(فائل فوٹو: عالم بدیع اعظمی)

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ 
محترم عالم بدیع الزماں کا نوے  سال کی عمر میں 22/ جولائی 2026ء مطابق 7/ صفر المظفر 1448ھ کو شبِ جمعرات گیارہ بجے اعظم گڑھ یوپی میں واقع اپنے گھر میں انتقال ہو گیا، وہ عارضۂ قلب میں مبتلا تھے اور کوئی پندرہ روز قبل ڈاکٹروں کے جواب دینے کے بعد میدانتا ہاسپٹل لکھنؤ سے اپنے گھر منتقل ہوئے تھے، نمازِ جنازہ 23/ جولائی 2026ء کو شام 6/ بجے اعظم گڑھ میں ادا کی گئی اور مقامی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ عالم بدیع الزماں کی ولادت 16/ مارچ 1936ء کو بنداول ضلع اعظم گڑھ میں ہوئی، انہوں نے جارج اسلامک انٹر کالج گورکھپور سے انٹر میڈیٹ تک کی تعلیم مکمل کی، انہوں نے الیکٹریکل اور مکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ حاصل کیا، ان کی اہلیہ کا نام قدسیہ خانم تھا، جن سے اللہ تعالی نے عالم بدیع صاحب کو چھ نرینہ اولاد عطا کیں، ایک بیٹی بھی تھی جس کا انتقال پہلے ہی ہو چکا تھا۔
انہوں نے سیاست میں بہت دیر سے قدم رکھا اور جلد ہی ملائم سنگھ یادو کے منظورِ نظر بن گئے، سماج وادی پارٹی سے آخری دم تک جڑے رہے، 1996ء میں پہلی بار نظام آباد اعظم گڑھ کی سیٹ سے ایم ایل اے منتخب ہوئے، انہوں نے تیرھویں، چودھویں، سولہویں، سترہویں اور اٹھارہویں اسمبلی میں اس حلقہ کی نمائندگی کی، 2022ء کے انتخاب میں اپنی پیرانہ سالی کے باوجود انہوں نے بی جے پی کے امیدوار منوج کمار کو چونتیس (34) ہزار ووٹوں سے شکست فاش دی تھی۔
سیاسی میدانوں میں لوگوں کی بھیڑ ہے، آنا جانا لگا رہتا ہے، لیکن اس دور میں ایماندار، دیانت دار، باوقار سیاسی لوگوں کی کمی ہے، عالم بدیع صاحب کی شناخت اسی حوالہ سے تھی، وہ سادگی، تواضع اور انکساری کا مجسمہ تھے، پانچ بار ایم ایل اے رہے، لیکن سیاست کو دولت کمانے اور سماجی اسٹیٹس بڑھانے کا انہوں نے کبھی ذریعہ نہیں بنایا، وہ اسمبلی کسی کے اسکوٹر پر پیچھے بیٹھ کر چلے جاتے تھے اور ایسا کرتے ہوئے انہیں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا تھا، درویشی ان کے مزاج کا حصہ، عوامی خدمت اور ضرورت مندوں کے کام آنا ان کی زندگی کا نصب العین تھا، آزادی کے بعد کھڑی ہونے والی مسلم قیادت کے لیے وہ آئیڈیل اور نمونہ تھے۔
وہ جس علاقہ سے جیت کر آتے تھے، وہاں نوے فیصد غیر مسلم ووٹرس ہیں، لیکن نفرت کے اس ماحول میں بھی وہ جیت جاتے تھے، اس کا مطلب ہے کہ وہ غیر مسلموں میں بھی کافی مقبول تھے، کیونکہ وہ عوامی زندگی گذارتے تھے اور عوام کے بیچ رہتے تھے، روڈویز کی بسوں سے سفر کرتے تھے، دوسرے لیڈران کی طرح ہٹو، بچو کا ان کا مزاج نہیں تھا، وہ اپنے کپڑے خود صاف کرتے، کمروں میں جھاڑو تک خود ہی لگایا کرتے تھے، معمولی کپڑے پہنتے، ان کی کل کائنات جوان کی ذات کے لیے تھی، وہ دو چار جوڑے کم قیمت کے کپڑے، ہوائی چپل، سر پر گرم ٹوپی، سماعت کے لیے کان میں آلہ اور آٹھ سو روپے والا معمولی موبائل تھا، ان کا شمار یوپی اسمبلی کے غریب ترین ایم ایل اے میں ہوتا تھا، لیکن سیاسی لوگوں میں وہ بہت مقبول تھے، اس لیے جب انہوں نے اپنی زندگی کے نوے برس پورے کیے تو یوپی اسمبلی میں باضابطہ قرارداد کے ذریعہ ان کی سیاسی سماجی کا خدمات کا اعتراف کیا گیا اور اسے قابل تحسین قرار دیا گیا، کسی کی زندگی میں اسمبلی میں ایسی قرارداد کا پاس ہونا ایک تاریخی واقعہ تھا۔
میں عالم بدیع الزماں صاحب سے کبھی نہیں ملا اور نہ میں ان کو جانتا تھا، لیکن چند سال قبل جب میرا مضمون ’’یاتراؤں کی سیاست‘‘ انقلاب میں چھپا تو انہوں نے مجھے فون کیا اور جاننا چاہا کہ کیا آپ عملی سیاست میں ہیں، میں نے کہا، سیاست پڑھنے، دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں، ہر روز ہونے والے تماشوں پر دل کھول کر ہنستا ہوں اور عملی سیاست سے دور کی صاحب سلامت کو ترجیح دیتا ہوں، کئی بار چیئرمین شپ کی پیش کش کو ٹھکرا چکا ہوں، بہار مدرسہ بورڈ اور حج کمیٹی کی رکنیت کے علاوہ ہمیشہ سیاسی عہدے ومناصب سے گریز کرتا رہا ہوں، خوب ہنسے، مضمون کی تعریف کی اور کہا کہ آپ نے بالکل صحیح تجزیہ کیا ہے اور سیاسی یاتراؤں کے دروبست کو بڑے سلیقے سے نمایاں کیا ہے، وہ مختلف موضوعات پر ایک گھنٹہ تک بات کرتے رہے، اندازہ ہوا کہ اس دور میں بھی وہ مطالعہ کے شوقین ہیں اور مجھ جیسے چھوٹے لوگوں کی تحریریں بھی بالاستیعاب پڑھتے ہیں، گفتگو کا رخ مسلمانوں کی طرف ہوا تو انہوں نے مسلمانوں کو بھی موجودہ صورت حال کا ذمہ دار قرار دیا، پھر انہوں نے مسلم تحریکوں سے متعلق مسلم قائدین کی پوری تاریخ الٹ ڈالی، وہ ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی کے ساتھ بھی کام کر چکے تھے اور انہیں سب کچھ یاد تھا، نوے سال کے ارذل عمر میں پہنچ کر بھی ان کا حافظہ غضب کا تھا، ایسا مجھے محسوس ہوا_ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت، مسلم سیاست کو ان کا نعم البدل اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے