محمد ہاشم القاسمی
(خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی بنگال)
مقدمہ و پس منظر: بعثت سے قبل کی دنیا اور جزیرۃ العرب
انسانی تاریخ کے اوراق جب بھی تاریکی، اخلاقی انحطاط اور سماجی ظلم و جبر کی داستانیں رقم کرتے ہیں، تو قبل از اسلام کی دنیا کا نقشہ سب سے زیادہ ہولناک نظر آتا ہے۔ رومی اور ساسانی سلطنتیں عیش کوشی، طبقاتی تقسیم اور جبر کی انتہا پر تھیں۔ خود جزیرۃ العرب ، جو کہ صحراؤں اور سنگلاخ پہاڑوں کا مسکن تھا ، جہالت کی ایسی گھٹا ٹوپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا کہ انسانیت اپنی اصل شناخت کھو چکی تھی۔
شرک و بت پرستی جزیرۂ عرب کے رگ و پے میں سرایت کر چکی تھی۔ بیت اللہ، جو توحید کا مرکز تھا، 360 بتوں کی آماجگاہ بن چکا تھا۔ انسانی جان کی کوئی وقعت نہ تھی؛ ادنیٰ ادنیٰ باتوں، گھوڑ دوڑ کے تنازعات یا پانی کے گھاٹ پر لڑائی کے نتیجے میں نسل در نسل چلنے والی خونریز جنگیں چھڑ جاتی تھیں جو سالہا سال جاری رہتیں۔ عورت کی حیثیت محض ایک متاعِ بے وقعت تھی، بیٹی کی پیدائش کو عار اور رسوائی سمجھ کر زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، اور معاشرہ طاقتور کے مفادات اور کمزور کے استحصال کے اصول پر قائم تھا۔
ایسے روح فرسا اور ظلمت کدہ ماحول میں، اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات پر احسانِ عظیم فرماتے ہوئے سید الانبیاء، خاتم النبیین، سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث فرمایا:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ (الانبیاء: 107)
ترجمہ: "اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔”
عہدِ طفولیت: یتیمی، پاکیزگی اور فطری عدل و انصاف
حضورِ اکرم ﷺ کا سلسلۂ نسب حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ قریش کے معزز ترین قبیلے بنو ہاشم میں آپ ﷺ کی ولادتِ باسعادت عام الفیل (571ء) کے ماہِ ربیع الاول میں ہوئی۔ آپ کی ولادت سے چند ماہ قبل ہی والدِ ماجد حضرت عبداللہ کا ملکِ شام سے واپسی پر مدینہ منورہ (یثرب) میں انتقال ہو چکا تھا۔ اس طرح آپ ﷺ نے یتیمی کی حالت میں دنیا میں قدم رکھا۔ قرآنِ مجید اس کیفیت کو یوں یاد دلاتا ہے:
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَآوَىٰ (الضحیٰ: 6)
ترجمہ: "کیا اس نے آپ کو یتیم نہیں پایا، پھر ٹھکانا دیا؟”
رضاعت کا دور اور عدلِ فطری کا ظہور
عرب کے شرفاء کے معمول کے مطابق نومولود بچوں کو دیہات کی خالص اور کھلی فضا میں پرورش اور فصیح عربی زبان سیکھنے کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ قبیلہ بنو سعد کی خوش بخت خاتون حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کو یہ سعادت نصیب ہوئی۔
اس عہدِ شیر خوارگی میں بھی آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے عدل و انصاف اور حقوق کی رعایت کا وہ نرالا پہلو ظاہر ہوا جو تاریخ میں بے مثال ہے۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ ہمیشہ دائیں طرف کا دودھ پیتے تھے، اور جب وہ دوسری جانب پیش کرتیں تو آپ ﷺ رخِ انور پھیر لیتے۔ یہ ننھا سا اشارہ اس بات کا اعلان تھا کہ دوسری جانب آپ کے رضاعی بھائی حضرت عبداللہ کا حق ہے اور آپ بچپن سے ہی کسی کا حق لینا گوارا نہیں فرماتے۔ بنو سعد کی وادی میں قیام کے دوران حضرت حلیمہ کے گھر اور قبیلے پر برکات و انوار کی بارش ہوتی رہی۔
پے در پے صدمات اور الٰہی تربیت
