ڈاكٹر حسن مدنی ندوی
ریسرچ اسكالر اسلامك ینیورسٹی انڈونیشیا
کسی امت کی معراج اس کے تصورِ کمال میں پوشیدہ ہوتی ہے، اور مسلمانوں کا تصورِ کمال ایک ہی نقطہ پر مرتکز ہے: ذاتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ قرآن نے اس ارتکاز کو ایک لفظ میں سمو دیا "اسوہ حسنہ” سورۂ احزاب کی وہ آیت جو غزوۂ خندق کے آتشیں لمحات میں نازل ہوئی، جب مدینہ کے گرد خوف کا نرغہ تھا اور دل دہل رہے تھے، فرمایا گیا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ یہ محض ایک تعریفی فقرہ نہیں بلکہ ایک پوری تہذیبی جہت کا نقشِ اول ہے، مگر المیہ یہ ہوا کہ صدیوں کے سفر میں ہم نے اس نقشِ اول کو غلط پڑھ لیا، ہم نے اسوہ کو ظرف سمجھ لیا جبکہ وہ مظروف تھا، ہم نے قالب کو روح پر ترجیح دے دی اور یہی وہ گھاٹا ہے جس کا نوحہ ہر باشعور طالبِ علم کے دل میں کسک کی صورت موجود ہے۔
تاریخِ اسلام کا یہ کیسا المیہ ہے کہ جہاں ہمارے محترم سیرت نگاروں اور محدثین نے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظاہری اوصاف و شمائل پر بے پناہ زور دیا اور سیرتِ نبوی کا ایک عظیم اور ضخیم لٹریچر ہمارے سامنے لا کر رکھ دیا، وہاں مقام و قیام، لباس و طعام، نشست و برخاست اور دیگر تہذیبی و ثقافتی امور سے متعلق جو ہزاروں روایات ہم تک پہنچیں، ہم نے محض ان کی اندھی تقلید کو "اسوۂ حسنہ” سے تشبیہ دے ڈالی۔ یہ ایک ایسا خلافِ واقعہ اور سطحی طرزِ عمل تھا جس کی قیمت امتِ مسلمہ کو اس طرح چکانی پڑی کہ ہم نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ابدی اور آفاقی پیغام کو، جو وہ نوعِ انسانی کی فلاح کے لیے لائے تھے، یکسر درکنار کر دیا۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا مقصدِ عظیم جہاں اس جہانِ آب و گل میں ایک متوازن، منصفانہ اور مساوات پر مبنی معاشرے کا قیام تھا، وہیں ان کا اولین مقصد خدائے بزرگ و برتر کے آخری اور ابدی پیغام کو زمان و مکان کی قید سے آزاد کر کے انسانوں کے قلوب و اذہان تک پہنچانا تھا۔ مگر آج ہم منقولہ روایات کے انبار اور ظاہری اسلام کی جزئیات میں اس قدر کھو گئے ہیں کہ ہمیں ‘روحِ اسلام’ کا حقیقی مطلب بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ علامہ اقبال نے اسی کربِ مسلسل کو محسوس کرتے ہوئے کتنے سچے الفاظ میں نوحہ کیا تھا کہ "حقیقت خرافات میں کھو گئی، یہ امت روایات میں کھو گئی”۔
امرِ واقعہ یہ ہے کہ جدید دور کے ناقدین اور مستشرقین مثلاً ولیم میور، منٹگمری واٹ، اور گولڈزیہر وغیرہ بخوبی اس بابت متوجہ ہوئے اور انہوں نے ناقدانہ مگر احتسابانہ تحقیق کا کام کیا، جس میں ان مخصوص خامیوں اور تعصبات کے باوجود کہیں نہ کہیں ایسا تاریخی اور علم البشریاتی مواد كو بھی جمع کیا گیا جس میں قبل از اسلام کے جاہلی دور اور حجازی تہذیب کا ایک گہرا مقارنہ موجود ہے۔ اس عمیق مطالعے سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح آشکار ہوتی ہے کہ اسلام نے کسی مخصوص عرب تہذیب کی اندھی ترجمانی نہیں کی، بلکہ فطرتِ انسانی سے متعلق ہر مثبت شے کو، خواہ وہ کسی زمین، زمان، مکین یا مکان سے متعلق ہو، اخذ کیا اور "خذ ما صفا و دع ما کدر” (جو صاف اور عمدہ ہے اسے لے لو اور جو گدلا ہے اسے چھوڑ دو) کے زریں اصول پر عمل درآمد کیا۔ جو خرابیاں، برائیاں اور جاہلانہ عصبیتیں عربی معاشرے کی جڑوں میں پیوست تھیں، اسلام نے ان کو سرے سے نکارا اور ایک عالمگیر انسانی اخلاقیات کی بنیاد رکھی۔
