانیوں کو بھی نئے انداز میں پیش کیا اور مراٹھی سے اردو میں تراجم کرکے دو زبانوں اور دو تہذیبی دنیاؤں کے درمیان ایک ادبی پل قائم کیا۔
بانو سرتاج کا قلم صرف ادبِ اطفال تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے افسانہ نگاری، مزاح نگاری، ڈرامہ نگاری اور ترجمہ نگاری سمیت نثر کی کئی اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کی تصانیف میں ’’دائروں کے قیدی‘‘، ’’اس کے لیے‘‘، ’’قومی یکجہتی اور اردو‘‘، ’’انوکھی بی بی کی سرائے‘‘، ’’یک بابی ڈرامے‘‘، ’’دنیا کارٹون اور کامک کیرکٹروں کی‘‘ اور لوک کہانیوں کے سلسلے کی متعدد کتابیں شامل ہیں۔ ’’ایک کی گیارہ کہانیاں‘‘، ’’دو کی بارہ کہانیاں‘‘، ’’تین کی تیرہ کہانیاں‘‘، ’’چار کی چودہ کہانیاں‘‘ اور ’’پانچ کی پندرہ کہانیاں‘‘ جیسی کتابیں ان کی تخلیقی وسعت اور بچوں کے لیے مسلسل لکھنے کے شوق کی غمازی کرتی ہیں۔
ان کی علمی زندگی بھی ان کی ادبی زندگی کی طرح بھرپور تھی۔ انہوں نے اردو، ہندی اور تاریخ میں ایم اے کیا، ایم ایڈ اور تعلیم (Education)میں پی ایچ ڈی کی۔ گاندھیائی فکر میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ حاصل کیا اور مراٹھی زبان کی بھی تعلیم حاصل کی۔ درس و تدریس کے میدان میں انہوں نے مختلف اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ شری سائی بابا گروپ آف ایجوکیشن، گڑچرولی اور چندرپور میں پروفیسر اور صدرِ شعبہ رہیں، جنتا کالج آف ایجوکیشن، چندرپور کی پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بلاس پور، چھتیس گڑھ میں لال بہادر شاستری کالج آف ایجوکیشن کی پرنسپل بھی رہیں۔ اس طرح ان کی شخصیت میں ادیبہ، معلمہ، محققہ اور سماجی کارکن سب ایک ساتھ جمع ہوگئے تھے۔
ان کی ادبی خدمات کو ملک کے مختلف ادبی اداروں نے تسلیم کیا۔ ’’دائروں کے قیدی‘‘ پر 1993 میں مہاراشٹر ریاستی اردو اکادمی کا انعام ملا، ’’اس کے لیے‘‘ پر 1996 میں بہار اردو اکادمی نے انہیں انعام سے نوازا۔ 1997 میں ہندی میں لکھی گئی کتاب ’’تیسرے راستے کے مسافر‘‘ پر اس وقت کے صدرِ جمہوریہ ہند ڈاکٹر شنکر دیال شرما کی جانب سے اعزاز حاصل ہوا۔ 2015 میں مرکزی ساہتیہ اکادمی نے ’’یک بابی ڈرامے‘‘ کے پہلے اور دوسرے حصے پر انہیں ادبِ اطفال ایوارڈ سے نوازا۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستی اردو اکادمیوں اور دیگر ادبی و سماجی اداروں کی جانب سے انہیں متعدد اعزازات حاصل ہوئے۔ یہ اعزازات ان کی ادبی خدمات کا اعتراف ہی نہیں بلکہ اس بات کی گواہی بھی ہیں کہ ان کا تخلیقی سفر اردو کی حدود سے آگے ہندی اور دوسری زبانوں کے ادبی حلقوں تک بھی پھیلا ہوا تھا۔
بانو سرتاج کی شخصیت کا ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے محض ان کی کتابوں اور اعزازات کے حوالے سے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ادب سے محبت کرنے والی اور دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنے والی ایک شفیق اور مخلص انسان بھی تھیں۔ جب ہم نے ’’اچھا ساتھی‘‘ شروع کیا تو بانو سرتاج صاحبہ نے نہ صرف ہماری حوصلہ افزائی کی بلکہ مستقل اس کے لیے اپنی دعائیں اور کہانیاں بھی بھیجتی رہیں۔ ایک نئے رسالے کے آغاز پر کسی بزرگ اور صاحبِ تجربہ ادیب کی طرف سے ملنے والی حوصلہ افزائی محض چند الفاظ نہیں ہوتی، وہ نئے سفر کے لیے ایک طرح کی قوت بن جاتی ہے۔ ان کی دعائیں، ان کی محبت اور ان کی بھیجی ہوئی کہانیاں ہمارے لیے ہمیشہ ایک قیمتی یاد رہیں گی۔