چار یا پانچ برس کی عمر میں آپ ﷺ اپنی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کے پاس واپس مکہ تشریف لائے۔ جب آپ کی عمر چھ برس ہوئی تو والدہ محترمہ آپ کو لے کر مدینہ اپنے ننیہال (بنو نجار) اور والد کی قبر کی زیارت کے لیے تشریف لے گئیں۔ مدینہ سے واپسی کے دوران مقامِ "ابواء” پر والدہ ماجدہ بیمار ہوئیں اور وہیں ان کا انتقال ہو گیا۔ آپ ﷺ نے اس معصوم عمر میں والدہ کی وفات کا صدمہ سہا اور حضرت امِ ایمن رضی اللہ عنہا کے ساتھ مکہ واپس آئے۔
اس کے بعد دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ کو اپنے سایۂ عاطفت میں لیا اور بڑی محبت و تکریم سے پالا، مگر دو برس بعد جب آپ کی عمر آٹھ سال ہوئی تو دادا کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ وفات سے قبل دادا نے کفالت کی ذمہ داری آپ کے حقیقی چچا ابو طالب کے سپرد کی، جنہوں نے مالی تنگی کے باوجود اپنے بھتیجے کی پرورش اپنی جان و اولاد سے بڑھ کر کی۔
عہدِ شباب: کسبِ حلال، دیانت اور "صادق و امین” کا کردار
آپ ﷺ کا لڑکپن اور جوانی پورے مکہ میں بے عیب اور بے داغ تھی۔ جس ماحول میں شراب، جوا، فحاشی اور بے حیائی عام تھی، وہاں آپ ﷺ کی ذات اخلاق، عفت اور پاکیزگی کا روشن مینار تھی۔
بکریاں چرانا اور کسبِ حلال کی ترغیب
رسول اللہ ﷺ نے لڑکپن میں مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کے عوض چرائیں۔ بعد کے دور میں آپ ﷺ نے خود ارشاد فرمایا کہ "کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں”۔ اس میں یہ حکمت پنہاں تھی کہ انبیائے کرام کو انسانیت کی رہنمائی اور امت کی نگہبانی سے قبل تحمل، بردباری، مشقت اور چرواہے کے اوصاف سکھائے جائیں۔ نیز اس سے یہ عظیم درس ملا کہ محنت اور کسبِ حلال میں کوئی عار نہیں۔
سفرِ شام اور علاماتِ نبوت
نو یا بارہ برس کی عمر میں آپ ﷺ اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارتی قافلے میں شام تشریف لے گئے۔ بصرہ کے مقام پر "بحیرا” نامی عیسائی راہب نے آپ ﷺ میں کتبِ سابقہ کی روشنی میں علاماتِ نبوت دیکھیں، مہرِ نبوت کا مشاہدہ کیا، اور ابو طالب کو نصیحت کی کہ وہ بچے کی خصوصی حفاظت کریں مبادا دشمن ان کو کوئی نقصان پہنچائیں۔
حلف الفضول میں شرکت
عرب معاشرے میں ظلم کے خلاف اور مظلوم کی داد رسی کے لیے ایک تاریخی معاہدہ عمل میں آیا جسے "حلف الفضول” کہا جاتا ہے۔ قریش کے بااثر افراد نے عہد کیا کہ مکہ میں کسی پر بھی ظلم نہیں ہونے دیا جائے گا، خواہ وہ مقامی ہو یا پردیسی۔ آپ ﷺ نے بھی اس معاہدے میں شرکت فرمائی۔ نبوت کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: "میں عبداللہ بن جدعان کے مکان پر ایسے معاہدے میں شریک تھا کہ اس کے بدلے اگر مجھے سرخ اونٹ بھی دیے جاتے تو میں نہ لیتا، اور اگر اسلام میں بھی مجھے اس کی طرف بلایا جائے تو میں ضرور لبیک کہوں گا۔”
تجارت، نکاحِ خدیجہؓ اور تعمیرِ کعبہ کی حکمت
جب آپ ﷺ جوان ہوئے تو آپ نے تجارت کا پیشہ اپنایا۔ آپ کی امانت، راست بازی اور حسنِ معاملہ کا شہرہ دور دور تک پھیل گیا۔ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا—جو مکہ کی معزز اور دولت مند خاتون تھیں—نے آپ ﷺ کی دیانت داری سن کر اپنا تجارتی مال شام لے جانے کی پیشکش کی۔ آپ ﷺ نے ان کے غلام میسرہ کے ہمراہ یہ تجارتی سفر فرمایا اور غیر معمولی منافع حاصل ہوا۔ میسرہ نے سفر سے واپسی پر آپ ﷺ کے اخلاق، دیانت اور امانت کی ایسی گواہی دی کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے از خود نکاح کا پیغام بھیجا۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر مبارک 25 برس اور سیدہ خدیجہ کی عمر 40 برس تھی۔
پینتیس برس کی عمر میں جب قریش نے کعبۃ اللہ کی از سر نو تعمیر کی، تو حجرِ اسود کو اس کے مقام پر نصب کرنے پر قبائل میں تلواریں کھنچ گئیں۔ خونریز جنگ ٹالنے کے لیے یہ طے پایا کہ کل صبح جو شخص سب سے پہلے حرم میں داخل ہوگا، اس کا فیصلہ تسلیم کیا جائے گا۔ اگلے روز سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو سب پکار اٹھے: "ہٰذا الامین، رضینا بہ” (یہ امین ہیں، ہم ان کے فیصلے پر راضی ہیں)۔ آپ ﷺ نے ایک چادر بچھائی، حجرِ اسود کو اپنے دستِ مبارک سے اس پر رکھا اور تمام قبائل کے سرداروں سے فرمایا کہ وہ چادر کے کونے پکڑ کر اٹھائیں۔ جب چادر حجرِ اسود کے مقام تک پہنچ گئی تو آپ ﷺ نے خود اپنے دستِ اقدس سے پتھر کو دیوار میں نصب فرما دیا۔ اس تدبیر نے عرب کو ایک ہولناک خانہ جنگی سے بچا لیا۔
بعثتِ نبوی اور مکی دور کی جدوجہد
عمرِ مبارک کے اڑتیسویں سال کے بعد آپ ﷺ کو تنہائی اور خلوت پسندی مرغوب ہوئی۔ آپ مکہ سے چند میل دور "غارِ حرا” میں کئی کئی دن کا توشہ لے کر تشریف لے جاتے اور وہاں کائنات کے خالق کی عبادت و تفکر میں مشغول رہتے۔ نبوت سے قبل آپ کو سچے خواب دکھائی دینے لگے جو صبح کی سفیدی کی طرح ہو بہو سچ ثابت ہوتے۔
نزولِ وحی اور پہلی صدا
جب عمر مبارک چالیس سال کو پہنچی، تو ماہِ رمضان کی ایک بابرکت رات جبرائیل امین علیہ السلام غارِ حرا میں تشریف لائے اور کہا: "اقْرَأْ” (پڑھیے!)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "مَا أَنَا بِقَارِئٍ” (میں پڑھا ہوا نہیں ہوں)۔ فرشتہ نے آپ کو تین مرتبہ اپنے سینے سے لگا کر بھینچا اور پھر قرآنی وحی کی پہلی آیات تلاوت کیں:
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ (العلق: 1-5)
ترجمہ: "پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھیے، اور آپ کا رب بڑا ہی کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ انسان کو وہ کچھ سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔”
یہ تاریخِ انسانی کا وہ موڑ تھا جس نے نوعِ بشر کی تقدیر بدل ڈالی۔ آپ ﷺ کپکپاتے ہوئے گھر تشریف لائے اور سیدہ خدیجہ سے فرمایا: "زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي” (مجھے چادر اڑھا دو)۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی ڈھارس بندھائی اور وہ تاریخی کلمات کہے جو آپ کے حسنِ اخلاق کی ابدی سند ہیں: "ہرگز نہیں! بخدا، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، بے سہاروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، ناداروں کی دستگیری کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہِ حق کی مصیبتوں میں مدد فرماتے ہیں۔”
خفیہ و اعلانیہ دعوت اور مصائب کا دور
ابتدائی خفیہ دور (3 سال): آپ ﷺ نے رازداری کے ساتھ دعوتِ حق کا آغاز فرمایا۔ خواتین میں سب سے پہلے ام المؤمنین سیدہ خدیجہ، مردوں میں حضرت ابوبکر صدیق، بچوں میں حضرت علی المرتضیٰ، اور آزاد کردہ غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم نے فوراً تصدیق کی اور دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔ حضرت ابوبکر صدیق کی تبلیغ سے قریش کے دیگر باوقار نوجوان جیسے عثمان بن عفان، زبیر بن العوام، طلحہ بن عبیداللہ، سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم ایمان لائے۔