یہیں سے وہ سوال جنم لیتا ہے جو اسلامی نقطہء نظر سے اصلاً سنت اور عادت کے درمیان امتیاز کا سوال ہے۔ اصولِ فقہ کی روایت میں امام شاطبی نے اپنی کتاب الموافقات میں یہ امتیاز واضح کیا کہ شریعت کے مقاصد اور وسائل الگ الگ چیزیں ہیں، مقاصد دائمی ہیں، وسائل زمان و مکان کے تابع۔ عدل، رحمت، علم، تقویٰ یہ مقاصد ہیں، جبکہ اونٹ پر سفر، کھجور کی کاشت کا طریقہ، یا مخصوص عمامہ، لنگی، الخ یہ وسائل ہیں جو اپنے دور کی مصلحت، عادت، تہذیب سے وابستہ تھے۔ خود حضور نے یہ امتیاز اس وقت کھول کر بیان فرما دیا جب مدینہ کے کھجور کاشتکاروں کو دیکھ کر ایک تجویز دی، اور جب نتیجہ خلافِ توقع نکلا تو ارشاد فرمایا: أنتم أعلم بأمور دنياكم تم اپنے دنیاوی امور کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔ یہ ایک ہی جملہ گویا پوری بحث کا فیصلہ کن نقطہ ہے: نبوت کا میدان ہدایت اور اخلاق ہے، زراعت و لباس و طرزِ رہائش کا میدان، انسانی تجربے اور عرفِ زمانہ ہے۔
مگر خدا جانے کہ عربیت کے غلبے اور امتدادِ ایام کے ساتھ حکمرانوں کی سیاسی حاکمیت کو دوام بخشنے کے لیے اتنا بے پناہ مواد کیسے اور کیوں مرتب کیا گیا، جس نے ظاہرِ اسلام کی ایک ایسی تصویر تراش کر پیش کی کہ محض اس ظاہری اور ثقافتی خول پر عمل کرنے، اور اسلامی شناخت کے نام پر درحقیقت ساتویں صدی کی "عربی شناخت” کو اپنانے ہی کو کل کا کل دین سمجھا جانے لگا۔ اموی دورِ ملوکیت سے جس سیاسی و مسلکی تعصب اور عرب بالادستی کی شروعات ہوئی، عباسی دور کی طویل حکمرانی نے بھی اسی تسلسل کو قائم رکھا، اور پھر اس میں عجمی و فارسی افکار، درباری تکلفات اور یونانی منطق کی ایسی آمیزش شامل کی گئی کہ اسلام کے نام پر ایک ایسا ظاہری اور رسوماتی دین وجود میں آیا جو حقیقی روحِ اسلام سے کوسوں دور تھا۔ یہ ایک ایسے رہبانی اور جامد دین کی تشکیل تھی جس کے خدوخال صحائفِ موسیٰ کی شروحات، احبارِ یہود کی موشگافیوں، تلمود کی فقہی جزیات اور عیسائی کیتھولک کلیسا کے جامد تصورات میں تو بخوبی دیکھنے کو ملتے ہیں، مگر عہدِ رسالت کی متحرک اور جاندار فضا میں ان کا کوئی وجود نہ تھا۔ حالانکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قلبِ اطہر سے نزول پذیر ہونے والا جو قرآنِ مجید ہم تک متواتر پہنچا، اور مستند احادیث و روایات کے جو موتی ہم تک آئے، ان میں اسلامی فکر، بلند پایہ اخلاقیات، عمرانیات اور معاشیات كا جو آفاقی درس ہمیں ملتا ہے، تاریخِ تمدنِ انسانی میں اس سے بہترین اور متوازن مثال کہیں بھی نہیں ملتی۔ مگر یہ کائناتی تصور کب وضع و قطع کی بحثوں، چند مخصوص اصطلاحات اور ظاہری رسوم میں بدل گیا، اور تاریخ میں اسلام کے نام پر کیا کیا اسرائیلیات، عجمی خرافات اور درباری مصلحتیں عرب تہذیب وروایتیں، رہبانی وروحانی لغزشیں شامل ہوئیں، اس پر جتنا اعتراض كیا جائے ناكافی ہے، اس کا احتساب کسی اور موڑ پر کیا جا ئے گا۔ فی الحال ہمارا موضوعِ سخن اور فکری محور یہ ہے کہ "اسوۂ حسنہ” پر گفتگو کرتے ہوئے قرآنِ حکیم دراصل نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے کیا مراد لیتا ہے؟ کیا وہ اتباعِ پیغامِ رسول مراد ہے؟ یا پھر عربوں کی وہ متعارف اور مقامی تہذیب جو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بشری تقاضوں اور جغرافیائی جبر کے تحت اپنائی تھی، وہ مراد ہے؟
