از حافظ عبدالسمیع یوسفی، ممبئی
موجودہ دور غیر متوقع فتنوں کی آماج گاہ بنا ہوا ہے۔ برائی اور بے حیائی اپنے عروج پر ہے، دین بیزاری کی لعنت ہر چہار جانب نظر آرہی ہے۔ دنیاوی ہنگاموں، پُرتعیش زندگی اور اس کی چکاچوند نے لوگوں کو ان کے اصل مقصد تخلیق سے بیگانہ کر دیا ہے۔ قافلۂ انسانیت گردشِ ایّام کے بے رحم پنجوں میں جکڑا ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ سوچ و فکر کا زاویہ محض دنیاوی جاہ و حشمت اور حصولِ مال تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔
ہر عاقل و بالغ کثرتِ مال کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دیتا ہے، دنیا کی رنگینیوں،دلفریبیوں کا اسیر ہو کر رہ گیا ہے۔ فتنوں کے چوپٹ دروازے کھلے ہیں اور اب یہ فتنے ہماری دہلیز تک آ پہنچے ہیں۔ بمشکل گنے چنے خوش نصیب ہیں جو فتنوں کی پہچان رکھتے ہوئے ان سے بچنے میں کامیاب ہیں۔ اس بچاؤ کا بنیادی سبب اپنے دین سے واقفیت، اس کے اصول و ضوابط سے شناسائی اور احکامات کی صحیح فہم ہے۔ قرآنِ مجید سے مضبوط تعلق ہی انسان کو راہِ مستقیم پر گامزن رکھتا ہے۔
قرآنِ مجید منبعِ خیر اور ہدایت کا چشمۂ صافی ہے، جو انسانیت کو کامیابی و کامرانی سے ہم کنار کرتا ہے۔ قرآنِ مجید سنگ دلوں میں موم کی سی نرمی پیدا کر دیتا ہے، بھٹکی ہوئی انسانیت کو شاہراہِ مستقیم پر گامزن کرتا ہے، اور روحوں کے بند دروازوں پر دستک دے کر انہیں وا کر دیتا ہے۔
اس کے بابرکت کلمات آنکھوں نم کر دیتے ہیں اور اس کی روح پرور تلاوت مردہ دلوں میں حیاتِ نو کی لہر دوڑا دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی ایک ایک آیت میں شعور کا نور ہے، جو جذبات کو مہمیز کرتی، انسان کو فکر و عمل کی نئی جہتوں سے آشنا کرتی اور زندگی کے حقیقی مقصد سے روشناس کراتی ہے۔
ہر مسلمان کو اس مقدس کتاب سے مضبوط تعلق قائم کرکے زندگی گزارنی چاہیے، کیونکہ اس کی تعلیمات ہی میں دنیا و آخرت کی حقیقی خوش حالی، کامیابی اور کامرانی کے راز مضمر ہیں۔
قرآن سے تعلق کو مضبوط بنانے، اس کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے اور اس کی محبت دلوں میں جگانے کے لیے ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر کے ذمہ داران نے باشندگانِ سدھارتھ نگر کے لیے اس عظیم الشان اور بابرکت مسابقۂ حفظِ قرآنِ کریم کے انعقاد کا بیڑا اٹھایا ہے۔
اہلِ مدارسِ ضلع سدھارتھ نگر! یہ مژدۂ جان فزا آپ کے لیے ہے۔
آئیے! اس عظیم الشان مسابقے کا حصہ بنیے۔ بسترِ غفلت سے اٹھئے اور خوب محنت و توجہ، دیدہ ریزی اور دماغ سوزی کے ساتھ تیاری میں لگ جائیے۔
اربابِ جمعیت آپ کے پُرتپاک استقبال کے لیے بڑے تزک و احتشام کے ساتھ یہ بابرکت مجلس سجا رہے ہیں۔ اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیے، اپنے ادارے، اپنے والدین اور خود اپنے لیے نیک نامی کا ذریعہ بنیے۔
میدان سج چکا ہے، آئیے! شرکت کیجیے اور بازی اپنے نام کرلیجیے۔
مسابقہ محض ایک ترغیبی فریب کا نام نہیں؛ یہ وہ عمل ہے جو ذہنوں کو صیقل کرتا ہے، انسان کے اندر بلند سے بلند مقام حاصل کرنے کی جستجو پیدا کرتا ہے اور بھیڑ میں اپنی صلاحیت منوانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
آئیے! اپنے آپ کو مقابلے میں نمایاں کرنے کا موقع حاصل کیجیے۔ اپنی صلاحیتوں کو آزمائیے، اپنی محنت کو میدان میں لائیے اور اپنے حفظِ قرآن کو مزید پختہ کیجیے۔ آپ کے لیے پُرکشش انعامات کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
تو پھر دیر کس بات کی؟ کتابِ الٰہی آپ کے جذب و شوق کا امتحان ہے، میدانِ مسابقہ آپ کا منتظر ہے اور کامیابی آپ کی محنت کی منتظر ہے۔
آئیے! عزم کیجیے، تیاری کیجیے اور اس عظیم الشان مسابقے میں شرکت کرکے اپنی صلاحیت کا لوہا منوائیے۔ مسابقے کی کامیابی آپ کی شرکت سے مشروط ہے۔
ہے صاحب ثروت حضرات سے مؤدبانہ اپیل ہے کہ اس عظیم دینی مشن کی کامیابی و کامرانی اور مسابقۂ حفظِ قرآنِ کریم کے تمام تر رونق سامانیوں اور حسنِ انتظام کے ساتھ شایانِ شان انعقاد کے لیے مالی تعاون فرما کر اس کارِ خیر میں اپنا حصہ شامل کریں اور اجرِ عظیم کے مستحق بنیں۔