ان کے شوہر کا جب انتقال ہوا تو میں نے تعزیت کے لیے انہیں فون کیا۔ وہ کافی دیر تک اپنے دکھ اور غم مجھ سے بیان کرتی رہیں۔ اس گفتگو میں ایک ایسے دل کی کیفیت محسوس ہوتی تھی جو اپنے رفیقِ زندگی کے بچھڑنے سے گہرے صدمے میں تھا، لیکن اس کے باوجود ان کی گفتگو میں زندگی اور ادب سے وابستگی کی روشنی موجود تھی۔ اس کے بعد بھی وقتاً فوقتاً ان سے فون پر بات ہوتی رہی۔ ہماری ان گفتگوؤں میں ہمیشہ ان کی ادب سے گہری وابستگی، اردو زبان سے محبت اور اردو ادب کے فروغ کا جذبہ نمایاں رہتا تھا۔ وہ محض خود لکھنے والی ادیبہ نہیں تھیں بلکہ دوسروں کو لکھنے، پڑھنے اور آگے بڑھنے کی ترغیب دینے والی شخصیت بھی تھیں۔
اردو ادب کے فروغ کے سلسلے میں انہوں نے جو عملی کام کیا، وہ ہم سب کے لیے قابلِ ستائش بھی ہے اور قابلِ تقلید نمونہ بھی۔ خصوصاً خواتین کے حلقے میں اردو ادب کے لیے ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ایک ایسے زمانے میں اردو کے چراغ کو روشن رکھا جب اردو کے لیے ماحول ہر جگہ سازگار نہیں تھا۔ ان کا قلم چلتا رہا، رسائل کے صفحات آباد ہوتے رہے، بچوں کے لیے کتابیں آتی رہیں اور نئی نسل کے لیے ادب کا ایک وسیع ذخیرہ تیار ہوتا رہا۔ یہی کسی ادیب کی اصل کامیابی ہے کہ اس کے الفاظ اس کی زندگی کے بعد بھی دوسروں کی زندگی میں کچھ نہ کچھ روشنی پیدا کرتے رہیں۔
بانو سرتاج سماجی اور فلاحی کاموں میں بھی فعال تھیں۔ ان کی زندگی کا دائرہ صرف کتاب اور قلم تک محدود نہیں تھا۔ وہ معاشرے سے جڑی ہوئی شخصیت تھیں اور نئی نسل کی تعمیر و تربیت کو اپنی ذمہ داری سمجھتی تھیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی ادبی تخلیقات میں زندگی سے گہرا رشتہ محسوس ہوتا ہے۔ وہ بچوں کے لیے لکھتے ہوئے بھی دراصل ایک بہتر معاشرے کے لیے لکھ رہی تھیںاور خواتین کے مسائل کو موضوع بناتے ہوئے بھی انسانی زندگی کی حرمت اور اخلاقی اقدار کو سامنے رکھتی تھیں۔
بانو سرتاج کا انتقال ایسے وقت میں ہوا ہے جب ادبِ اطفال کو سنجیدہ اور تجربہ کار قلم کاروں کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ آج جب بچوں کے ہاتھ میں کتاب کے مقابلے میں اسکرین زیادہ تیزی سے جگہ بنا رہی ہے، ایسے دور میں ان لوگوں کی یاد اور بھی اہم ہوجاتی ہے جنہوں نے بچوں کے لیے معیاری ادب تخلیق کرنے میں اپنی زندگیاں صرف کردیں۔ بانو سرتاج ان ہی لوگوں میں شامل تھیں۔ ان کی تحریریں آنے والے وقت میں شاید نئے تناظر میں پڑھی جائیں گی، لیکن ان کی ضرورت ختم نہیں ہوگی، کیونکہ بچے ہمیشہ کہانی چاہیں گے، تخیل ہمیشہ زندہ رہے گا اور اچھی تربیت کی ضرورت کبھی ختم نہیں ہوگی۔
موت زندگی کی اٹل حقیقت ہے۔ قرآن کہتا ہے: کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ(ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔) بانو سرتاج بھی اپنے رب کے اس اٹل قانون کے سامنے سرِ تسلیم خم کرکے اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ لیکن ایک سچے ادیب کی موت اس کے جسم کی موت ہوتی ہے، اس کے لفظوں کی نہیں۔ وہ اپنی کتابوں، کہانیوں، کرداروں اور یادوں میں زندہ رہتا ہے۔ بانو سرتاج بھی اپنے الفاظ کے ذریعے زندہ رہیں گی۔ ان کی کتابیں نئی نسل کے ہاتھوں میں پہنچتی رہیں گی، ان کے کردار بچوں سے گفتگو کرتے رہیں گے اور ان کا نام اردو ادبِ اطفال کی تاریخ میں احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔
آج دنیائے ادبِ اطفال سوگوار ہے، مگر بانو سرتاج کے لفظ ابھی زندہ ہیں۔ جب تک کوئی بچہ ان کی لکھی ہوئی کہانی پڑھے گا، جب تک کوئی ماں یا معلمہ ان کی تحریر کے ذریعے کسی بچے کے ذہن میں کوئی خوب صورت خیال پیدا کرے گی، جب تک اردو کا کوئی قاری ان کی کتاب کا ورق پلٹے گا، بانو سرتاج کی ادبی زندگی کا چراغ روشن رہے گا۔ یہی ایک ادیب کے لیے سب سے بڑی زندگی اور سب سے خوب صورت یادگار ہے۔
اللہ تعالیٰ بانو سرتاج صاحبہ کی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کی مغفرت فرمائے،آمین۔