اس عقدۂ لاینحل کو سلجھانے کے لیے ہمیں سب سے پہلے قرآنِ حکیم کے اس مقام پر غوروخوض کرنا ہوگا جہاں یہ اصطلاح وارد ہوئی ہے۔ سورۃ الاحزاب کی آیت ۲۱ میں اگر ہم اس کے شانِ نزول اور سیاق و سباق کا تاریخی اور تفسیری جائزہ لیں، تو علامہ طبری اپنی شہرۂ آفاق ‘جامع البیان عن تاويل آي القرآن’، علامہ ابن کثیر اپنی ‘تفسیر القرآن العظیم’، اور علامہ فخر الدین رازی ‘تفسیرِ کبیر’ میں یہ حقیقت واضح کرتے ہیں کہ یہ آیت غزوۂ خندق (احزاب) کے انتہائی جاں گسل اور اعصاب شکن ماحول میں نازل ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب عرب کے تمام قبائل، یہودِ مدینہ کے گٹھ جوڑ سے، مدینہ کی نوزائیدہ اسلامی ریاست کا نام و نشان مٹانے کے لیے امڈ آئے تھے۔ موسم کی شدت، فاقہ کشی، اور منافقین کی سازشوں نے ایک ایسا خوفناک محاصرہ قائم کر دیا تھا جس کے بارے میں خود قرآن کہتا ہے کہ "آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے”۔ عین اس عالمِ وحشت اور تاریکی میں، مسلمانوں کو بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے لیے رسولِ اللہ کی ذات میں "اسوۂ حسنہ” ہے۔ اس مقام پر اسوۂ حسنہ سے مراد حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس مبارک، ان کی دستار کی لمبائی، یا ان کی غذائی ترجیحات ہرگز نہ تھیں؛ بلکہ اسوۂ حسنہ سے مراد وہ آہنی عزم، وہ کوہِ گراں جیسی استقامت، وہ خدا پر کامل توکل، شجاعت، خندق کھودنے میں صحابہ کے شانہ بشانہ مزدوروں کی طرح مٹی اٹھانا، فاقہ کشی کے باوجود عدل و انصاف کا دامن نہ چھوڑنا، اور شدید ترین بحران میں بھی ایک عظیم قائد کی طرح اپنی قوم کے حوصلے بلند رکھنا تھا۔
یہ ہے وہ اسوۂ حسنہ جو زمان و مکان کی قیود سے ماورا ہے، جو ہر دور کے حکمران، سپہ سالار، اور عام انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اسے محض چند ظاہری سنتوں اور عادات کے محدود دائرے میں قید کر دینا دراصل قرآنی منشا کے خلاف ایک بہت بڑا علمی جرم ہے۔
تاریخِ كے اوراقِ پارینہ کی ورق گردانی کریں، تو یہ حقیقت الم نشرح ہو جاتی ہے کہ اسلام کی اصل کشش اس کے ظاہری رسوم میں نہیں بلکہ اس کے اساسی پیغامِ توحید عدل و حریت میں تھی۔
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ کیا ہے؟ اسوۂ حسنہ فتحِ مکہ کے دن اس عظیم الشان عفو و درگزر کا نام ہے جب آپ کے سامنے وہ سفاک دشمن سرنگوں کھڑے تھے جنہوں نے آپ کے رستے میں کانٹے بچھائے، آپ کو خوں آشام پتھروں سے مارا، اور آپ کے پیاروں کے جگر چبائے، مگر آپ کی زبانِ مبارک سے انتقام کی بجائے "لا تثريب عليكم اليوم” (آج تم پر کوئی ملامت نہیں) کا مژدۂ جاں فزا گونجا۔ اسوۂ حسنہ طائف کے بازاروں میں لہولہان ہونے کے باوجود قوم کے لیے دعائے ہدایت کرنے کا نام ہے۔ اسوۂ حسنہ یہ ہے کہ ریاست کا حاکمِ اعلیٰ ہونے کے باوجود آپ کے گھر میں مہینوں تک چولہا نہ جلا، اور آپ نے چٹائی پر سو کر اپنی پشتِ مبارک پر نشان ثبت کروا لیے، تاکہ امت کے حکمرانوں کو یہ درس مل سکے کہ غریب عوام کے اموال پر خلیفہ کی عیش و عشرت حرام ہے۔ اسوۂ حسنہ یہ ہے کہ دورانِ جنگ بھی عورتوں، بچوں، بوڑھوں، درختوں اور عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانے کی سختی سے ممانعت کر دی گئی۔ یہ وہ اسلوبِ زیست اور وہ اعلیٰ ترین اخلاقی معیارات ہیں جن کی نظیر نہ تو روم و فارس کی عظیم الشان سلطنتوں کی تاریخ میں ملتی ہے، اور نہ ہی جدید دور کے نام نہاد جمہوری دساتیر میں۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ ہر پیغمبر اپنی قوم کی زبان بولتا ہے اور اسی کے تہذیبی استعاروں میں کلام کرتا ہے تاکہ بات ان کے فہم میں آ سکے۔ "وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ” (ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی قوم کی زبان میں تاکہ وہ ان پر حق واضح کر سکے)۔ پس عربی زبان، عربی محاورہ، اور عربی تمدن وہ خول تھا جس کے اندر اسلام کا آفاقی اور ملکوتی پیغام رکھ کر نوعِ انسانی کے حوالے کیا گیا۔ بدقسمتی سے، ہم اس خول کے عاشق ہو گئے اور مغز کو فراموش کر بیٹھے۔ میر تقی میر کے بقول، "عشق ہماری جان عذاب میں لایا ہے، اس کا تو کچھ نام نہیں، اور ہمارا نام ہوا”۔ ہم نے عشقِ رسول کے دعوے تو بہت کیے، مگر اس عشق کا تقاضا جو کہ آپ کے آفاقی مشن کی تکمیل تھا، وہ ہم سے نہ ہو سکا۔ ہم نے مساجد کے میناروں کو تو فلک بوس کر دیا، قرآن کے نسخوں کو ریشمی غلافوں میں تو سجا دیا، اور آپ کی ظاہری سنتوں کے رٹے تو لگا لیے، مگر وہ معاشرہ جہاں جھوٹ نہ ہو، جہاں ناپ تول میں کمی نہ ہو، جہاں بیٹیوں کو رحمت سمجھا جائے، جہاں پڑوسی بھوکا نہ سوئے، اور جہاں حاکم عوام کے سامنے جوابدہ ہو، ایسا معاشرہ ہم صدیوں کی مسافت طے کرنے کے بعد بھی تعمیر نہ کر سکے۔
تاریخ کا بے رحم قلم جب اس زوال کا تجزیہ کرے گا تو اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ سب اس وقت شروع ہوا جب ملوکیت نے دین کی تشریح پر اجارہ داری قائم کی۔ جب شاہی محلات میں ریشم کے فرش بچھائے گئے اور کنیزوں و غلاموں کے جھرمٹ میں خلفاء نے اپنی خدائی کا دعویٰ کیا، تو انہیں ایک ایسے ‘اسوہ’ کی ضرورت تھی جو ان کے اقتدار کے لیے خطرہ نہ بنے۔ چنانچہ ایک سوچی سمجھی سازش یا کم از کم ایک تاریخی جبر کے تحت، دین کے مزاحمتی، انقلابی اور مساوات پر مبنی اسوۂ حسنہ کی بجائے، دین کے ظاہری اور رسوماتی ڈھانچے کو پروان چڑھایا گیا۔ فقہی موشگافیوں اور کلامی بحثوں کے ایسے طومار باندھے گئے کہ عام مسلمان طہارت اور نجاست کے مسائل ہی میں الجھ کر رہ گیا، جبکہ ظالم حکمرانوں کا احتساب، جو کہ اصل سنتِ ابراہیمی اور اسوۂ محمدی تھا، اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اسوۂ حسنہ کسی ایک خطے، کسی ایک قوم یا کسی ایک ثقافت کی نقالی کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ، پائندہ، اور متحرک حقیقت ہے۔ یہ خدا کے کائناتی اخلاق کا انسانی روپ ہے۔ آج اگر ہمیں دورِ حاضر کے پیچیدہ مسائل، فکری انتشار، اور روحانی زوال سے نکلنا ہے تو ہمیں اسوۂ حسنہ کے اس محدود اور متعصبانہ تصور سے باہر آنا ہوگا جو صدیوں کی تقلیدِ جامد نے ہمارے ذہنوں پر مسلط کر دیا ہے۔ ہمیں اسوۂ حسنہ کی روح کو دوبارہ دریافت کرنا ہوگا۔ وہ روح جو خرد افروزی، رواداری، رحم دلی، عدلِ اجتماعی اور انسانی وقار کی بحالی سے عبارت ہے۔ جب تک ہم ساتویں صدی کے عربی ظروف اور ان میں موجود ابدی خدائی پیغام كے درمیان فرق کرنا نہیں سیکھیں گے، ہم یونہی تاریخ کے چوراہے پر حیران و سرگرداں کھڑے رہیں گے، اور ہماری یہ فریاد بے سود ہوگی کہ "جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراق”۔ پس، اسوۂ حسنہ کی اصل روح اور پیامِ مصطفیٰ کی ابدیت اسی میں پنہاں ہے کہ ہم ظاہری خول کو توڑ کر اس مغز کو اپنائیں جو ہر زمانے اور ہر خطے کے انسان کے لیے وجہِ نجات اور باعثِ رحمت ہے۔