دعوتِ ذوالعشیرہ اور کوہِ صفا پر اعلان: جب حکم نازل ہوا کہ "اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے” تو آپ ﷺ نے کوہِ صفا پر چڑھ کر پکارا: "یا صباحاہ!”۔ قریش جمع ہوئے تو آپ نے فرمایا: "اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنے والا ہے، تو کیا تم میری بات کا یقین کرو گے؟” سب نے یک زبان ہو کر کہا: "ہاں! ہم نے آپ کو ہمیشہ سچا اور امین پایا ہے۔” آپ ﷺ نے فرمایا: "تو پھر سن لو، میں تمہیں ایک سخت عذاب سے خبردار کرنے آیا ہوں اگر تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لائے۔” اس پر ابولہب نے گستاخی کی، جس پر سورۂ لہب نازل ہوئی۔
ظلم و ستم کا دور اور ہجرتِ حبشہ: دعوتِ عام کے بعد قریش نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے۔ حضرت بلال حبشی، حضرت خباب بن الارت، آلِ یاسر رضی اللہ عنہم کو تپتی ریت اور دہکتے کوئلوں پر لٹایا گیا۔ جب مظالم کی حد ہو گئی تو نبوت کے پانچویں سال آپ ﷺ کی اجازت سے مسلمانوں کے ایک قافلے نے حبشہ کی طرف ہجرت کی، جہاں کے عادل مسیحی بادشاہ نجاشی نے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا۔
شعبِ ابی طالب کا محاصرہ اور عام الحزن: نبوت کے ساتویں سال قریش نے بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کا مکمل سماجی اور معاشی بائیکاٹ کر دیا، جس کے نتیجے میں تین سال تک آپ ﷺ اور صحابہ کرام نے "شعبِ ابی طالب” کی گھاٹی میں درختوں کے پتے اور سوکھے چمڑے چبا کر دن گزارے۔ نبوت کے دسویں سال محاصرہ ختم ہوا تو چند ہی ماہ کے وقفے سے غمخوار چچا ابو طالب اور رفیقۂ حیات سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا، جس کی وجہ سے اس سال کو "عام الحزن” (غم کا سال) قرار دیا گیا۔
سفرِ طائف اور واقعہ معراج: طائف میں تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے تو اوباشوں نے پتھراؤ کر کے آپ ﷺ کے نعلین مبارک کو لہولہان کر دیا۔ پہاڑوں کے فرشتے نے حاضر ہو کر بستی کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دینے کی اجازت چاہی، لیکن رحمۃ للعالمین نے فرمایا: "نہیں، مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی پشتوں سے ایسی نسل پیدا کرے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی۔” اسی غم کے دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو "معراجِ آسمانی” کے شرف سے نوازا، جہاں پانچ نمازوں کا تحفہ عطا ہوا۔
بیعتِ عقبہ اور ہجرتِ مدینہ: نئی صبح کا آغاز
یثرب (مدینہ منورہ) کے اوس اور خزرج قبائل کے وفود نے حج کے موقع پر منیٰ کے مقام پر آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی، جو "بیعتِ عقبہ اولیٰ” اور "بیعتِ عقبہ ثانیہ” کہلاتی ہیں۔ انہوں نے آپ ﷺ کو مدینہ تشریف لانے کی دعوت دی اور ہر قسم کی جانثاری کا عہد کیا۔
جب قریش نے "دار الندوہ” میں آپ ﷺ کے قتل کا ناپاک منصوبہ بنایا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہجرت کا حکم عطا فرمایا۔ آپ ﷺ نے اپنے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سلایا تاکہ لوگوں کی امانتیں واپس کی جا سکیں، اور خود حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ غارِ ثور ہوتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے۔ 24 ستمبر 622ء کو جب آپ ﷺ مدینہ کی حدود میں داخل ہوئے تو اہلِ مدینہ نے دف بجا کر "طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ” کے ترانوں سے تاریخ کا سب سے پرجوش اور پروقار استقبال کیا۔ مدینہ میں قدم رکھتے ہی آپ ﷺ نے قبا اور مدینہ میں مساجد کی بنیاد رکھی، مہاجرین و انصار کے درمیان "مواخات” (بھائی چارہ) قائم کیا، اور "میثاقِ مدینہ” کے ذریعے دنیا کی پہلی تحریری جمہوری اور فلاحی ریاست کا باقاعدہ اعلان فرمایا۔ ***
